Cricket World Cup|کرکٹ عالمی کپ

کرکٹ عالمی کپ

 

کرکٹ عالمی کپ
Cricket_World_Cup_trophy
عالمی کپ
منتظمانٹرنیشنل کرکٹ کونسل
طرز کرکٹایک روزہ کرکٹ
پہلا1975
آخری2007
طرز ٹورنامنٹمتعدد
مشترکہ ٹیمیں19
موجودہ فاتحFlag of Australia.svg آسٹریلیا
سب سے کامیابFlag of Australia.svg آسٹریلیا (4 مرتبہ)
سب سے زیادہ دوڑیںFlag of India.svg بھارت سچن ٹنڈولکر (1,796)
سب سے زیادہ وکٹFlag of Australia.svg آسٹریلیا گلین میگرا (69)

کرکٹ کا عالمی کپ ایک روزہ کرکٹ کا ایک اہم ٹورنامنٹ ہے جو ہر چار سال بعد منعقد کیا جاتا ہے۔ اس کا اہتمام انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کرتی ہے۔ اس کے شروع ہونے سے پہلے آزمائشی ٹورنامنٹ ہوتے ہیں۔ کرکٹ کے عالمی کپ کو کرکٹ کا سب سے اہم ٹورنامنٹ تصور کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلا عالمی کپ 1975ء میں برطانیہ میں کھیلا گیا۔ 1973ء سے خواتین کا علیحدہ عالمی کپ کھیلا جاتا ہے۔

عالمی کپ دس ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک اور ICC ٹرافی میں اچھی کارکردگی دکھانے والے ممالک کے درمیان کھیلا جاتا ہے۔ اب تک 9 عالمی کپ کھیلے جا چکے ہیں۔ آخری کپ 2007ء میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ آسٹریلیا کی ٹیم سب سے کامیاب ٹیم ہے جو اب تک چار دفعہ فاتح رہ چکی ہے۔ ویسٹ انڈیز دو دفعہ، اور پاکستان، بھارت، اور سری لنکا ایک ایک بار کرکٹ کے عالمی کپ کے فاتح رہ چکے ہیں۔

کرکٹ عالمی کپ 2007ء مارچ 2007ء میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا جس میں 16 ٹیموں نے حصہ لیا۔ فائنل میں آسٹریلیا نے سری لنکا کو ہرا کر چوتھی بار عالمی کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

تاریخ

پہلے کرکٹ عالمی کپ سے پہلے

سب سے پہلا بین الاقوامی کرکٹ میچ امریکہ اور کینیڈا کی ٹیموں کے درمیان 24 اور 25 ستمبر، 4481ء میں کھیلا گیا۔ لیکن سب سے پہلا ٹیسٹ میچ 1877ء میں آسٹریلیا اور برطانیہ کے درمیان کھیلا گیا۔ کرکٹ کو 1900ء کے المپکس کا حصہ بنایا گیا جس میں برطانیہ نے فرانس کو شکست دے کر سونے کا تمغہ جیتا

سب سے پہلا کرکٹ کا ٹورنامنٹ 1912ء میں منعقد کیا گیا جس میں برطانیہ، آسٹریلیا، اور جنوبی افریقہ نے حصہ لیا۔ لیکن وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکا۔ بعد میں جوں جوں کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں کی تعداد بڑھتی گئی توں توں ٹیسٹ کرکٹ کا معیار بڑھتا گیا اور کرکٹ کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ 1960ء تک اسی طرز کی کرکٹ کھیلی جاتی رہی جس میں ٹیمیں ایک دوسری سے تین، چار یا پانچ دن تک کھیلتے رہتے۔

1962ء میں انگلینڈ نے ایک نئی طرز کی کرکٹ متعارف کرائی جس کو آج ہم ایک روزہ کرکٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ کرکٹ ابتدائی طور پر برطانیہ کی کاؤنٹی کی ٹیموں کے درمیان کھیلی گئی جو لوگوں میں کا مقبول ہوئی۔ لیکن یہ کرکٹ دوسرے ممالک کے درمیان شروع کافی عرصے بعد کی گئی۔ پھر 1971ء میں برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والا ٹیسٹ میچ کے دوران خراب موسم کی وجہ سے چار دن تک کوئی کھیل نہ ہو سکا۔ دونوں ٹیموں نے چالیس 40 اوور کی ایک ایک اننگز کھیلنے کا فیصلہ کیا جس میں ہر اوور آٹھ گیندوں پر مشتمل تھا۔ جو کافی پسند کیا گیا۔ ایک روزہ کرکٹ کی مقبولیت دیکھتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سب کرکٹ کھیلنے والی ٹیمون کے درمیان مقابلوں کا فیصلہ کیا جو آج کرکٹ کپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پروڈینشل عالمی کپ

