وکی لیکس نوبل انعام کے لیے نامزد

 

2011ء کے نوبل انعام کی فہرست میں وکی لیکس، اس کے علاوہ بطور ذرائع ابلاغ انٹرنیٹ، اور روس میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ مرتبہ پہلی ہے کہ امن کے نوبل انعام کی فہرست میں241 نام شامل ہیں۔

 

ناروے میں نوبل کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس سال امن کے نوبل انعام کے حوالے سے جو فہرست تیار کی گئی اس میں53 تنظیمیں جبکہ188 افراد کو ان کی انفرادی کوششوں کی وجہ سے شامل کیا گیا ہے۔ اس میں وکی لیکس کے علاوہ عرب ملک میں جمہوریت کے لیے چلائی جانی والی تحریکوں سے منسلک افراد بھی شامل ہیں۔ کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ فہرست ہر سال طویل ہوتی جا رہی ہے۔’’گزشتہ برس237 نامزدگیاں تھیں اور اس سال 241 ہیں‘‘۔وکی لیکس نے امریکی خفیہ دستاویزات منظرعام پر لانے کے بعد دنیا بھر کی توجہ حاصل کی تھی

نوبل کے امن انعام کی فہرست میں افغانستان میں انسانی حقوق کی کارکن سیما سمر، سابق جرمن چانسلر ہیلموٹ کوہل، کیوبا میں حکومت کے ناقد اوسوالدو زاردیناس اور روس میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم سویتلانا گانوشکنا کے نام موجود ہیں۔

نوبل کمیٹی کے سربراہ نے مزید بتایا کہ مصر، تیونس اور لیبیا کی صورتحال کے حوالے سے چند نامزدگیاں کی گئی ہیں۔ جن افراد کو اس کمیٹی کی جانب سے نامزد کرنے کا اختیار کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی شخص یا ادارے کو نامزد کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی نامزدگی کے حوالے سے یہ باتیں کی جا رہی ہیں کہ اگر انٹرنیٹ کو امن کے نوبیل انعام کا حقدار قرار دیا جاتا ہے تو یہ انعام وصول کون کرے گا؟

وکی لیکس نے امریکی خفیہ دستاویزات منظرعام پر لانے کے بعد دنیا بھر کی توجہ حاصل کی تھی۔ اسی طرح چند ماہرین نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ، فیس بک اور ٹویٹر کو بھی امن کا نوبیل انعام دیا جاسکتا ہے۔ امن کا نوبل انعام جیتنے والے کے فیصلے کا اعلان اکتوبر کے اوائل میں کیا جائے گا، جب کہ دسمبر کی دس تاریخ کوانعام دیا جائے گا۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو ڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button