ادارتی کالم

اگلے 24، 48 گھنٹے اہم

سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد کہ دوبارہ ملازمت میں رکھے جانے والے ‘ مختلف عہدوں پر توسیع دیئے جانے والے اور کنٹریکٹ پر دوبارہ رکھے جانے والے…. کیا ممکن ہے؟

قارئین محترم! میرے نزدیک تو سب سے اہم بات سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ہے کہ جن ریٹائرڈ لوگوں کو کسی بھی عہدے پر REEMPLOYE کیا گیا ہے …. انہیں فارغ کیا جائے ، پنجاب حکومت نے ایسے آٹھ افسروں سے استعفے لے لئے ہیں…. مرکز میں کئی لوگ چلے گئے…. اگر یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو وہ سارے جائیں گے جو EXTENTIONوالے ہیں…. یا دوبارہ کنٹریکٹ پر رکھے گئے ہیں…. یا جن کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے …. اگر کابینہ سے استعفے لئے جاسکتے ہیں تو پھر کس کس سے استعفے لیا جاسکتاہے، یہی فیصلہ اور یہی نکتہ آئندہ چند گھنٹوں یعنی 24، 48 یا 72 گھنٹوں میں اہم ہوسکتا ہے ۔ اطلاع ہے کہ سیکرٹری قانون سے بھی بعض معاملات میں مشورے ہوئے ہیں اور کہیں مشورے ہوچکے…. فیصلہ کیا ہوتا ہے یہ بہت ہی اہم ہے…. دو معاملات میں یہ نکتہ بہت اہم ہے ۔ khushnood khan
قارئین ! میں بچہ تھا تو گاﺅں کے کچے مکانوں کی دیواریں جب ساون کی جھڑیوں میں (یہ لگاتار لیکن آہستہ آہستہ بارش ہوتی ہے ، جس کا ہر قطرہ زمین میں دھنس جاتا ہے) گرنا شروع ہوتیں تو پتھروں کی ان دیواروں کے گرنے کی ایک خاص آواز آتی تھی…. جب جھڑیاں لگ جاتیں اور کئی دن جاری رہتیں …. تو دوسرے تیسرے دن ایک نہیں کئی دیواریں گر جاتیں۔ ملکی سیاست میں بھی یہی ہو رہا ہے …. احتساب‘ احتساب کی آوازیں…. مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بلند ہوئیں…. مسلم لیگ (ن) نے احتساب کیساتھ ساتھ بچت بحث کا شور کیا…. جس کے نتیجے میں بہت توڑ پھوڑ ہوئی، مرکزی حکومت کو مشکلات بھی پیش آئیں…. لیکن مرکزی حکومت کو اس بات کا کریڈٹ دیں کہ ان کے منہ سے شکوے کا ایک لفظ بھی نہیں نکلا…. اور انہوں نے سب برداشت کیا…. اور اس برداشت کا آخری منظر یہ سامنے آیا کہ وزیر اعظم نے پوری کابینہ سے استعفے مانگ لئے…. سنتے ہیں کہ کابینہ کے اجلاس میں جب بابر اعوان اور قمر زمان کائرہ نے اپنے باقی ساتھیوں سے استعفے مانگے تو بعض نے جواب میں کہا آپ فوجی ہیں، ایک نے کہا آپ تھانیدار ہیں جبکہ ان دونوں نے ازراہ مذاق میں کہا ہم حوالدار ہیں …. جب استعفے لینے یا استعفے دینے کی بات آئی تو بعض وزراءجذباتی ہو کر اشک بار ہوگئے…. جس پر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے وہاں موجود بیورو کریسی کے کل پرزوں کو باہر بھجوا دیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اگر آپ اس طرح کا جذباتی منظر پیش کریں گے تو میں بھی آپ کے ساتھ استعفیٰ پیش کروں گا…. جس پر صورت حال ذرا بہتر ہوگئی اور آنکھوں سے چھلکنے والے آنسو تھم گئے ۔
قارئین! مجھے یقین تھا کہ یہ منظر ضرور پیش ہوگا…. لیکن بچت اور قانون و ضوابط پر عملدرآمد کا مطالبہ کرنے والی پنجاب حکومت نے بھی اسی شام ایک نیا منظر پیش کر دیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کنٹریکٹ پر پنجاب حکومت میں موجود آٹھ اہم ترین افسران کو فارغ کر دیا…. لہٰذا اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نیتیں دونوں طرف ٹھیک ہیں…. دونوں بہتری چاہتے ہیں…. بظاہر حالات بہت خراب ہیں اور لگتا یہ ہے کہ معاملات ٹھیک نہیں …. لیکن میری اطلاع یہ ہے کہ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری پوری پوری رات جاگ رہے ہیں اور کام کر رہے ہیں…. میں سمجھتا ہوں یہ ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے بھی کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکلے گا اور راستہ وہ ہوگا جو پاکستان کے عوام کا راستہ ہوگا…. میری اطلاع یہ ہے کہ بدشگونی یا بداعتمادی کچھ زیادہ ہے…. حکومت سوئی ہوئی ہے اور نہ ہی لاعلم ہے ۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اب ایک نئی صف بندی بھی ہو رہی ہے …. یہ نئی صف بندی کیا ہوگی…. یہ مجھے معلوم نہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button