ادارتی کالم

بجلی و توانائی کے بحرانوں کا ایک حل کالاباغ ڈیم کی تعمیر !…..

محمداعظم عظیم اعظم

پاکستان کی ترقی وخوشحالی کا ضامن کالاباغ ڈیم…..کالاباغ ڈیم کی تعمیر گھٹائی کا شکار کیوں ..؟
سیاستدانوں کی انا اور خود غرضی اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر……

آج میراملک سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی وجہ سے جن سنگین بحرانوں میں مبتلاہے ،اَب اِن سے نکلنااِس کے لئے دن بدن مشکل سے مشکل تر ہوتاجارہاہے،اِس کی کیاوجہ ہے …؟یہ بھی حکمرانِ وقت ،سیاستدان اور مدبرانِ قوم کو بھی معلوم ہے ،مگرافسوس ہے کہ آج مصالحت پسندی کے بھنور میں جکڑے افراد میں سے کوئی بھی ایساداناشخص موجود نہیں ہے جو ملک کو اِن بحرانوں سے نکالنے کے لئے ایک قدم بھی آگے بڑھ کر اِسے تھام لے اور کو ئی تجویز دے سکے کہ ملک اِن سنگین بحرانوں کے دلدل سے نکال جائے جن میں یہ دھنستاچلاجارہاہے۔
اگرچہ اِس سے انکار ممکن نہیں کہ میرے ملک کو اِن سنگین بحرانوں سے دوچار کرنے میں 63سالوں میں اِس پر حکمرانی کرنے والے اُن سول اور فوجی حاکم وقت اور اناپرست سیاستدانوں کابھی بڑاہاتھ ہے ،جن کی محدود سوچوں اور ناعاقبت اندیشیوںاو راِن کی ناقص حکمت عملیوںنے اِسے اِس نہج پر پہنچانے اور مسائل پیداکرنے میںاہم رول اداکیاہے، جواِس سمیت اور دوسرے ڈیموں کی تعمیر کے مخالف رہے اورجنہوں نے ملک میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کو اپنی سیاست کا اُڑھنابچھونا بنایا،اوراِنہوں نے ملکی ایوانوںاور عوامی جلسے جلوسوں میں بالخصوص کالاباغ ڈیم اور دوسرے ڈیموں کی تعمیر کی مخالفت کو کھلم کھلااپنی تقریروںاوراپنی شعلہ بیانی کے ذریعے اپنی سیاست چمکانے کا ایک بہترین ذریعہ قراد دے کر اپنے عوام کو بھی اِس کی مخالفت کے لئے بھڑکایا اور اِس طرح یہ سیاست دان اپنی آخری سانسوں تک کالاباغ کی تعمیرکی مخالفت پر قائم رہے ،اور اِس کی تعمیر کو اپنی انا کی زینت بنائے رہے آج جن میں سے کچھ تو اپنی زندگیوں سے گزرگئے اور کچھ باقی بچے ہیں وہ سیاست سے ریٹائرڈ ہوچکے ہیں ۔اور اَب اِن کا چھوڑاہوا یہی کام ملکی سیاست میں آنے والے اِن کے شاگرد اور اِن کے ہمدرد کررہے ہیں۔جس پر ہم جیسے پاکستانی کا دل ملول ہے اپنی اِسی کیفیت پر یہ شعر یا د آگیاکہ

سینہ غم حیات میں اپناہے داغ داغ روشن ہیں اُن کی راہوں میں ہرہر قدم چراغ
اک ہم کہ کالاباغ کے غم میں ملول ہیں اک وہ مسرتوں کے دکھاتے ہیں سبزباغ

