ادارتی کالم

ایک قوم،ایک ملت مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ایک قوم،ایک ملت مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اس جذبے کو سرد نہ ہونے دیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تحریر :۔ محمد احمد ترازی

ہاکی ہو یا کرکٹ،کھیل کے میدان میں اترنے والی ٹیموں میں سے کسی ایک کو ہار کا سامنا کرنا پڑتا ہے،مگر وہ کھیل جس میں مقابلہ کسی اور کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے روایتی حریف اور ازلی دشمن کے ساتھ ہو تو اُس کھیل میں ہار اور جیت کے معنی و مفہوم ہی بدل جاتے ہیں،فتح قومی عزت ووقار اور فخر و سربلندی تصور کی جاتی ہے، جبکہ شکست کو ذلت و ہزیمت اور ندامت و شرمندگی سے تعبیر کیا جاتاہے،یوں کھیل کھیل نہیں رہتا بلکہ ایک جنگ urdu-columnist کی سی صورت اختیار کرلیتا ہے،ایک ایسی نفسیاتی جنگ جس میں قوم کاہر فرداپنے تمام اختلافات پریشانیوں اور تکالیف کو بھلاکر باہم متحد و منظم ہوکر اپنی ٹیم سے صرف اور صرف جیت کی توقع رکھتا ہے،ہار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور اگر بدقسمتی سے ہار کا سامنا کرنا پڑے تویہ قوم کیلئے کسی سانحے سے کم نہیں ہوتا،دشمن ملک کی ٹیم سے اپنی شکست کا دکھ اور تکلیف اُسے گم سم اور بے چین کردیتا ہے ۔

آج پوری قوم سیمی فائنل میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد اسی کیفیت سے دوچار ہے،اپنے آپ کو تسلی دینا مشکل ہورہا ہے،ہمت،جوش اور جیت کے جذبوں سے عاری،ناقص اورمایوس کن کارکردگی کے باوجودہار کی زہر ناکی برداشت نہیں ہورہی، یقینآ شکست کا زخم بہت گہرا اور افسوسناک ہے،ہار کی تلخی اور جیت کی سرشاری سے محرومی کا دکھ دیر تک رہے گا،لیکن ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ موہالی میں اچھی کارکردگی کی حامل ٹیم جیت گئی اور ناقص کارکردگی دکھانے والے ٹیم شکست کھاگئی،کیونکہ ایک کو بہرحال جیتنا اور دوسرے کو ہارنا ہی تھا،یہی اصول ہے، یہی قاعدہ ہے ۔

مگر ایک بات توجہ طلب ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کا کرکٹ میچ ہو تو پوری قوم ایک ہو جاتی ہے،اُس کے سوچنے کا سمجھنے کا اور بولنے کا انداز ایک، ایک ہی جذبہ،ایک ہی لگن،ایک ہی خواہش،صرف جیت پر نظر،ساری قوم ٹی وی سکرینوں کے سامنے جم کر بیٹھ جاتی ہے،حال یہ ہوتا ہے کہ روزانہ کی دیہاڑی کرنے والا مزدور بھی اُس روز کام پر نہیں جاتا،مارکیٹیں ویران ہوجاتی ہیں تو سڑکیں سنسان، سارا کاروبار زندگی تھم ساجاتا ہے،ہرایک پر بس ایک ہی دھن اور ایک ہی لگن سوار ہوتی ہے کہ ٹیم جیت جائے،دراصل اِس سارے عمل کا محرک وہ دو قومی نظریہ ہے جوقیام پاکستان کا باعث ہے،جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایسے ہر معرکے کے بعد مزید گہرا اور مضبوط ہوجاتا ہے،یہی وہ جذبہ ہے جو ہمیں دشمن سے ہار پر شرمندگی اور ذلت کا احساس دلاتا ہے اور اسی جذبے کے باعث ہم بھارت سے شکست کو برداشت نہیں کرپاتے ۔

یہی وہ جذبہ تھا جس نے سیمی فائنل میچ کے دوران پوری قوم کوایک لڑی میں پرودیا، پورے ملک کی فضاءپاکستان زندہ بادکے نعروں سے گونجتی رہی،مساجد کامیابی کی دعاؤں سے معمور رہی،کئی علاقوں میں پاکستان ٹیم کی کامیابی کےلئے قران خوانی کا اہتمام کیا گیا،گھروں میں خواتین قومی ٹیم کی فتح کےلئے دعائیں کر تی رہیں،جوں جوں میچ کا وقت قریب آتا گیا سڑکیں ویران،مارکیٹیں خالی اور بازار بے رونق ہوتے گئے، کاروباری مراکز میں صبح سے ہی چھٹی کا سماں رہا،بازاروں میں گاہک نہ ہونے کے برابر تھے جبکہ دکاندار دوکانوں میں ٹی وی لگا کر میچ دیکھنے میں مگن رہے،جگہ جگہ بڑی بڑی سکرینیں لگا کر میچ دکھانے کا اہتمام کیا گیا،میچ دیکھنے والوں کی تواضح طرح طرح کے کھانوں مشروبات اورچائے سے کی گئی اور اس دوران عوام کاجذبہ حب وطنی پورے عروج پر رہا،نوجوان موٹرسائیکل پر سوار ہوکر اور ہاتھوں میں قومی پرچم تھامے نعرے لگاتے سڑکوں گلیوں میں گھومتے رہے جبکہ لوگوں کی ایک بڑی تعدادنے اپنے جسموں کے مختلف حصوں پر قومی پرچم بنوائے،پوری قوم میچ کے دوران ہر بال پر اپنی ٹیم کو داد دیتی رہی ۔

