ادارتی کالم

امن کی راہ

طارق حسین بٹ(چیر مین پاکستان پیپلز ادبی فورم)
امن ہمیشہ سے ترقی،کامیابی اور خوشحا لی کا ضامن رہا ہے۔ دنیا میں ہمیشہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن کے ہاں امن کا دور دورہ ہوتاہے۔ بد امنی اور انتشار قوموں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیاتا ہے اور بڑی بڑی قو میں اپنے انتشار اور بد امنی کی وجہ سے صفحہِ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹ جاتی ہیں۔امن کے چشمے اتحاد سے پھوٹتے ہیں اور ا تحاد قوت کا ضامن ہو تا ہے جو قوموں کو ایسی طاقت عطا کرتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ قوم ترقی کی بلندیوں کو چھونے لگتی ہے۔خوش قسمت ہیں وہ قومیں جن کے ہاں امن کی حکمرانی ہو تی ہے۔ امن کے سوتے در اصل انصاف سے جنم لیتے اور با ہمی احترام کے جذبوں سے تقویت حاصل کرتے ہیں۔امن منزل کی نشاندہی بھی کرتا ہے اور حصولِ منزل کےلئے راہنمائی کا فریضہ بھی سر انجام دیتا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ملک میں امن و امان ہو اور وہ قوم ترقی نہ کرے۔ اگر کسی کو امن کی تابندگی کا صحیح اندازہ کرنا ہے تو وہ صلح حدیبیہ کا مطالعہ کر لے اس پر ساری حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گی۔ صلح حدیبیہ جب لکھا جانے لگا تو اسکی ابتدا اس طرح سے ہوئی کہ یہ معاہدہ خدا کے رسول سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفے ﷺ اور قریشِ مکہ کے درمیان ہے تو اس پر قریش کے نمائندے سہیل نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ معاہدہ محمد بن عبدللہ اور قر یشِ مکہ کے درمیان ہے کیونکہ اگر قریشِ مکہ آپ کو رسول مانتے تو پھر جھگڑا کس بات کا تھاپھر تو اس معاہدے کی بھی ضرورت نہیں تھی لیکن چونکہ قریشِ مکہ آپ کو رسول نہیں مانتے اسی لئے تو آپ کے ساتھ معاہدہ کر رہے ہیں لہذا ضروری ہے کہ معاہدے میں محمد بن عبداللہ لکھا جائے۔سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفے ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا کہ رسول اللہ کی جگہ محمد بن عباللہ لکھا جائے کہ میں محمد بن عبدللہ بھی ہوں اور یہ بات سچ ہے لیکن حضرت علی شیرِ خدا نے کہا اے خدا کے سچے بنی رسو ل ا للہ کے الفاظ کو کاٹنا میرے اختیار میں نہیں ہے لہذا معاہدے سے رسول ا للہ کے لفظ کو سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفے ﷺ نے خود اپنی انگشتِ مبارک سے کاٹااور یوں اس معاہدے کو ضبطِ تحریر میں لایا گیا جس پر محمد بن عبداللہ لکھا ہوا تھا۔امن کی محبت کی راہ کی پر رکاوٹ سرکار خود ہی مٹاتے چلے گئے جو کچھ صفِ عدو سے آیا اسے تسلیم کر لیا گیا محض اس وجہ سے کہ اس کے بدلے میں امن کا انمول موتی حاصل ہو رہا تھا۔۔۔
کبھی کبھی انکار میں بھی اقرار کے بحرِ بے کراں پوشیدہ ہوتے ہیں۔ عقیدت کی عمیقیت اپنے وجود کا اعلان کر رہی ہوتی ہے اور حضرت علی کا رسولِ خدا کے کہنے پر بھی رسولِ خدا کے لفظ کو مٹانے سے انکار کرنا ہی رسولِ خدا سے ان کی سچی محبت، وفا ، ایمان اور اور حقانیت کی شہادت تھا۔ عجیب اتفاق ہے کے ہجرتِ مدینہ کی شب جب قریشِ مکہ ننگی تلواریں سونت کر رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کے ہوئے تھے تو سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفے ﷺ حضرت علی کو اس شب اپنے بستر پر لیٹ جانے کا حکم دیا اور بقول حضرت علی کہ اس رات جیسی گہری نیند مجھے زندگی میں دوبارہ نہیں آئی۔ نہ سونے والے نے سوال کیا اود نہ سونے کا حکم دینے والے نے کوئی دلاسہ دیا ۔ارشاد ہے کہ علی میرے پاس کچھ لوگوں کی علامتیں ہیں صبح لوگوں کی امانتیں لوٹا کر مدینہ چلے آنا۔ کفارِ مکہ تلواریں تانے کھڑے ہیں اور موت اپنی باہیں کھلے انتظار میں ہے کہ کب شب کے اندھیرے دراز ہوں اور کب محو، نیند شخصیت کی زندگی کا چراغ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بجھا دیا جائے۔ لیکن حکمِ رسول ﷺ ہوتا ہے کہ صبح مدینے کو عازمِ سفر ہو جانا ۔رسولِ خدا فرماتے جاتے ہیں اور شیرِ خدا اسی طرح اس پر یقین کرتے ہیں نہ خوفِ مرگ ہے نہ اندیشہ زندگی ہے۔کمال تو دیکھئے کہ جو کچھ میرے آقا نے فرمایا تھا سب کچھ اسی فرمان کے مطابق ظہور پذیر ہو جاتا ہے۔ حضرت علی کو کوئی گزند نہیں پہنچتی۔ ننگی تلوارویں تانے ہوئے سورمے حضرت علی کے بدن کو چھونے کی جسارت بھی نہیں کرت سکتے۔ اگر کسی کے پاس اس محیرالعقول واقعے کی کوئی توجیح ہے تو پیش کرے کیونکہ ہجرت کی گھڑی نبی میں خود خدا بول رہا تھا تبھی تو ارشادِ خداوندی ہے کہ رسول اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتا۔
معاہدہ لکھا جا چکا تھا اور اس کی کچھ شرائط پر مسلمانوں میں اضطراب پایا جاتا تھا لہذا فارقِ اعظم نے رسول اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ خدا کے نبی نہیں ہیں؟ َ کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ کیااسلام سچا دین نہیں ہے اور جب سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفے ﷺ نے فاروقِ اعظم کے اٹھائے گئے ہرسوال کا جواب اثبات میں دے دیا تو پھر فارقِ اعظم نے کہا کہ اگر یہ سب سچ ہے تو پھر ہم نے یہ معاہدہ دباﺅ کے تحت کیوں کیا ہے؟ ابھی مباحث کے یہ مراحل ختم نہیں ہوئے تھے کے وحیِ خداوندی آگئی جس نے اس معاہدے کو فتحِ مبین کا نام دے دیا۔عظیم تاریخ دان کارلائل لکھتا ہے کہ جو کچھ محمد ﷺ کی آنکھ دیکھ رہی تھی عمر بن خطاب کی نگاہ وہ دیکھنے سے قاصر تھی۔نبی جس مقام سے چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے ایک عام انسان کی رسائی اس مقام تک ہو ہی نہیں سکتی ۔ امن کے ثمرات کو محمد ﷺ کی نظر ہی دیکھ سکتی تھی اور اس مقام تک پہنچنا عمر بن خطاب کے بس میں نہیں تھا۔ اور پھر اہلِ جہاں نے دیکھا کہ ایک مختصر عرصے کے اندر امن نے کیا گل کھلائے۔امن کی فضا میں سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفے ﷺ کو تبلیغِ دین کا مو قع میسر آیا تو آپ نے دین کی تبلیغ سے پورے عرب کو اسلام کاپیرو کار بنا لیا اور وہ جزیر ہ ةالعرب جہان پر کچھ عرصہ قبل اسلام کا نام لینا جرم تھا اس پر اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا اور یہ سب کچھ قوتِ شمشیر سے نہیں بلکہ کردار کی عظمتوں سے ممکن ہوا تھا۔
اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چائیے کہ اسلام امن محبت اور روادری کا دین ہے اور اس کا دامن دوسروں کو معاف کر دینے کی تعلیمات سے بھرا ہوا ہے۔ اسلام کے دامن میں ایسی ایسی تابناک اور درخشندہ مثالیں ہیں جنھوں نے انسانیت کا سر فخر سے بلند کر رکھا ہے لیکن یہ میرے کالم کا موضوع نہیں ہے۔مجھے تو اسلام کی امن پسندی سے انسانیت کو قدم بقدم ترقی اور ارتقا کی جانب محوِ سفر رکھنے کی بات کرنی ہے، شائد امن کی افادیت کو منوانے اور اس پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کےلئے ہی تو خدا نے حکم جاری کیا کہ وہ لوگ جو معاشرے میں نا ہمواریاں اور فساد پیدا کرتے ہیں انھیں جہاں پاﺅ قتل کر ڈالو کیونکہ فتنہ قتل سے بھی بڑا جرم ہے لیکن بد قسمتی سے کچھ مذہبی گروہوں نے اسلام کے نام پر معصوم لوگوں کے قتلِ عام کو اسلام کا نام دے کر اسلام کے روشن چہرے کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ عوام اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اسلام کی اس تعبیر کےلئے ان کے پاس کون سے دلائل ہیں اور اپنے پر تشدد فکر کی بنیادیں انھوں نے کہاں سے اٹھا ئی ہیں۔ جو لوگ مذہب کا نام پر لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور معاشرے میں فتنہ و فساد کو ہوا دے رہے ہیں ان کے قتل کا حکم تو خود قرآنِ مجید میں موجود ہے لہذا ایسے لوگ اسلامی فکر کے علمبردار نہیں ہوسکتے۔ایسے لوگ اسلام کی نفی کرتے ہیں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہیں۔۔
