ادارتی کالم

اک چراغ اور بجھا…. کالم:طارق حسین بٹ

طارق حسین بٹ(چیرمین پاکستان پیلز ادبی فورم)
کل نفس ذائقۃ’الموت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کے مطابق ہر ذی نفس کو جو اس دنیا میں تشریف لاتا ہے اسے ایک دن لوٹ کر اس دنیا کی جانب واپس جانا ہو تا ہے جہاں پر اس کے مدارج کا تعین اس کے اعمال کے مطا بق ہو گا۔ آج میں رنگ و بو کی اس فانی دنیا میں جنم لینے والی جس ہستی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے جا رہا ہوں اس نے اپنے افعال و کردار سے اپنا خاص مقام پیدا کیا ۔ معاشرے پر اپنے گہرے نقو ش چھوڑے اور محبتوں کی ایسی دنیا آباد کی جس میں رواداری اور چاہتوں کے رنگ بڑے نمایاں تھے ۔  ۱۹۱۸؁ کو وزیرہ آباد کے ایک متوسط گھرانے میں جنم لینے والے بچے محمد یوسف ڈار نے گورنمنٹ کالج لا ہور سے بے آنرز کی ڈگری لی اور پھر اسی کالج سے ایم اے (انگلش) کی ڈگری بڑے اعزازی نمبروں سے حا صل کی ۔ انھیں آئین و قا نون سے خصوصی دلچسپی تھی لہذا شادی کے بعد انھوں نے ایل ایل بی میں داخلہ لیا اور یہ امتحان بھی اعزازی نمبر وں میں پاس کیا۔آ ئین و قانون سے ان کی ذاتی وابستگی اور لگن نے انھیں ساری زندگی قانون کی پاسداری کا درس دیا ۔۔
۱۹۴۳ ؁میں انڈین آرمی میں کمیشن لیا اور ڈیرہ دون(انڈیا) سے آرمی کی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد ۱۹۴۵؁ میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران سری لنکا میں فوجی فرائض انجام دئے۔ میجر (ریٹائرڈ) محمد یوسف ڈار کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے تھا۔کوئٹہ سٹاف کالج سے ۱۹۵۱؁ میں ایک سال کا کورس مکمل کیا اور ۱۹۵۲؁ میں احمدیوں کے خلاف ملک گیر تحریک میں جنرل اعظم کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دئے اور شہر میں امن و امان بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ۱۹۵۵؁ میں آئی ایس آئی میں چار سال تک خدمات سر انجام دیں۔ اس وقت آئی ایس آئی سیاسی محاذ پر اتنی سر گرم نہیں تھی اور اس کا دائرہ اختیار صرف فوج تک محدود ہو تا تھا ۔ اب تو آئی ایس آئی کا شمار دنیا کی چوٹی کی پہلی پانج بہترین ایجنسیوں میں ہو تا ہے اور اس کے نام سے بہت سے ممالک پر رعشہ طاری ہو جاتا ہے ۔۔
۱۹۵۸؁ میں جنرل محمد ایوب خان نے ملک پر پہلا مارشل لانافذ کیا تو میجرصاحب نے ۱۹۶۱؁ میں فوج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی اور فوج کے پیشے کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دیا۔ اپنی ریٹائر منٹ کے بعد ا نھوں نے پنجاب کلب لاہور میں سیکرٹری کی حیثیت سے نئی زندگی کا آغاز کیا وہ پہلے پاکستانی تھے جو اس عہدے پر فائض ہو ئے کیونکہ اس سے قبل برطانوی نژاد شخصیت ہی اس کلب کے سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوا کرتی تھی۔وہ ۱۹۷۷؁ تک اس عہدے پر فائز رہے اور یہاں پر بھی اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کیا۔اسکے بعد وہ عملی زندگی سے Writer-Logo-urdu-pakisanریٹائر ہو گے اور خود کو مطالعے او خدمتِ خلق تک محدود کر لیا۔ مجبوروں ، لاچاروںاور بیکسوں کیلئے مالی امداد اور انصاف کی فراہمی کیلئے انکی کوششوں نے انکی قدرو منزلت اور نیک نامی میں بے پناہ ا ضافہ کیا ۔ انکے اعلی کردار کی عظمت کی گواہی انکے ناقدین بھی دیتے تھے۔انھوں نے ایک کامیاب اور قابلِ رشک زندگی گزاری اور ۶ فروری ۲۰۱۱؁ کو یہ آواز ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئی اور اپنے چاہنے والوں کو اداس اور سوگوار چھوڑ کر اس سفر پر روانہ ہو گئی جہاں سے لوٹ کر کو ئی واپس نہیں آتا۔