سب سے پہلا عالمی کپ 1975ء میں برطانیہ میں منعقد کیا گیا۔ جو پروڈینشل کپ کے نام سے کھیلا گیا۔ اس میں پہلی مرتبہ سرخ رنگ کی گیند استعمال کی گئی اور پہلی مرتبہ ٹیموں نے رنگ برھنگی لباس پہنا۔ اس میں آٹھ ٹیموں نے حصہ لیا۔ ان میں برطانیہ، آسٹریلیا، پاکستان، بھارت، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز (اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی ٹیمیں) اور سری لنکا اور مشرقی افریقہ کی ٹیمیں شامل تھیں۔

اس میں جنوبی افریقہ کو کھیلنے کی اجازت اپارتھائیڈ کی وجہ سے نہ دی گئی۔ اس میں ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا کو 17 رنز سے شکست دی۔ پہلے عالمی کپ کا فا‎‎ئنل لورڈز کے میدان میں کھیلا گیا۔ ابتدائی تین عالمی کپ برطانیہ میں کھیلے گئے۔

پہلا عالمی کپ

سات سے اکیس جون سنہ انیس سو پچھہتر کے درمیان کھیلے گئے پہلے ورلڈ کپ میں آٹھ ٹیموں نے حصہ لیا تھا جن میں ٹیسٹ سٹیٹس کی حامل چھ ٹیموں ویسٹ انڈیز، انگلینڈ، آسٹریلیا، بھارت، پاکستان اور نیوزی لینڈ کے علاوہ سری لنکا اور مشرقی افریقہ شامل تھیں۔اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں کلائیو لائیڈ کی قیادت میں کھیلنے والی ویسٹ انڈین ٹیم نے آسٹریلیا کو سترہ رنز سے شکست دی۔

دوسرا عالمی کپ

1979 میں کھیلا گیا۔ان مقابلوں کا میزبان ایک مرتبہ پھر انگلینڈ تھا اور اس ٹورنامنٹ میں بھی پہلے ورلڈ کپ کی طرح آٹھ ٹیمیں شریک ہوئیں۔ تاہم آسٹریلیا کی ٹیم اس کے بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل نہیں تھی جبکہ مشرقی افریقہ کی جگہ اس بار کینیڈا کی ٹیم ٹورنامنٹ کا حصہ بنی۔پہلے ورلڈ کی ہی طرح اس ٹورنامنٹ میں بھی میچ کی ہر اننگز ساٹھ اوورز پر مشتمل تھی۔ ان مقابلوں کو شائقین کی عدم دلچسپی اور خراب موسم کا بھی سامنا رہا۔اس بار فائنل میں دفاعی چیمپیئن ویسٹ انڈیز اور میزبان انگلینڈ کی ٹیمیں مدِ مقابل آئیں اور ویوین رچرڈز کی شاندار سنچری اور جوئیل گارنر کی عمدہ بالنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز نے بانوے رنز سے میچ جیت کر اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا۔

تیسرا عالمی کپ

1983 میں کھیلا گیا۔ان مقابلوں میں بھی آٹھ ٹیمیں شریک ہوئیں جن میں نئے نئے ٹیسٹ سٹیٹس کی حامل سری لنکا کے علاوہ آئی سی سی ٹرافی کی فاتح زمبابوے کی ٹیم بھی شامل تھی۔بھارتی ٹیم نے کپل دیو کی قیادت میں اس ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سیمی فائنل میں میزبان انگلینڈ کو ہرانے کے بعد فائنل میں فیورٹ ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا۔یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ ویسٹ انڈیز کے علاوہ کوئی ٹیم یہ عالمی مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

چوتھا عالمی کپ

سنہ انیس سو ستاسی کا کرکٹ ورلڈ کپ پہلی مرتبہ انگلینڈ سے باہر منعقد کیا گیا اور اس بار میزبانی کا شرف بھارت اور پاکستان کے حصہ میں آیا۔برصغیر میں دن میں روشنی کے اوقات میں کمی کی وجہ سے پہلی مرتبہ اننگز کا دورانیہ ساٹھ اوورز سے کم کر کے پچاس اوورز کر دیا گیا۔ اسی ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ غیر جانبدار امپائر متعارف کروائے گئے۔ٹورنامنٹ کے میزبان ممالک بھارت اور پاکستان مقابلوں کے سیمی فائنل مرحلے تک تو پہنچے مگر وہاں انہیں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کلکتہ کے ایڈن گارڈنز میں کھیلے جانے والے فائنل میں آسٹریلیا نے سخت مقابلے کے بعد انگلینڈ کو سات رنز سے شکست دے کر پہلی مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیتا۔

پانچواں عالمی کپ

تفصیلی مضمون کے لئے دیکھیے کرکٹ عالمی کپ 92 پانچواں کرکٹ عالمی کپ 22 فروری سے لیکر 25 مارچ 1992 تک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے میدانوں پر کھیلا گیا جوکہ پاکستان نے فائنل میں انگلستان کو 22 دوڑ سے ہرا کر جیتا۔ اس ورلڈ کپ میں کل نو ٹیموں نے حصہ لیا اور فائنل ملا کر 39 مقابلے کھیلے گئے۔