عجب نہیں کہ خدا تک تیری رسائی ہو۔۔تیری نگاہ سے پوشیدہ ہے آدمی کا مقام
تیری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال۔۔تیری اذاں میں نہیں ہے میری سحر کا پیغام (ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ)
اگر ہم اسلام کے ابتدائی ایام کا ذکر کریں تواس طرح کی فکر کا ہمیں کہیں بھی سراغ نہیں ملتا۔اگر ہم مذاہبِ اربعہ کا مطالعہ کریں تو وہاں پر بھی ہمیں اس طرح کی سوچ کہیں پر بھی دکھائی نہیں دیتی۔ سارے اماموں نے حق کی خاطر اور اپنے موقف کی سچائی کےلئے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن کسی بھی حالت میں پر تشدد سوچ کا پرچار نہیں کیا۔ انھوں نے اپنے موقف کی سچائی پر ڈٹ کر سچائی کو جو زندگی عطا کی وہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اسی طرح زندہ و پائیندہ ے اور ان کی فراست اور جرااتوں کی گواہ ہے۔امام ابو حنیفہ کی زندگی تو بے رحم حکمرانوں سے اختلافات سے بھری پڑی ہے اور ان کے مظالم سہتے سہتے گزری ہے لیکن مجال ہے کبھی بھی پُر تشدد سوچ کا ایک لفظ بھی زبان سے ادا کیا ہو۔ فکری سوچ کی سچائی پر ڈٹ جانا تو نصیب والوں کا نصیب ہوتا ہے اور ایسے با نصیب افراد کو خدا دل بھی بڑا عطا کرتا ہے جو سفاکیت کو پورے عزم و حوصلے سے برداشت کرتے ہیں اورا ن کے پاس اپنے دفاع کے لئے صرف سچائی کی شمشیر ہوتی ہے جس کے سامنے بڑے بڑے حکمران ڈھیر ہو جاتے ہیں۔۔امام احمد بن حبل پر جس طرح تشدد رواا رکھا گیا اور حکمرانوں نے انھیں ذاتی نقطہ نظر کے مطابق اسلام کی تعبیر کرنے کی جس طرح پر تشدد کوششیں کیں وہ اہل نظر سے پوشید ہ نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود بھی امام ا حمد بن حنبل نے اپنی دلیل سے ان کی قوت کا جواب دینے کی کوشش کی اور کبھی بھی اپنے پیرو کاروں کو پر تشدد راستہ اپنانے کی اجازت نہیںد ی کہ یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے۔ علما کا کام اپنے موقف کی صداقت کو دلیل ، منطق اور حکمت کے ساتھ عوام کے سامنے رکھنا ہو تا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی دلیل اور منطق وقتی طور پر وہ نتائج پیدا نہ کر سکے جس کی وہ امید ر کھتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ آخری فتح سچائی اور حق کی ہی ہوتی ہے ۔ وہی موقف آخر کار جیتنا ہوتا ہے جس میں توانائی ہوتی ہے، جس میں زندہ رہنے کی قوت ہوتی ہے اورجس میں انسانیت کی فلاح اور ارتقا کاراز پوشیدہ ہوتا ہے۔
جب اقوام پر زوال کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں تو ان سے سمجھنے سوچنے کی صلاحیتیں سلب کر لی جاتی ہیں۔ ان میں تن آسانی عام ہو جاتی ہے۔ محنت اور عمل سے نتائج پیدا کرنے والی قوتیں مفقود ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس میں ایسی بہت سی قباحتیں بھی داخل ہو جاتی ہیں جو ان کے زوال کو اور بھی تیز تر کر دیتی ہیں لہذا ان سے مسندِ حکومت چھین لی جاتی ہے اور کسی ایسی قوم کو اس مسند سے سرفراز کر دیا جاتا ہے جو علم و عرفان پر یقین رکھتی ہے اور اپنے نظام کی بنیادیں انصاف اور حکمت پر استوار کرتی ہے اس میں مسلم یا غیر مسلم کی کوئی تمیز نہیں ہو تی۔ بات اصول کی ہوتی ہے اور جو کوئی بھی اعلی و ارفع اصولوں کی پاسداری کرتا ہے اس کے ثمرات سے مستفیض ہو جاتا ہے۔ خدا خود اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ جب کوئی قوم اس کی بتائی ہوئی راہ سے بھٹک جاتی ہے تو اس سے دنیا کی سرفرازی اور سردار ی چھین لی جاتی ہے اور اسے کسی ایسی قوم کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے جو ان اصولوں پر ایمان رکھتی ہے۔ دیکھئے اقبال اس حقیقت کو کس دلنشیں انداز میں دھراتا ہے