میجر صاحب کے بڑے بیٹے عبدا للہ یوسف نے حکومتِ پاکستان میں بڑے کلیدی عہدوں پر اپنی صلا حیتوں کا لو ہا منوایا وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت ترقی کرتے کرتے سی بی آر (سینٹرل بورڈ آف ریو نیو )کے چیرمین نامزد ہو ئے اور اس ادارے کو نئی پہچان اور احترام عطا کیا۔ کسٹم آفیسر ز اور بزنس مینوں کے درمیان عدمِ اعتماد کی فضا کو ختم کیا اور حکومت پر بزنس مینوں کا اعتماد بحال کیا ۔ انکے دوسرے بیٹے عمر یوسف ہیں جو کہ میرے انتہا ئی قابلِ احترام دوست ہیں۔ انھیں ابو ظبی کرکٹ کونسل کے پہلے صدر منتحب ہونے کا اعزاز حا صل ہے۔ وہ اس عہدے پر تین سال (۹۸۹ ۱ سے ۱۹۹۳) تک فائز رہے ۔ ابو ظبی میں موجودہ شیخ زاید کرکٹ سٹیڈیم کا پہلا پتھر انھوں نے اپنے ہاتھ سے رکھا کیونکہ سٹیڈیم کا وہ پلاٹ جس پر موجودہ سٹیڈیم قائم ہے انہی کے دورِ ِ صدارت میں حا صل کیا گیا تھا جس کا صدارتی فرمان یو اے ای کے صدر شیخ زاید بن سلطان النہیان نے  ۱۹۹۱؁ میں جاری کیا تھا۔پلاٹ کا یہ حسین تحفہ دراصل سپورٹس اور پاکستانیوں سے یو اے ای کے صدر شیخ زاید بن سلطان النہیان کی اٹوٹ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔
مجھے میجر صاحب سے ملاقات کا شرف ۱۹۹۴؁ میں حاصل ہوا۔ایک دن مجھے عمر یوسف کا فون آیا اور انھوں نے مجھ سے اپنے والد صاحب کی ابو ظبی آمد کا ذکر کیا ۔ عمر یوسف نے کہا کہ والد صاحب تمھیں ملنا چاہتے ہیں کیونکہ تم میں اور والد صاحب میں ایک چیز مشترک ہے۔اور پھر خود ہی سوال داغ دیا کہ کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ وہ قدرِ مشترک کیا ہے۔ میں نے ادب، شاعری، سپورٹس، سیاست، فلسفہ اوربہت سے دوسرے موضوعات کا ذکر کیا لیکن میری حیرانگی کی انتہا نہ رہی جب انھوں نے کہا کہ والد صاحب مفکرِ قرآن علامہ غلام احمد پرویز کے عقیدتمندوں میں ہیں اوریہی وہ چیز ہے جو تمھارے اور والد صاحب میں مشترک ہے۔ میں اپنی پہلی فرصت میں عمر صاحب کے دولت خانے حاضر ہوا ور یوں مجھے میجرصاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ان سے ملاقات ہو ئی تو پھر ادب، تاریخ سیاست اور دین کے حوالے سے کئی گوشے بے نقاب ہو ئے ۔قرآنی تعلیمات کی اہمیت پر انھوں نے سیر حاصل گفتگو کی۔چند دنوں کے بعد میجر صاحب میرے غریب خانے پر تشریف لائے اوریوں مجھے انکی شخصیت سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا۔میجر صاحب جب بھی ابو ظبی تشریف لاتے میرے غریب خا نے پر تشریف لا تے مجھے اپنی شفقت سے نوازتے اور زندگی کے دقیق مسائل کو سمجھنے میں میری راہنما ئی فرماتے۔۔۔
