ادارتی کالم

اقتصادی روابط ہی دو ملکوں کو جوڑ سکتا ہے

ڈاکٹر خواجہ اکرام

نئی دہلی ۔انڈیا

آج کی دنیا کو کئی اعتبار سے پچھلی صدیوں سے الگ تصور کیا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ جب تک  اقتصاد کا نیا تصور سامنے نہیں آیا تھا اس وقت تک کسی بھی ملک کی شناخت اس کی تہذیب اور اس کی تمدنی زندگی سے  ہوتی تھی۔ دنیا کے کئی ممالک آج بھی اپنی تہذیبی رنگارنگی کے سبب ہی جانے جاتے ہیں ۔ لیکن یہ شناخت صرف اس کی امتیاز  ہی نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ  دیگر ممالک پر اثر انداز ہونے کے لیے بھی یہ تہذیبی حوالے بڑے اہم سمجھے جاتے تھے۔لیکن نئی دنیا کے نئے تصورات نے یکسر تمام پیمانوں کو تبدیل کر دیا ہے۔اب کسی بھی ملک کی اہمیت اور اثر و رسوخ اس کے اقتصادی ذرائع اور اقتصادی طاقت کے سبب ہوتی ہے۔اقتصادی  تصوارت نے  موجودہ عہد کی  تصویر ہی  بدل کر رکھ دی ہے۔تمام حوالوں کے لیے اقتصادی   عنصر ہی اہم ہے۔اسی لیے جس کا اقتصاد سب سے مضبوط ہوگا دنیا میں اس کے اثرات سب سے زیادہ مرتب ہوں گے ۔ اسی لیے موجودہ عہد میں کئی ممالک اقتصادی ترقی کے لیے ایک دوسرے سے قریب آرہے ہیں ۔اقتصاد کی اس ہوڑ میں  خطے کے اعتبار سے بھی  کئی ممالک  اپنے روابط استوار کر رہے ہیں ۔لیکن ان تمام کے با وجود انھیں ممالک کا ڈنکا اب بھی جب رہا ہے جس کا اقتصاد سب سے زیادہ مضبوط ہے ۔ کہنے کو یوروپی ممالک کا اس حوالے سے بڑا مضبوط رشتہ ہے ، ان کی کرنسی بھی ایک ہے لیکن کہیں  نہ کہیں وہ امریکہ جیسے طاقتور ملک سے پیچھے ہی رہتے ہیں ۔ ظاہر ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہےکہ امریکہ ہر اعتبار سے ان سے بھی مضبوط ہے ۔لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہےکہ امریکہ اس یونین سے اپنے بہتر روابط  برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ یہ کوشش صرف اس لیے ہے کہ یوروپ کےاتحاد اور اس کے اقتصاد  نے یہ رتبہ عطا کیا ہے۔

ان اقتصادی روابط کو دیکھیں تو کئی خوشگوار پہلو سامنےآتے ہیں ۔ایک تو یہ کہ انھوں نے اتحاد کے ذریعے اپنے ٹورازم کو بڑھاوا دیا ہے اور یہ وہ ممالک ہیں جن کی تہذیبی اور ثقافتی تاریخ ایشیائی ممالک کے اعتبار سے بہت پرانی نہیں ہے ۔لیکن اس کے باوجود دنیاانھیں کی تہذیب  کی دلدادہ ہورہی ہے۔اسی طرح آج کے طاقتور ملک امریکہ کو دیکھیں اس کی تہذیب بھی  بہت پرانی نہیں ہے لیکن ٹورازم کے اعتبار سے اسے جتنا منافع ہوتا ہے وہ ہمارے ایشیائی ممالک کو نہیں ہوپاتا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے جو ممالک اقتصادی اعتبار سے مضبوط ہیں وہ آج کی دنیا کے اعتبار سے نئی تکنالوجی اور نئے اسباب  میں بھی آگے ہیں ، جو نئی نسل کے لیے زیادہ پُرکشش ہیں ۔

ایشیائی ممالک اپنی تہذیب و تمدن کے اعتبار سے بہت مالامال ہیں لیکن موجودہ  دور کے تقاضے سے نسبتاً پیچھے ہیں۔ چند ممالک کو چھوڑ دیں تو  زیادہ تر ایشیائی ممالک اب بھی بہت پیچھے ہیں خاص کر جنوب ایشیا ئی  کے  تو اور بھی پیچھے ہیں ۔ ان کے پچھڑے پن کی ایک  اہم وجہ یہ ہے کہ یہ ممالک یا تو از خود کچھ ایسے تنازعات کے شکار ہیں جن کو حل کرنا مشکل ہے یا انھیں ایسے عالمی سازشوں میں پھنسا دیا گیا ہے کہ وہ اس جال سے نکل ہی نہیں پارہے ہیں ۔ورنہ یوروپی طرز پر اگر ایشیائی ممالک بھی ایک ساتھ مل کر کچھ ایسا سیاسی اور اقتصادی محاذ اور اتحاد بنا لیں تو موجودہ  دنیا میں طاقت کا توازن قائم ہوجائے اور ہر اعتبار سے زندگی میں مفید مطلب تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں ۔لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے اور نہ موجودہ حالات میں ممکن ہے۔