یہاںیہ امر قرار واقع ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر ایک خوشحال اور مستحکم پاکستان کے لئے اتنی ہی لازم وملزوم ہے جتنی کسی انسان کو زندہ رہنے کے لئے ہوا،پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ،اسی طرح پاکستان کوبھی اپنے مستقبل کی راہ پر پہلاقدم رکھنے کے لئے کالاباغ ڈیم اور اِس جیسے سیکڑوں اور ہزاروں چھوٹے بڑے ڈیموںکی تعمیر ایک ایسازینہ ثابت ہوسکتی ہے جس کے ذریعے پاکستان خوشحالی کی منزلیں سر کرسکتاہے مگر اِس سے قطع نظر یہ کہ اِن ساری باتوں کے باوجود بھی اِس کی تعمیر کو دانستہ طور پر ایک متنازع مسلہ بناکر یوں پیش کردیاگیاہے کہ جیسے اگر یہ تعمیر ہوگیاتو خداجانے ملک پر کون سی آفت آپڑے گی۔
یہاںیہ امر اِنتہائی حوصلہ شکن ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 1985یا اِس سے کچھ سال پہلے یا بعد سے کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر ہمارے یہاں سیاسی ماحول میں شدت آئی، ایک طبقہ اِس کی تعمیر کے حق میں رہاتو دوسرے نے اِس کی مخالفت کو اپنی موت اور زندگی کے مسلے سے تعبیر کیااور آخرکاردوسرے طبقے کی مخالفت کا یہ نتیجہ سامنے آیاہے کہ ہمارا ملک توانائی اور پانی کے بحرانوں سے اِس قدر دوچار ہوگیاہے کہ اِن کے بغیر ملک کی ترقی یقینی طور پر رک کر رہ گئی ہے،جو کسی بھی لحاظ میں ملک اور قوم کے بہتر مفادات میں نہیں ہے۔
اگرچہ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ملک کو اُوپری سطور میں درج جن مسائل سے دانستہ طور پر دوچار کرانے کے لئے ہمارے یہاں کالاباغ ڈیم کی تعمیرکی مخالفت ایک مخصوص سوچ اور محض مفرضوں کی بنیاد پر دوصوبوں سے تعلق رکھنے والے ملک کے طاقتورترین طبقے نے کی ہے اِن کی جانب سے کالاباغ ڈیم سمیت اور دوسرے ڈیموں کی تعمیر کی مخالفت اب تک پوری شدت سے جاری ہے اِن میں سے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں، عوام اور وڈیروں کا خیال یہ ہے کہ اگر کالاباغ ڈیم کی تکمیل ہوگئی تو اِن کے صوبے کو ملنے والے پانی کی مقدار کم ہوجائی گی اور ان کے صوبے کے سمندر میں پانی کم آئے گا جس سے اِن کے کچھ علاقے جیسے ٹھٹھہ اور بدین سمیت اِن سے ملحقہ علاقے بری طرح سے متاثر ہوں گے اور جس کی وجہ سے یہاں کی زمینوں کا ایک بڑارقبہ بنجرہوجائے گا جو یہاں کے لوگ کسی بھی حال میں برداشت نہیں کریں گے اور صوبے میں ایک سیاسی بحرانی کیفیت جنم لے گی ،جو کسی بھی حکومت کے لئے ایک بڑاچیلنچ ہوگی اِس لئے اِس صُورت حال سے بچنے کے لئے کالاباغ ڈیم تعمیر نہ کیاجائے تو نہ صرف صوبے کے لئے ہی بہتر ہوگابلکہ ملکی سیاست

کے لحاظ سے بھی یہ کیفیت مناسب نہ ہوگی اور اِسی طرح دوسرے صوبے سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگوں کا یہ خودساختہ مفروضہ ہے کہ اگر کالاباغ ڈیم بن گیاتو اِن کے صوبے خیبر پختونخواہ کے کچھ علاقے خاص طور پر نوشہرہ اور دیگر علاقوں کو اِس میں آنے والے زائد پانی سے شدیدخطرات لاحق ہوں گے اور وہ کسی بھی وقت ڈوب سکتے ہیں ۔
اَب یہاں مجھے یہ کہنے دیجئے کہ کالاباغ ڈیم کے مخالفین اِس کی تعمیر پر اپنی بیجامخالفت کرکے جہاںاپنی تسکین کررہے ہیں تو وہیں یہ لوگ اِس طرح اپنے ازلی پڑوسی دشمن ملک بھارت کے اُن عزائم کی بھی تکمیل میںاپنی بھرپورمعاونت کررہے ہیں جو یہ نہیںچاہتاہے کہ پاکستان میں کالاباغ ڈیم جیساکوئی ایسامنصوبہ تیار ہوسکے جو پاکستان کی زرعی اور توانائی کے شعبوں میں اپنامتحرک فعال انجام دے سکے۔اور اِسے اِن دونوں شعبوں کے مسائل سے چھٹکارہ دلاکراِسے ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکے۔
جبکہ اَب یہ حقیقت بھی پوری طرح نہ صرف پاکستانی قوم پر بلکہ ساری دنیا پربھی عیاں ہوچکی ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق فیریبلیٹی کا کام مکمل ہوئے بھی ایک عشرہ گزرچکاہے مگر اِس کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہی دو صوبے ہیں جنہوں نے اپنے تئیں مفروضے قائم کرکے اِس کی مخالفت شروع کررکھی ہے جس کا نقصان پوری قوم کو توانائی اور خوراک کے بحرانوں کا سامنہ کرنے بھکتناپڑرہاہے۔

