ادارتی کالم

ایران ۔ایٹمی پلانٹ اور وائرس

عبدالجلیل منشی ۔ کویت

میڈیکل سائنس کے ارتقاءکے ساتھ ساتھ بایولوجیکل لیبارٹریوں نے بھی خوب ترقی کی ہے اور اسی کے باعث ایسے نت نئے وائرس، جراثیم اور بگ سامنے آرہے ہیں جو انسانی جسم میں مختلف بیماریوں کو پیدا کرنےکا سبب بن رہے ہیںاسی ترقی کے باعث آج کے انسان کی وائرس اور بگز جیسی اصطلاحات سے آشنائی ہوئی جس سے پرانے دور کا انسان نابلد تھا اب سے کچھ عرصے پہلے تک یہ طبی اصطلاحات کے طور پر جانی جاتی تھیں مگر کمپیوٹر اور آئی ٹی ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر وائرس اور بگز بھی انسانی شناسائی کا سبب بنے اور ہم نے یہ بھی جانا کہ جس طرح طبی وائرس اور بگز انسانی جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں اسی طرح کمپیوٹر وائرس اور بگز کمپیوٹر کے پروگراموں پر کاری ضرب لگا کر انہیں ناکارہ بنادیتے ہیں
کہا جاتا ہے کہ کمپیوٹر وائرس کی ابتداءکمپیوٹر پروگرام بنانے والی کمپنیوں کے خفیہ پروگرام کا ایک حصہ تھی جس کو پھیلا کر پھر اینٹی وائرس پروگرام تیار کرکے ان سے کافی سارا پیسہ کمایا گیامگر یہ منفی ٹکنالوجی آہستہ آہستہ ترقی کرکے ایک خوفناک ہتھیار کا روپ دھار گئی ہے جسے نہ صرف مجرمانہ ذہن رکھنے والے افراد اپنے حریفوں کو زیر کرنے کے لئے استعمال کرنے لگے ہیں بلکہ یہ ٹکنالوجی اب حکومتوں کی سطح پر بھی استعمال ہونے لگی ہے اور حکومتیں اپنے دشمنوں سے میدان جنگ میں نبردآزماہونے کی بجائے میدان کارزار سے ہزاروں میل دور ایک میز کے گرد بیٹھ کر اپنے دشمن کی دفاعی، جوہری اور اقتصادی تنصیبات کو باسانی نشانہ بناسکتی ہیں کیونکہ یہ زندگی کے تمام شعبے اب کمپیوٹر اور سپر کمپیوٹر کے زیر اثر کام کرتے ہیں
ایران بھی آج کل ایسے ہی ان دیکھے دشمن کے حملے کا شکار ہے جس نے اسکے جوہری کمپیوٹر پر حملہ کر دیا ہےاس بات کا انکشاف گزشتہ ستمبر میں ہوا تھا کہ ایران اسٹکسنٹ نامی ایک ایسے انتہائی طاقتور کمپیوٹر وائرس کے خلاف نبردآزما ہے جوسینیٹری فیوجز، جو کہ نیوکلیئر فیول کی پیداوارمیں استعمال ہونے والی ایک مشین ہے اسکے نظام میں سرائیت کرکے اسے بیکار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور جو صنعتی تنصیبات بشمول پاور پلانٹس کے کنٹرول سسٹم پر قابض ہوسکتا ہے
ایک سینئر ایرانی فوجی افسر جو اس کمپیوٹر وائرس کے سلسلے میں تفتیش کررہے ہیں جس نے ایران کی جوہری اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنا یا ہوا ہے انہوں نے اس خدشے کا اظہا ر کیا ہے کہ اسٹکسنٹ کے سبب بڑے پیمانے پر حاثات رونما ہو سکتے ہیں جسکے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیںتلف ہوسکتی ہیں
