ادارتی کالممنظر نامہ

اُداس موسم میں زرد پتے منتظر ہیں بہار ٹھہرے

اُداس موسم میں زرد پتے منتظر ہیں بہار ٹھہرے

تحریر:محمد سکندر حیدر
14اگست 2010ءکو پاکستان 63سا ل کا ہوجائے گا۔ جشن آزادی کی خوشی منانا ہر زندہ قوم کا حق ہے۔ زندہ قومیں اپنی آزادی کا جشن منائیں تو اِس سے ایک طرف راحت و کامرانی کا احساس ہوتا ہے تو دوسری طرف نسل ِنو کو اسلاف کے کارناموں پر عمل پیروی کا خاموش درس بھی دیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کی تاریخ میں یہ دن معتبر ترین ہے۔ تاریخ کے قرطاس پر قیام پاکستان کی داستان وجود ِپاکستان تک ہر سال دہرائی جاتی رہے گی۔ ہر سال تجدید عہد کا دن خاموشی سے آئے یا جشن اور بھنگڑوں کی صورت میں آئے، وقت کی ساعتوں کے گزرنے پر گزر ہی جائے گا۔ اِس دن نے اب خود سے کچھ نہیں بولنا اور نہ کوئی سوال اب اہل قوم سے کرنا ہے کیونکہ زندہ قومیں ایسے تجدیدی دُنوں کے موقعوں پر اپنا احتساب خود کرتی ہیں اگر باعزت زندگی کی تمنا کا جذبہ اُن کی رگوں میں دوڑ رہا ہو تو پھر اپنی گذشتہ سالوں کی غلطیوں کو سال ِنو میں دُہرانے سے گریز کرتی ہیں۔ امسال 14اگست کو پاکستان بنے 23011دن بیت چکے ہوں گے۔ زندہ قومیں اپنے لمحہ لمحہ کا حساب کتا ب رکھتی ہیں۔ ہر بیتے دن کو آئینہ بنا کر اگلے دن کا آغاز کرتی ہیں۔ قائد اعظم نے جس خواب کی تعبیر سوچی تھی اُس کے مطابق قیام پاکستان کے اولین دنوں میں ہمارا شمار بھی زندہ قوموں میں ہوتا تھالیکن پھر نہ جانے کس کی نظر لگی کہ ہم دھیرے دھیرے بے حسی اور خود غرضی کی راہ پر چلتے ہوئے مردہ قوم بن گئے۔اب حالات کی ستم گری یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے قیامت کے مناظر ہیں ۔ بے بسی اور لاچارگی کا کرب ہے۔ بے سروسامانی کا عالم ہے۔ دُور دُور تک مایوسی کا اندھیرا چھایاہے ۔ہر شخص گرفت ِمصیبت ہے۔ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے خونی کھیل میں چوبیس گھنٹوں میں57شہری کراچی میں ناحق مارے جارہے ہیں۔لوگوں کے گھر اُجڑ رہے ہیں ۔ کہیں معصوم بچے یتیم ہورہے ہیں تو کہیں بوڑھے والدین جوان بیٹوں کے لاشے کندھوں پر اُٹھا رہے ہیں لیکن ہم بے حس مزاجوں کی بنا پر ٹس سے مس نہیں ہورہے ۔حالیہ آفت سیلاب میں ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد متاثر، ساڑھے چھ لاکھ مکانات تباہ، اور سولہ سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اُجڑے ہوئے سیلاب زدگان افراد اپنی باپردہ خواتین کے ہمراہ کھلے آسمان تلے سڑک کنارے بے بسی اور افلاس کی زندہ مورتیاں بنے دن گزار رہے ہیںلیکن قوم اور حکمران ابھی بھی غفلت کی نیند میں سو رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے میانوالی کے جعلی میڈیکل ریلیف کیمپ کے فوٹو سیشن کی مانند ہر جگہ امداد کے نام پر بناوٹ اور شوشا کلچر ہے۔ ہماری 63سالہ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ 1953سے تاحال کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے ملکی اور غیر ملکی ادارے گیارہ دفعہ اِس کی تعمیراتی رپورٹ بنا چکے ہیں۔ 