چھٹا عالمی کپ

سنہ انیس سو چھیانوے کے ورلڈ کپ کی میزبانی ایک مرتبہ پھر برصغیر کے حصے میں آئی اور اس مرتبہ ٹورنامنٹ پاکستان، بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ طور پر منعقد ہوا۔اس ٹورنامنٹ میں کل بارہ ٹیمیں شریک ہوئیں جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ متحدہ عرب امارات، کینیا اور ہالینڈ کو ان مقابلوں میں شرکت کا موقع ملا۔لاہور میں ہونے والے فائنل میں اروندا ڈسلوا کے 124 گیندوں پر 107 رنز نے آسٹریلیا کے خلاف سری لنکا کو ایک بڑی فتح دلوا دی اور یوں وہ ٹورنامنٹ جیتنے والا پہلا میزبان ملک بن گیا۔

ساتواں عالمی کپ

1999 میں منعقد ہوا۔س مرتبہ کرکٹ ورلڈ کپ چار برس کے وقفے کی بجائے تین برس کے بعد منعقد ہوا اور اس کی میزبانی سولہ برس بعد ایک مرتبہ پھر انگلینڈ کے حصے میں آئی۔یہ ٹورنامنٹ راؤنڈ رابن اور ناک آؤٹ سسٹم کے تحت کھیلا گیا اور اس میں ٹیسٹ اور ون ڈے سٹیٹس کی حامل نو ٹیموں کے علاوہ آئی سی سی ٹرافی ٹورنامنٹس کی فاتح بنگلہ دیش، سکاٹ لینڈ اور کینیا کی ٹیمیں شریک ہوئیں۔یہ ٹورنامنٹ اپنے اس سیمی فائنل کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا جب آسٹریلیا کے خلاف میچ میں جنوبی افریقہ کے ایلن ڈونلڈ ایک رن نہ بنا سکے اور رن آؤٹ ہو گئے۔ یہ میچ ٹائی ہوا لیکن آسٹریلیا بہتر ریکارڈ کی وجہ سے فائنل میں پہنچ گیا جہاں اس نے پاکستان کو یکطرفہ مقابلے کے بعد ہرا کر دوسری بار یہ ٹورنامنٹ جیت لیا۔

آٹھواں عالمی کپ

2003 میں منعقد ہوا۔نئی صدی کے پہلے اور مجموعی طور پر آٹھویں ورلڈ کپ کی میزبانی مشترکہ طور پر جنوبی افریقہ، زمبابوے اور کینیا کے حصے میں آئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ یہ عالمی مقابلے براعظم افریقہ میں منعقد ہوئے۔نو فروری سے چوبیس مارچ تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں دو گروپس میں تقسیم کی گئی چودہ ٹیمیں شامل تھیں جنہوں نے چوّن میچوں میں حصہ لیا۔ یہ ٹورنامنٹ بھی راؤنڈ رابن اور ناک آؤٹ سسٹم کے تحت کھیلا گیا۔اس ٹورنامنٹ کے دوران انگلینڈ نے زمبابوے میں اور نیوزی لینڈ نے کینیا میں کھیلنے سے انکار کیا۔دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا نے اس ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی دکھائی اور ایک مرتبہ پھر فائنل تک رسائی حاصل کی جہاں رکی پونٹنگ کے دھواں دار 140 رنز نے انڈیا کو کچل ڈالا اور یوں آسٹریلیا تین مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیتنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔

نواں عالمی کپ

2009 میں منعقد ہوا۔ نویں ورلڈ کپ کا میزبان پہلے دو ورلڈ کپ مقابلوں کا فاتح ویسٹ انڈیز بنا۔ تیرہ مارچ سے اٹھائیس اپریل تک جاری رہنے والے ان مقابلوں میں کل سولہ ٹیمیں شریک ہوئیں جنہیں چار گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ہرگروپ میں سے دو بہترین ٹیموں نے سپر ایٹ مرحلے میں جگہ بنائی اور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور سری لنکا کی ٹیمیں سیمی فائنل مرحلے میں پہنچیں۔ماضی میں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل مرحلے سے آگے بڑھنے میں ناکام رہنے والی نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں اس بار بھی اس مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکیں اور 2007 ورلڈ کپ کا فائنل میچ ٹیموں کے لحاظ سے سنہ 1996 کے فائنل کا ری پلے ثابت ہوا۔تاہم اس بار نتیجہ سنہ چھیانوے کے ورلڈ کپ سے الٹ رہا اور آسٹریلیا نے اٹھائیس اپریل کو کنزنگٹن اوول میں کھیلے گئے فائنل میں سری لنکا کو چھ وکٹ سے ہرا کر لگاتار تیسری بار اور مجموعی طور پر چوتھی مرتبہ یہ مقابلے جیت لیے۔

دسواں ورلڈ کپ

فروری 2011 میں منعقد ہوگا۔ جس کی میزبانی پاکستان ، سری لنکا ، ہندوستان، بنگلہ دیش کے حصے میں آئی ہے۔ مگر ناسازگار حالات کی وجہ سے پاکستان میں کھیلے جانے والے میچز ہندوستان ، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں منتقل کر دئیے گئے ہیں۔

 

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button