آج لاقانونیت ہے امن کا فقدان ہے آج ہر کالج ہماراجنگ کا میدان ہے
جس طرف بھی جایئے طوفان ہی طوفان ہے جس طرف کو دیکھئے بحران ہی بحران ہے

اگرچہ آج اِس بات کا انکار کالاباغ ڈیم کے مخالفین خودبھی نہ کرسکیں کے اِن کی اِس بیجامخالفت کی وجہ سے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا عمل رک کر رہ گیا ہے اور اِن کی بے مقصد مخالفت کی وجہ سے ہی آج میرے ملک کے لوگوں کو بجلی کی شدیدلوڈشیڈنگ کا جو عذاب سہناپڑرہاہے اِس کے بھی یہی عناصر ذمہ دار ہیں جنہوں نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو اپنی اپنی اناکا مسلہ بنارکھاہے۔اور اِس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگرآج ملک میں کالاباغ ڈیم جس کی اونچائی912فٹ ہے تعمیر ہوچکاہوتاتو ملک میں اعدادوشمار کے مطابق26.1ملین ایکٹرفٹ بارش کا وہ پانی جو ہم سمندر کی نظرکردیتے ہیں وہ سمندر میں جانے سے رہ جاتااور اِس طرح اِسے ہم جمع کرکے اِس سے وہ سارے کام لے سکتے تھے جس کی عدم دستیابی سے آج ہم طرح طرح کے بحرانوں جن میں پانی اور بجلی کا بحران سرفہرست ہے اِن سے دوچار ہیں۔
اوراِسی طرح کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ملک میں فوری طور پر حکومت سنجیدگی کا مظاہر ہ کرے تو کالاباغ ڈیم کی تعمیر اِس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے یہ اِس ڈیم کی افادیت سے اُن لوگوں کو آگاہ کرے جو اِس کی مخالفت کو اپنی اناکا مسلہ بناکر ملک کو مسائل سے دور کئے ہوئے ہیںاِن کا کہناہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے ہم ملک میں ہر سال ہونے والی بارش سے 6.1ملین ایکٹرپانی جمع کرکے اِس سے صوبہ سندہ کے 8لاکھ ایکٹر،صوبہ پنجاب کے6لاکھ 80ہزار ایکڑ،صوبہ بلوچستان کے5لاکھ 10ہزار ایکٹراور اِسی طرح صوبہ خیبر پختونخواہ کے 4لاکھ40ہزار ایکٹر کا زائد رقبہ زیرکاشت کرسکتے ہیں۔ جس سے ملک میں اجناس کی پیداوار میں جہاں اضافہ ہوگاتو وہیں ہم اُپنی ضروریات کو پوراکرنے کے علاوہ اِس سے عالمی منڈیوں تک رسائی دلاکر اربوں ڈالر زرِمبادلہ بھی کماسکتے ہیںاور اِس کے ساتھ ہی اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ڈیم ہمیں بنیادی طور پر30ملین ایکٹرفٹ پانی اور ملکی ضروریات کو پوراکرنے کے لئے فوری طورپر 36000میگاواٹ بجلی بڑی آسانی سے دے سکتاہے۔
مگریہاں ضرورت تو اِس امر کی ہے کہ سیاسی مصالحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ،ملک کی تمام بڑی چھوٹی سیاسی جماعتوں کو اِس نکتے پر باہم متحد اور منظم کرنے اورخالصتاََقومی اتفاق رائے کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اِن تمام خوبیوں کے حامل اِس کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لئے کو ن ہے ….؟جوآگے بڑھ کر ملک کو مسائل سے نجات دلانے میں اپنی خدمات انجام دے سکتاہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button