1980کے عشرہ میں یہ ڈیم بننا شروع ہوتا تو اِس پر 40بلین روپے کی لاگت آتی اور 10ملین ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ ہو جاتا جس سے آج سیلاب کی مصیبت یوں بربادی نہ پھیلا سکتی۔ صدافسوس سیاسی تماش بینوں نے سیاسی مفادات کی آڑمیں کبھی بھی پاکستان کا بھلا نہیں سو چا اور بے حس قوم نے بھی اِن سیاسی مداریوں سے کبھی نہیں پوچھا کہ آخر تم پاکستان کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ ۔قومی مزاج اِس قدر بگڑ چکا ہے کہ ہم سچ اور حقیقت کا سامنہ کرنے کو تیار نہیں ۔جعلی سازی، فراڈ بازی، کرپشن، خود غرضی، رشوت، لوٹ مار، قتل وغارت، سیاسی مفادات کا خونی کھیل ۔ اقتدار کی ہوس، جھوٹ اور بے شرمی و بے حیائی کو اپنا شیوہ بنا چکے ہیں۔ جعلی سازی کو اِس قدر پسند کرتے ہیں کہ جعلی ڈگریوں پر نااہل ہونے والے افراد کو دوبارہ منتخب کرکے اپنی تقدیر کے فیصلے کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے پارلیمنٹ میں پہنچاچکے ہیں۔اِس جعلی جمہوریت میں جعلی وصیتوں پر جعلی جان نشین ،جعلی محب وطن حکمران بن کرجعلی غیر ملکی دوروں پر غریب عوام کو سیلا ب میں نہ صرف تنہا چھوڑ گئے ہیں بلکہ غریبوں کا پیسہ بھی برباد کر رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے۔ حکومتی گڈ گورننس کا یہ حال ہے کہ سیلاب زدگان کی امداد کے نام پر اُن مصیبت زدہ افراد کو بھکاریوں کے روپ میں میڈیا پر دکھایاجا رہا ہے۔ راشن اور امدادی اشیاءا کی ترسیل کو ڈرامہ بنا دیا گیا ہے۔حالانکہ مصیبت کی اِس گھڑی میں اُن کی مدد کرنا حکومتی فر ض ہے کیونکہ لوگوں پر مصیبت کا یہ پہاڑ حکمرانوں کی 63سالہ نااہلی کی بنا پر ٹوٹا ہے۔قدرتی آفات کو روکنا بے شک کسی بشر کے بس میں نہیں لیکن بروقت امداداور ٹھوس حکمت عملی سے نقصانات کی شدت کو کم کرناتو انسانوں کے بس میں ہے۔ 1992کے سیلاب اور 2005کے زلز لہ کے مقابلے میں اِس آفت کوبڑا قرار دیا جا رہا ہے۔ 2005کے زلز لہ کے سانحہ میں پوری قوم یک جان ہوکر متاثرین کی امداد کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ جس سے اُس وقت مرنے والے تو واپس نہ آئے لیکن زندہ بچ جانے والوں کو کم ازکم ایک دلاسہ ضرور ملا تھا۔ مصیبت کی اِس گھڑی میں متاثرین کی تعداد ڈیڑھ کروڑ اور بقیہ قوم کی تعداد تقریبا سولہ کروڑ ہے۔ ساڑھے سترہ کروڑ کی عوام اگر اِس سال جشن آزادی منانا چاہتی ہے تو پھر اُسے قیام پاکستان کے وقت والا اپنا جذبہ ہمدردی و ایثار بیدار کرناہوگا حکومتی امداد کی پرواہ کیے بغیر جس طرح 1947میں اُجڑے اورلٹے مہاجرین کے قافلوں کو ہر شخص نے پناہ وعزت دی تھی اُسی طرح حکومتی توقعات کو بالائے طاق رکھ کر باہمی امداد کی بناپراِن سیلاب زدگان کوپناہ اور عزت کے ساتھ امدادی سامان فراہم کرنا ہوگا۔ اگر یہ فرض ہم پورا نہ کرسکے تو پھر 14اگست کو سرکاری تقریبات بمعہ فوٹو سیشن، گھروں اور دفاتر پر جھنڈیوںکی سجاوٹ، الیکڑانک میڈیا پر آزادی کی خصوصی نشریات اور بازاروں میں بھنگڑے اور شور شرابہ قیام پاکستان کے ح

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button