ادارتی کالم

امت مسلمہ کے زوال کے اسباب

تحریر: عدنان شاہد

مسلمانوں کی تاریخ نااتفاقی، حسد اور طاقت کے حصول کی خاطر لڑائیوں سے بھری پڑی ہے.مسلمانوں کی آپس میں نااتفاقی تمام برائیوں کی جڑ ہے. اللہ تعالی کے واضح احکامات ہیں کہ کسی کو تکلیف مت دو.قرآن پاک کے مطابق انسانوں کے صرف دو گروہ ہیں ایک مسلمان اور دوسرا غیر مسلمان یعنی کہ کافر لیکن ہم مسلمانوں نے خود کو کئی گروپوں یعنی فرقوں میں تبدیل کرلیا ہے.یہ تفرقہ بندی مذہبی، لسانی، سیاسی اور نسلی بنیادوں پہ کی گئی اور آگے پھر ان درجہ بندیوں کے مزید درجے ہیں جو کہ لوگوں کی حیثیت کے مطابق ہیں.صرف حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ سلم کا زمانہ واحد زمانہ ہے جس میں تمام مسلمان متحد تھے اور یہ مسلمانوں کا اتفاق ہی تھا جس کی بدولت انہوں نے اسلام اور مسلمان دشمنوں کو بدر، اُحد، حنین اور خیبر کی جنگوں میں شکست دی.لیکن جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ والہ سلم نے دنیا سے پردہ فرمایا مسلمان مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے.

یہ ایک پریشان کُن حقیقت ہے کہ اس وقت مسلمان حکمران غیر مسلموں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں. مسلمان حکومتیں اپنے چھپے ہوئے دشمنوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی بھائیوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں. اور دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان آپس میں ہی لڑ مر رہے ہیں. اور دنیا کے ایسے ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں وہاں ان کی حالت دگرگوں ہے اور ان کو ذلیل و رسوا کیا جارہا ہے .

دنیا کے قدرتی وسائل کا 60 سے 70 فیصد حصہ بھی مسلمانوں کے قبضہ میں ہے یا کہہ لیں کہ مسلمان ملکوں میں ہے لیکن پھر بھی مسلمانوں کی حالت نہایت خراب ہے. آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس یعنی او آئی سی جس میں اس وقت 57 مسلمان ملک شامل ہے کا کردار بھی کچھ خاص نہیں بلکہ قابل رحم ہے.دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں کا کوئی ایشو سامنے آتا ہے وہاں پہ او آئی سی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے خاموش تماشائی کا کردار نبھاتی ہوئی نظر آتی ہے . جب اس کے برعکس یورپین یونین جس کے ممبر ممالک کی تعداد صرف 27 ہے ان سب کی کرنسی ایک ہے اور ان کا ویزا سسٹم ایک ہے . اور جہاں کہیں ان ممالک کا کوئی بھی مسلہ کھڑا ہوتا ہے یورپی یونین مکمل طور پہ ان کا ساتھ دیتی ہے.جبکہ تمام مسلمان ممالک و مسلمانوں کو پوری دنیا میں دہشت گرد سمجھا جاتا ہے.اور یہ ممالک اپنے جی ڈی پی کا صرف 2.6 فیصد حصہ تعلیم پہ خرچ کررہے ہیں جس وجہ سے یہ تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی میں پوری دنیا سے پیچھے ہیں.

کافر آج بھی اسی پرانے طریقہ کار پہ عمل کررہے ہیں کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑائو ان میں ناتفاقی بڑھائو اور ان پہ حکومت کرو اور کچھ ہمارے اپنے ہی ان کو یہ مقصد حاصل کرنے میں مدد فراہم کررہے ہیں.بعض سامراجی قوتیں خصوصا امریکہ یہی طریقہ کار استعمال کرکے مشرق وسطی کے ممالک کے قدرتی وسائل پہ قبضہ جمانے کا خواہاں ہے.اور مسلمان دنیا بھر کی سب سے زیادہ قدرتی وسائل اور سب سے زرخیز زمین رکھنے کے باوجود ان سامراجی قوتوں کے ہاتھوں ذلیل ہورہے ہیں.اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو سمجھنا ہوگا ورنہ وہ اسی طرح سے تحقیر و تذلیل کا نشانہ بنتے رہیں گے.

اللہ پاک ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو سوچنے سمجھنے کی اور اپنے اور پرائے کو پرکھنے کی توفیق دے. آمین

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button