ایشیائی ممالک کے اتحاد میں کئی اہم مسائل حائل ہیں ۔ ان میں سے بیشتر مسائل کی نوعیت جزوی اور ثانوی بھی ہے اور کچھ مسائل  سیاسی مفاد کے پیداوار ہیں۔خاص طور پر جنوبی ایشیا میں دو ممالک ایسے ہیں جو بلا وجہ کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ۔ اگر ان کے مابین اختلافات کم ہوجائیں  تو دنوں ملکوں میں یونہی اقتصادی خوشحالی آسکتی ہے ۔کیونکہ سرحد کی حفاظت کے نام پر دونوں ملکوں میں جو خطیر سرمایہ ضائع ہورہا ہے وہ ملک کی فلاح و بہبود میں استعمال ہوسکتا ہے۔ایک قدم اور آگے بڑھ کر دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی روابط بحال ہوجائیں تو خوشحالی دروازے کھل سکتے ہیں کیونکہ کئی مصنوعات ایسی ہیں جو پاکستان  میں اور کئی مصنوعات ایسی ہیں جو ہندستان میں ہیں اور دونوں کو اس کی ضرورت ہے ۔دوسرے ممالک سے درآمدات اور بر آمدات کے بجائے اگر یہ ہند و پاک سے ہونے لگے تو اس کی قیمت بھی کم آئے گی اور آسانی سے دستیاب بھی ہوجائیں گی ۔ مگر اب تک دشمنی کے نام پر اقتصاد کے یہ دروازے دونوں جانب سے بند ہیں ۔اگر یہ دروزے کھل جائیں تو دونوں ملکوں کا اعتماد بحال ہوگا اور عوام بھی خوشحال ہوگی۔اور جنوبی ایشیا میں یہ نئی طاقت بن کر ابھر سکتے ہیں ۔اور ان کے اثر ورسوخ کا عالم بھی کچھ اور ہوگا۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے روابط بحال نہ ہوں اس کے لیے کئی طاقتیں بھی کام کر رہی ہیں۔ ان سے بھی ہشیار اور کنارہ کش ہونا پڑے گا تبھی یہ ممکن ہے۔

شکر ہے کہ  دونوں  ممالک نے اس کا ادراک کیا ہے ماضی میں جزوی طور پر یہ روابط بحال ہوئے اور ٹوٹ بھی گئے لیکن ابھی  دونوں ملکوں کے مابین اسلام آباد میں اس حوالے سے جو مذاکرات ہوئے ہیں اس سے امید کی ایک کرن جاگی ہے کیونکہ مشترکہ      اعلا میہ میں اس کی اہمیت اور ضرورت کا احساس کرتے ہوئے  یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ دونوں ملکوںکو اقتصادی رشتے ہی مضبوطی سے جوڑ سکتے ہیں ۔اسی لیے اعلامیہ کے مطابق ہندستان  اور پاکستان نے دو طرفہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔اور پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ ہندستان کے ساتھ تعمیری مذاکرات دونوں ممالک کے لیے ضروری ہیں اور اس کے خطے میں استحکام آئے گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہندستان اور پاکستان نے تجارت کو فروغ دینے اور تجارتی معاملات کو حل کرنے کےلیے جوائنٹ ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ورکنگ گروپ کا اجلاس اسی سال جون میں ہوگا اور اس گروپ کی مسلسل نگرانی کی جائے گی جس مقصد کےلیےدونوں ممالک کے سیکریٹری تجارت سال میں دو بار ملاقات کریں گے۔ دونوں ممالک نے نان ٹیرف بیریئر کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے ۔مشترکہ اعلامیہ کے مطابق تاجروں کو ویزا ملنے میں دشواری نہ ہو اس لیے ویزا قوانین میں نرمی کافیصلہ کیا گیا ۔

اور کسٹم قوانین میں نرمی کی جائے گی۔ اجلاس میں تجارت سے متعلق تمام معاملات پر بات چیت ہوئی اور نجی شعبے کو سہولتیں فراہم کرنا دونوں ممالک کی ترجیح میں شامل ہے۔اور مستقبل میں  موناباؤ کھوکھراپار راستے کو کھولنے پر بھی غورکیا جائے گا۔مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف بیریئر ، بجلی اور تیل کی درآمد کے علاوہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت ہندستان کو پاکستان سے راہداری دینے اور دیگر تمام معاملات پر بات چیت ہوئی۔

حالیہ مذاکرت کو اگر عمل میں لایا جائے تو وہ دن دور نہیں کہ ہندستان اور پاکستان آپس میں قریب آتے جائیں اور ایک دوست بن سکتے ہیں ۔ ایسی صورت میں یہ جنوبی ایشیا میں سب سے بااثر چابت ہوں گے اوران ممالک پر میلی آنکھ رکھنے والے نظریں جھانے پر مجبور ہوں گے۔

***

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button