ایران کی تخریب کاری سے روک تھام کے فوجی یونٹ کے سربراہ غلام رضا جلالی نے ہفتے کے روز جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں اس بات کاانکشا ف کیا ہے کہ ایرانی ماہرین اس بات کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں کہ اسٹکسنٹ وائرس کے حملے کے پیچھے امریکی اور اسرائیلی
سازش کام کررہی ہے انہوں نے کہا کہ ایرانی ماہرین جو اس وائرس کے خلاف نبردآزما ہیں انکی کاوشوںکے نتیجے میں تباکن حادثات اور بے شمار انسانی جانوں کے ضیاع سے بچاو ممکن ہوسکا ہے جو اس وائرس کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوسکتے تھے
امریکا اور اسرائیل کا اس ساز ش میں ملوث ہونا انکی ایران کے ا س ایٹمی پروگرام پر شب خون مارنے کے خفیہ منصوبوں کی عکاسی کرتاہے جس کے بارے میں مغربی ممالک بشمول امریکا اور اسرائیل اس خدشے کا شکار ہیں کہ ایران اس پروگرام کے زریعے جوہری ہتھیار تیار کررہا ہے
اس سے پیشتر ایران اس بات کااعتراف کر چکا ہے کہ اس وائرس نے پہلے پہل اسکے اس پہلے جوہر ی پلانٹ کے کارکنان کے لیپ ٹاپ کو نشانہ بنایا تھا جسکا باقاعدہ آغاز کرنے میں متعدد بار تاخیر واقع ہوچکی ہےیہ خیال بھی کیا جارہا ہے کہ اس وائرس کے حملے کے نتیجے میں گزشتہ سال ایران کے یورینیم کی افزودگی کا منصوبہ بھی تعطل کا شکار ہوگیا تھا
حالیہ مہینوں میں ایرانی میڈیا نے صنعتی تنصیبات پراور خصوصا تیل کی تنصیبات پر ہونے والے درجنوں دھماکوں کی خبریں نشر کی تھیںجس میں دس افراد ہلاک ہوئے تھے مگر سرکاری سطح پر ان دھماکوں کی کوئی وضاحت سامنے نہیںآئی تھی
ایرانی کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے جلالی کاحوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ دشمنوں نے سائبرحملوں کے زریعے ملک کے صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر صنعتی پیداوارکو متاثر کرنے اور ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی جسکا اگر بروقت تدارک نہ کیا جاتا توایران کوایک بڑے مالی اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا
جلالی نے ارنا کو دئے گئے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی ماہرین نے ا اسٹکسنٹ وائرس کا جو کھوج لگایا ہے اسکے سرے امریکی ریاست ٹیکساس اور اسرائیل سے ملتے ہیں اس سلسلے میں مغربی ماہرین کی یہ رائے ہے کہ ماسوائے معدودے چندانتہائی ترقی یافتہ ممالک کے کوئی اور ملک اسٹکسنٹ وائرس تیار نہیںکرسکتا جبکہ کچھ غیر ملکی ماہرین نے اسٹکسنٹ وائرس کو گائیڈڈ سائیبر میزائل کا نام دیا ہے جو ایران کے جوہری پروگرام کو سبوتاژ کرنے کےلئے تیارکیا گیا ہے
جلالی نے جرمن انجینئرنگ کمپنی سیمنز کو بھی اس ضمن میں مورد الزام ٹھرایا ہے جس کی تیار کردہ مشینری اور کمپیوٹر سوفٹ وئیربوشہر کے جوہری پاور پلانٹ میں استعمال ہورہے ہیں اور جہاں تکنیکی مسائل کے باعث اس پاور پلانٹ کو باقاعدگی سے شروع نہیں کیا جاسکابوشہر پاور پلانٹ میں پیچیدہ مشینری کو آپریٹ کرنے کے لئے سیمنز کا تیار کردہ کنٹرول سسٹم جو کہ سوپروائزری کنٹرول اینڈ ڈاٹااکویزیشن (اسکاڈا) کے نام سے موسوم ہے وائرس کے حملے کا شکار ہوا ہے
