میڈیا انڈسٹری میں بھی مردوں کی اجارہ داری


 

طویل عرصے تک بوائز کلب کہلانے والی ذرائع ابلاغ کی دنیا میں اب بھی مردوں کی اجارہ داری ہے۔ ایک تازہ جائزے کے مطابق دنیا بھر میں اب بھی متعدد نیوز رومز میں صنف نازک کو مناسب نمائندگی حاصل نہیں۔

 

انٹرنیشنل وومنز میڈیا فاؤنڈیشن نے دنیا کے 59 ممالک کے 500 صحافتی اداروں کا ایک جائزہ پیش کیا ہے۔ اس میں میڈیا کی صنعت  سے وابستہ  لگ بھگ دو لاکھ افراد کے پیشہ ورانہ امور کو پرکھا گیا اور دفاتر میں خواتین کی نمائندگی معلوم کی گئی۔ دو سالہ اس محنت سے ثابت ہوا کہ میڈیا میں اعلیٰ انتظامی عہدوں، اشاعت، رپورٹنگ، ادارت، فوٹو جرنلزم، اور براڈ کاسٹنگ میں خواتین کو مردوں کے مساوی نمائندگی حاصل  نہیں۔

تفصیلات  کے مطابق رپورٹنگ کے شعبے میں دو تہائی تعداد مرد صحافیوں کی ہے جبکہ ایک تہائی نمائندگی خواتین کو حاصل ہے۔ اس کے برعکس ادارت جیسے شعبوں میں خواتین کی نمائندگی قدرے بہتر ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں میڈیا کی انڈسٹری میں بڑی تعداد میں خواتین آئیں تاہم اعلیٰ انتظامی عہدوں پر اب بھی مردوں کو زیادہ نمائندگی حاصل ہے۔

دلچسپ حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک سمیت دنیا کے 20 ممالک میں خواتین کو اس شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے ایک نظر نہ آنے والی رکاوٹ کا سامنا ہے۔

انٹرنیشنل وومنز میدیا فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر لیزا گروس کے مطابق جن ممالک میں خواتین کو میڈیا کے شعبے میں بہتر نمائندگی حاصل ہے وہاں جنسی برابری کو یقینی بنانے کے لیے قوانین موجود ہیں۔ اس رپورٹ کی اہمیت یوں بھی زیادہ ہے کہ رواں  ہفتے بین الاقوامی میڈیا سے وابستہ اعلیٰ عہدیدار واشنگٹن میں انٹرنیشنل ویمن میڈیا لیڈرز  کانفرنس میں شریک ہورہے ہیں۔

انٹرنیشنل وومنز میدیا فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق جاپان کے نیوز  چینلز میں مرد و خواتین کا تناسب چھ ایک ہے جبکہ جنوبی افریقہ میں 80 فیصد اعلیٰ انتظامی عہدوں پر  خواتین تعنیات ہیں۔ ایک اور نکتہ یہ سامنے آیا ہے کہ بظاہر مردوں کی اجارہ داری کی وجہ سے رپورٹنگ میں بھی اکثر اوقات مردوں کو ہی ذرائع کے طور پیش کیا جاتا ہے۔

 

بشکریہ ڈی ڈبلیوڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button