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر۔۔نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو۔۔سکوتِ لالہ و گل سے کلام پید اکر (ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ)
جب مذہبی پیشوائیت نے اسلامی قوانین میں د خل اند زی شروع کی تو اس نے اصول و ضوابط کو اپنے انداز میں مدون کرنا شروع کر دیا۔ اسلام کی وہ تصویر جو حقیقی اور اصلی تصویر تھی دھیرے دھیرے نگا ہوں سے اوجھل ہونا شروع ہو گئی ۔ اسلام میں مذہبی پیشوائیت کی یہی پیوند کاری اسلام کے زوال کا باعث بنی۔ وہ مذہب جو امن اور رواداری کا مذہب تھا اس میں تشدد کا عنصر کیسے شامل ہو گیا ابھی تک حل طلب سوال ہے۔ وہ کون سا لمحہ تھا جب اسلام کے ماننے والوں نے اپنے جیسے دوسرے انسانوں کا لہو بہانے کا فیصلہ کر لیا اور اسے اسلام کی خدمت قرار دے ڈالا۔ پچھلے کئی سالوں سے پاکستان کی گلیاں لہو میں تر بتر ہیں اور یہ سب کچھ اس مذہب کے نام پر ہو رہا ہے جو انسانیت کے لئے حیات بخش تھا اور اس کی فلاح کا ضامن تھا۔القاعدہ اور طالبان دو ایسے نام ہیں جنھوں نے اس فکر کو پروان چڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ علم سے عاری لوگوں اور رجعت پسند حلقوں نے اپنے مخالفین کو خود ہلاک کرنے کی اس سوچ کو اچک لیا اور آج کل بہت سے مذہبی مدرسوں اور سکولوں میں اسی ا ندا ز کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ بہت سے نا عاقبت اندیش اپنے مخالفین کو ذاتی نظریات کے نام پر قتل کرنے میں اسلام کی خدمت تصور کرتے ہیں اور اپنے اس فعل پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ لہوجب گلیوں میں بہنے لگتا ہے اور اس کا بہاﺅ تیزی اختیار کرتا جاتا ہے تو سمجھ لو وہ قوم زوال کی پستیوں میں دھنستی جا رہی ہے۔ انسان کا لہوا اتنا ارزاں نہیں ہے کہ اسے بے دردی سے بہانا شروع کر دیا جائے اسی لئے توخدائے بزرگ و برتر نے اعلان فرما دیا ہے کہ جس نے ایک انسان کا قتل کیا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیااور ہمارے متشدد مذہبی حلقے روز یہ قتل کرتے ہیں اور اسے اسلام کی بالا دستی کا نام دیتے ہیں حالانکہ اسلام سے اس سے زیادہ دشمنی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔لیکن باعثِ حیرت ہے کہ ایسا کرنے والوں کو مجاہدین کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ان کی شدت پسندی پر دادو تحسین کے ڈھنڈورے پیٹے جا تے ہیں اور کو ئی لمحہ بھر کو بھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کر تا کہ جن کی وجہ سے پاکستان دھشت گردی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور جن کے ہاتھ معصوم لوگوں کے لہوسے رنگے ہوئے ہیں وہ مجاہد اور شہید کیسے ہو سکتے ہیں۔
خدا کے گھر اب بنے ہیں مقتل یہ فتنہ گاہیں تباہ کن ہیں ۔۔سرِ کلیسا ہے رقصِ شیطاں کہیں بھی ذکرِ خدا نہیں ہے
کوئی تو مردِ خدا ہی اٹھے جہاں کی کایا پلٹ کے رکھ دے۔۔متاعِ ضربِ کلیمی میری رہینِ حرفِ دعا نہیں ہے
(ڈا کٹر مقصود جعفری )
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

Related Articles

جواب دیں

Back to top button