جب انڈیا کا کوئی کھلاڑی آوٹ ہوجاتا تو لوگ پاکستان کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوائی فائرنگ کرتے،میچ کے دوران ہر پاکستانی کے لب پر یہی دعا تھی کہ پاک بھارت کرکٹ جنگ میں پاکستان کی ٹیم کامیاب ہو جائے،ملک کی عوام میں پاک بھارت جنگ جیسا جذبہ تھا،جنگی اور قومی ترانوں سے وطن عزیز کا چپہ چپہ گونج رہا تھا،نوجوان اپنا قومی پرچم اٹھائے اپنے ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے رہے،ورلڈکپ کے موقع پراس قومی جذبے کودیکھ کرلگ رہاتھاکہ جیسے آج یہ کسی سیاسی سماجی اورمذہبی جماعتوںکے فردنہیں ہیں،نہ ہی اِن کا تعلق سندھ،پنجاب،بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے مختلف رنگ و نسل اور علاقوں سے ہے،بلکہ یہ سب پاکستانی ہیں جو ایک قوم ایک ایسی ملت کے فرد ہیں جو اپنے ملک و قوم سے محبت کرتے ہیں اور اُن کے دل صرف اور صرف پاکستان کیلئے دھڑکتے ہیں ۔

لیکن پاکستان کی ہار کے ساتھ ہی یہ قومی تفاخر کا احساس بخار کی طرح اتر جاتا ہے  وہ جذبہ جنوں جو انہیں تمام اختلافات بھلاکر باہم متحد و منظم کرتا ہے غائب ہوجاتا ہے، قوم بکھر کر ایک ایسے منتشر ریوڑ میں تبدیل ہوجاتی ہے،جس کی کوئی منزل نہیں، جسے وقت کے تھپڑے جہاں چاہیں ہانک دیں،افسوس کہ یہ جذبہ ُاس وقت ناپید ہوجاتا ہے جب ملک کو استعمار کے چنگل سے نجات دلانے اور عزت و خودداری کے ساتھ جینے کی بات کی جاتی ہے،شایدپوری دنیا میں ہم وہ واحد قوم ہیں جو کرکٹ کےلئے ایک ہو جاتے ہیں،لیکن اسلام اورپاکستان کےلئے ایک نہیں ہوتے ۔

افسوس کہ یہ جذبہ ہمیں اُس وقت متحد نہیں کرتا جب کافرہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ہمارے اسلام اور ہمارے قرآن پر حر ف زنی کرتے ہیں،صد افسوس کہ یہ جذبہ ہمیں اِن اہم معاملات پر اِس طرح متحد نہیں کرتا جس طرح ہم کرکٹ پر متحد ہو جاتے ہیں،بردارن ملت ذرا سوچئے آخر کیا وجہ ہے وہ کیا عوامل ہیں جس کی وجہ سے آج ہم ذلیل و رسوا ہورہے ہیں،کیوں ہم اصل معاملات سے صرف نظر کئے ہوئے ہیں،آج پاکستان کی سا لمیت اورخودمختاری داؤ پر لگی ہوئی ہے حکمرانوں نے ہماری قومی غیرت و حمیت کا جنازہ نکال دیا ہے،یہ جذبہ اُس وقت کہاں چلاجاتاہے جب اغیار ہماری توہین وتذلیل کرتے ہیں،کیوں ہماری غیرت نہیں جاگتی،کیوں ہمیں احساس نہیں ہوتا ۔

آج حکمرانوں نے جمہوریت کے نام پر ہماری مٹی پلید کرکے رکھ دی گئی ہے مگر ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں،سوال یہ ہے کہ آخر ہم کس قسم کی قوم ہیں جسے سوائے کرکٹ کے اور کوئی بخار نہیں چڑھتا،خدارا اپنی قومی ذمہ داریوں کا احساس کیجئے،کرکٹ ضرور کھیلئے،میچ بھی دیکھئے،جوشیلے نعرے بھی لگائے،لیکن اِس جذبے کو کبھی سرد نہ ہونے دیجئے جس کی وجہ سے ہم ایک قوم ایک ملت کے فرد ہیں،جس نے ہمیں مختلف رنگ و نسل،زبان و علاقے کا ہونے کے باوجود ایک لڑی میں پرویا ہوا ہے،یاد رکھیئے کہ یہی جذبہ ہماری اصل اساس،ہماری بنیاد اور ہماری بقاءکا ضامن ہے،آج اگر ہم اِس جذبے کو اپنے قومی کردار کا حصہ بنا لیں اور اسے سیاست، معیشت اور معاشرت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں بروئے کار لانے کا فیصلہ کرلیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اغیار کی غلامی کی زنجیریں توڑ کر دنیا میں ایک عزت دار باوقار اور خودمختار قوم کا مقام حاصل نہ کرلیں ۔

٭٭٭٭٭

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button