میجر (ریٹائرڈ) محمد یوسف ڈار کو علامہ اقبال اور قائدِ اعظم سے خصوصی محبت تھی  لہذاان دونوں شخصیتوں کے حوالے سے انکے ذاتی مشاہدات سے آگا ہی میری خواہش تھی۔ میجر صاحب نے ایک واقعہ بیان کیا کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مہاتما گاندھی اپنی مقبولیت کی انتہا ئی بلندیوں پرتھے اسی زمانے میں جہاں پر وہ پراتھنا کیا کرتے تھے ایک دن کالا ناگ نکل آیا لیکن مہاتما گاندھی کو بغیر گزند پہنچائے وہ ناگ غائب ہو گیا۔دوسرے دن کے سارے اخبارات مہا تما گاندھی کی دادو تحسین سے بھرے پڑے تھے انکا کہنا تھا کہ ناگ دیوتا بھی مہا تما گاندھی کی عظمتوں کو سلام پیش کرتا ہے اور جھک کر گزرتا ہے۔ اخبار نویس اس واقعے کے حوالے سے مہاتما گاندھی کے سب سے بڑے ناقد قائدِ عظم محمد علی جناح کے پاس گئے تو آپ نے ایک جملے میں ہندو ذہنیت کی نفسیات کو جس خوبصورتی سے واشگاف کیا وہ ا نہی کا کمال ہو سکتا تھا۔قائد کا مختصر ساجملہ انگریزی میں ہی لکھ رہا ہوں کیونکہ ان الفاظ کی خوبصورتی سے انگریزی زبان میں ہی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔۔ROFESSIONAL ETIQUETTE   ۔۔
میجر (ریٹائرڈ) محمد یوسف ڈار نے مجھے بتا یا کہ ۲۱ اپریل ۱۹۳۸؁ جب علامہ اقبال کی وفات ہو ئی تواس دن میرا بی اے کا پرچہ تھا۔ جب میں پرچہ دینے جا رہا تھا تو ہر سو سوگواری کی فضا چھا ئی ہو ئی تھی اور لوگوں کا غم کے مارے برا حال تھا ۔ کو ئی ایسا گھر نہیں تھا جس میں صفِ ماتم نہ بچھی ہو اور اقبال کی بے وقت موت کا غم نہ منایا جا رہولوگوں کے آنسووں کے اندر اقبال سے محبت کا سمندر ٹھا ٹھیں مار ر ہا تھا ۔ انکی سسکیاں محبت کی ایسی داستان بیان کر رہی تھیں جو چند لوگوں کا مقدر ہوا کرتی ہے۔ میرے دل میں چپھی ہو ئی محبت بھی آنسووں میں ڈھلتی جا رہی تھی اور مجھے ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ میری سسکیاں بھی ان تمام سسکیوں کا حصہ بنتی جا رہی ہیں جنھوں نے پورے ماحول اور فضا کو اپنی انمٹ محبت کی چادر میں لپیٹ رکھا تھا۔ غمِ اقبال سے فضا پر اداسی چھا ئی ہو ئی تھی اور ہر دل دردو الم کی تصویر بنا ہوا تھا لاہور کی تاریخ میں علا مہ اقبال کے جنازے سے بڑا جنازہ چشمِ فلک نے دوبارہ نہیں دیکھا ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر گھر کا باسی علامہ صاحب سے اپنی محبت کی گواہی کیلئے اس شخص کی میت کے ساتھ چل ر ہا تھااور اس چہرے کی زیارت کرنا چا ہتا تھا جس نے انھیں پیغامِ خودی دیاتھاان کو نئی پہچان دی تھی، ایک نئی مملکت کا خواب دکھا یا تھا ، انکے اندر غلامی کی زنجیریں توڑنے کی بنیاد رکھی تھی اور انھیں آزادی پر مر مٹنے کی تڑپ اور ولولہ عطا کیا تھا۔۔۔
اے طائرِ لا ہوتی اس رزق سے موت اچھی۔۔۔۔۔جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کو تا ہی
پاکستان کی پوری تحریک کو میجر (ریٹائرڈ) محمد یوسف ڈار نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا تھا لہذا تحریک کے قائدین سے انکی محبت ایک فطری عمل تھا۔یہ ۱۹۴۷؁ کے اوائل کی بات ہے۔ قائدِ عظم محمد علی جناح اس زمانے میں بمبئی میں رہا کرتے تھے اور میجر صاحب بھی اس زمانے میں بمبئی میں مقیم تھے لہذا انکے دل میں ایک معصوم آرزو نے جنم لیا کہ قائدِ عظم محمد علی جناح سے مل کر تحریکِ پاکستان کے بارے میں گا ئڈ لائن لی جائے تاکہ آزا دی کے لئے کوئی مثبت کردار ادا کیا جا سکے۔ ایک دن میجر صاحب سیدھے قائدِ عظم محمد علی جناح کی رہائش گاہ پر پہنچے اور ان کے پرسنل سیکر ٹری کے ایچ خورشید سے قائد سے اپنی ملاقات کا اظہار کیا۔ کے ایچ خورشید نے میجر صاحب سے سوال کیا کہ کیا آپ نے قائدِ عظم سے ملاقات کا و قت لیا ہوا ہے تو میجر صاحب نے کہا کہ سوری  وقت تو نہیں لیا لیکن میرا ان سے ملنا انتہا ئی ضروری ہے کیونکہ میں ان سے مل کر گا ئڈ لائن لینا چاہتا ہوں لیکن انکی یہ آرزو حقیقت کا جامہ نہ پہن سکی کیونکہ کے ایچ خورشید نے میجر صاحب کو قائد سے ملنے کی کی ا جازت نہ دی اور یوں میجر صاحب کا قائد سے ملاقات کا سپنا ادھورا رہا۔
میجر (ریٹائرڈ) محمد یوسف ڈار ترقی پسند سوچ کے مالک تھے۔ وہ تکریمِ انسا نیت کے اعلے اور ارفع جذبوں پر یقین رکھتے تھے اور انھیں انسانیت کی ترقی اور بقا کی کلید سمجھتے تھے۔مذہبی رواداری اور برداشت کے علمبردار تھے ۔وہ دلائل و براہین اور مکالمے کے پر زور حامی تھے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اسلام میں اجتہاد کے قائل تھے۔ علم و آگاہی اور دانش و حکمت پر یقین رکھتے تھے اور نئی نسل کو جدید تعلیم سے آراستہ کرناچاہتے تھے تا کہ اقوامِ عالم میں پاکستانی ایک ممتاز مقام حاصل کر کے ملک و ملت کا نام روشن کر سکیں۔مذ ہب میں شدت پسندی سے نفرت کرتے تھے مذہبی پیشوا ئیت سے انکی ذہنی مخاصمت تھی کیونکہ وہ مذہبی پیشوائیت کی رجعت پسندانہ سوچ کو معاشرے کی ترقی میں رکاوٹ تصور کرے تھے۔انکا یقین تھا کہ جب تک قوم قرآنی تعلیم کی جانب رجوع نہیں کرتی اسکی باز آفرینی کے امکانات بہت مخدوش ہیں واعتصمو بحبل ا للہ جمیعا ولا تفرقو بینکم کی آ ئیت مقدسہ ہمیں پکار پکار کر قرآن کی جانب بلا رہی ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ قرآن سے کٹ کر روایات میں الجھ کر فرقہ پرستی کو جنم دے رہے ہیں او رتقسیم در تقسیم  کے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ انکا استدلال تھا کہ ہمیں قرآن کی جانب واپس لوٹنا ہے کیونکہ یہی ایک کتاب ہے جو فرقہ پر ستی کا خاتمہ کرسکتی ہے اور پوری امتِ مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرسکتی ہے۔ ۔۔
علامہ اقبال کی شاعری کے حوا لے سے ان کی سنائی ہو ئی ایک رباعی جس سے میں اس سے قبل آگاہ تو ضرور تھا لیکن اس کے پسِ ،نظر سے آگاہ نہیں تھا۔ اس ربا عی کے واقعاتی پہلوپر میجر صاحب نے جس طرح روشنی ڈالی اور اقبال کی اس ربا عی میں امتِ مسلمہ کے درد اور اسلام کے آفاقی پیغام کو جس خوبصورت انداز میں پیش کیا اس سے وہ ربا عی میری روح پر نقش ہو گئی۔ اصل میں یہ ربا عی عشقِ رسول میں مکمل ڈوبی ہو ئی ہے اور ہمیں عشق کی اس ازلی اور ابدی بنیاد سے روشناس کروا تی ہے جو اقبال کی ساری شاعری پر محیط ہے اور جس نے اس کی شاعری کو لازوال بنا رکھا ہے۔ آئیے اقبال کے سوز اور ڈار صاحب کے عشقِ رسول میں ڈوبی اس آرزو پر آج کے کالم کا احتتام کریں کیونکہ  عشقِ رسول ہی میجر (ریٹائرڈ) محمد یوسف ڈار کی پہچان تھا اور یہی عشق ہے جسے روزِ محشر ان کی نجات کا با عث بننا ہے۔ بقولِ اقبال۔۔۔
عجم ہنوز نداند رموزِ دیں ورنہ۔۔ز دیو بندحسین احمد ایں چہ بو ا لعجبی است
سرود بر سرِ منبر کہ ملت از وطن است۔۔چہ بے خبر زِ مقامِ محمدِ عربی است
بمصطفے برساں خویش را کہ دیں ہمہ او است۔۔ا گر بااو نر سیدی تمام بو لہبی است
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button