جلالی نے سیمنز کے ارباب اقتدار سے یہ سوال کیا ہے کہ سیمینز ہمیں اس بات کا جواب دے کہ کیوں اور کیسے ہمارے دشمنوں کو اسکاڈا سوفٹ ویئر کا کوڈفراہم کیا گیا جس نے ہمارے خلاف سائبر حملے کی راہ ہموار کی
ایران نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ اسٹکسنٹ وائرس نے مرکزی ایران میں واقع ناتانز میں قائم اسکی اہم یورینیم افزودگی کی تنصیب پر محدود تعداد میں سینیٹری فیوجزکو متاثر کیا ہے مگراس سے پہلے کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو شدید نقصان پہنچاتا اسکے سائنسدانوںنے بروقت اس وائرس کا سراغ لگا کر اسے بے اثر کردیا ہے
واضح رہے کہ ناتاز کا یورینیم افزودہ کرنے کا مرکزان اقوام کے لئے سخت تشویش کا باعث بنا ہوا ہے جواس بات پر یقین رکھتی ہیںکہ ایران یورینیم ایٹم بم بنانے کے لئے افزودہ کر رہا ہے کیوں کہ اس ٹکنالوجی سے یا تو پاور پلانٹ کے لئے ایندھن تیار کیا جاسکتا ہے یا پھر جوہری ہتھیار جپکہ ایران مغرب کی چہخ وپکار کے جواب میںمسلسل اس بات پر مصر ہے کہ اسکی یہ صلاحیت صرف پر امن مقاصد کے لئے استعمال ہورہی ہے
ایران اس بات کی تصدیق کر چکا ہے کہ اسٹکسنٹ وائرس بوشہر پاور پلانٹ میں کام کرنے والے ماہرین کے لیپ ٹاپ میں پایا گیا تھامگر اس نے پلانٹ کے کنٹرول سسٹم کو متاثر نہیں کیاتھاجبکہ مغربی انٹیلی جنس زریعوں کا خیا ل ہے کہ وائرس نے پلانٹ کے مرکزی نظام کو متاثر کرلیا تھا
ناٹو میں روس کے سفیر نے گزشتہ جنوری میں کہا تھا کہ وائرس نے روس کے تعاون سے تیار کردہ ایرن کے شہر بوشہر کے جوہری پاور پلانٹ کے مرکزی کمپیوٹر پر حملہ کر دیا ہے جسکے باعث اس پلانٹ میں۶۸۹۱ میںیوکرائن کے چرنوبائل نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ہونے والی تباہ کاری کی سطح کے جوہری حادثے کے خطرات بڑھ گئے ہیں
مغربی دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکا ن ہے کہ اسٹکسنٹ وائرس کاممکنہ ھدف ایران کا مرکزی یورینیم افزودہ کرنے کا مرکز ہے جہاںخالص یورینیم افزودہ کی جاتی ہے جو جوہری پاور پلانٹ میں بطور ایندھن استعمال ہوتی ہے یا بصورت دیگر اس سے جوہری ہتھیار وں کی تیاری کا کام لیا جاسکتاہے
ایک امریکی تھنک ٹینک، انسٹیٹیوٹ فار سائنس اینڈانٹرنیشنل سیکیوریٹی ،کا کہنا ہے کہ ۹۰۰۲ کے اواخر میں یا ۰۱۰۲ کی ابتداءمیںایران کے ناتاز یورینیم افزودگی کے مرکزمیں استعمال ہونے والے ۰۰۰۹ سینیٹری فیوجز میں سے کم از کم ۰۰۰۱ سینیٹری فیوجز وائرس کے حملے کا شکار ہوئے تھے اور یہ تعداد ایسی نہیں تھی جسکے باعث یورینیم کی افزودگی متاثر ہوتی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button