مبارک !تیرے جانے سے ہم لٹ گئے ہیں

تحریر: عبدالجلیل منشی
مصر میں حسنی مبارک کے تیس سالہ اقتدار کے اختتام کے ساتھ ہی اسرائیل کے سیاسی ایوانوں میں کھلبلی مچ چکی ہے اور صیہونی پالیسی ساز ادارے نئے سرے سے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مبارک کے بغیر مشرق وسطی میں اسرائیل کی پوزیشن کیاہوگی اورآیا آنے والی منتخب مصری حکومت مصر اور اسرائیل کے مابین کئے گئے معاہدوں کی پاسداری کرے گی یا نہیں اس ضمن میں سب سے زیادہ اہمیت کے حامل کیمپ ڈیوڈ کے دو معاہدے ہیں جن پراس وقت کے مصر کے صدر انوار السادات اور اسرائیلی وزیر اعظم مناہیم بیگن نے کیمپ ڈیوڈ میں بارہ روزہ جاری رہنے والی خفیہ بات چیت کے کامیاب اختتام پر امریکی صدر جمی کارٹر کی گواہی پروہائٹ ہاوس میں ۷۱ ستمبر ۸۷۹۱ءکو دستخط کئے تھے
پہلا معاہدہ صحرائے سینا ءسے اسرائیلی افواج کے انخلاءاور مصر اور اسرائیل کے درمیان پائیدارامن کے قیام سے متعلق تھا جبکہ دوسرے معاہدے کی رو سے ایک ایسے نظام کا قیام عمل میں لانا تھا جس کے زریعے اس وقت کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں غزہ اور مغربی کنارہ (ویسٹ بنک)میں ایک خودمختار حکومت کے قیام کے سلسلے میںفلسطینیی قیادت کے ساتھ مذکرات کئے جاسکیں
اس معاہدے کی رو سے اسرائیل اس امر پر راضی ہو گیا تھا کہ وہ مصر کو تین سال کے اندر اندر صحرائے سینا ءکا تمام علاقہ واپس کردیگا اور مصر اور فلسطین کے درمیان قائم بین الاقوامی سرحدوں پر لوٹ جائیگااسکے علاوہ سینا ءمیں قائم تمام یہودی بستیوں کو ختم کردیاجائیگا اورسیناءسے اپنی افواج اور شہریوں کو اپنی نئی قائم شدہ حدود میں لے جایا جائےگا اس کی قیمت مصر کو اسرائیل کو تسلیم کرکے چکانا پڑی نیز فلسطینوں کے حق خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے اصولی موقف سے مصر کو پسپا ہونا پڑااسکے علاوہ اسرائیلی وزیر اعظم مناہم بیگن کے غزہ اور مغربی کنارے سے متعلق تیار کردہ خود مختاری کے منصوبے کو بھی (جو کہ فلسطینیوں کے حقوق خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کے برخلاف تھا) بے چوں وچراں قبول کرنا پڑا۔urdusky-writer-12
اس معاہدے کی تکمیل سے اسرائیل کی مصر کے ساتھ صحرائے سینا کی سرحد محفوظ ہو گئی اور اسرائیل کو مصر کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کا خطر ہ بھی باقی نہ رہا۔اس معاہدے میں شامل فلسطینیوں کے مسائل کے حل کے سلسلے میں جواصولی موقف طے ہوا تھا اس پر دونوں پارٹیوں میں سے کسی نے بھی عمل نہ کیا اور مصر اسرائیل کو تسلیم کرکے اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور ایک آزادانہ ریاست کے قیام کے اپنے اصولی موقف سے بھی دست بردار ہوگیا
۶ اکتوبر ۱۸۹۱ءکو انوار السادا ت کے قتل کے بعد حسنی مبارک نے جو اس وقت مصر کے نائب صدر تھے ۴۱ اکتوبر ۱۸۹۱ءکو مصر کے چوتھے صدرکی حیثیت سے اقتدار سنبھالااپنی تقریب حلف برداری سے خطاب میں حسنی مبارک نے سادات سے اپنی مکمل وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے انکے اصولوں اور تمام معاہدوں ، خصوصا کیمپ ڈیوڈمعاہدوں، کی پاسداری کا یقین دلایا تھا
حسنی مبارک اپنے آقا (سادات) سے بڑھ کر اسرائیل اور خطے میں اسکے مفادات کے وفادار رہے اسرائیل کی حکومت نے مصر کے ساتھ کئے گئے کیمپ ڈیوڈ معاہدے او ر اسکے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان استوار ہونے والے تعلقات کو دفاعی اور قومی سلامتی کے نقطہءنظر سے ہمیشہ ایک سنگ میل کی حیثیت دی ہےاسرائیلی راہنماءاس بات کا اچھی طرح ادراک رکھتے تھے کہ معاہدے کی رو سے اگر وہ خطے میں کسی طاقت سے (مصر کے علاوہ)برسرپیکار ہوتے ہیں،یہودی بستیاںتعمیر کرتے ہیں یا کسی اور محاذ پر امن کی بات چیت کرتے ہیں ہرحال میں مصر کی سرحدوںسے وہ محفوظ رہیں گے اور انکے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کاروائی نہیں کی جائے گی اور دونوں ملکوں کے مضبوط تعلقات کی بنیادوں میں کسی قسم کی دراڑ پیدا نہیں ہو سکتی
مبارک کے اقتدار سے ہٹنے سے مشرق وسطی میں اور خصوصا اسرائیل میں بے یقینی کی ایک نئی سیاسی فضا قائم ہوئی ہے خطے میں مبارک کی طرح طویل ترین اقتدار کوئی انہونی اور نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے شام کے صدر حافظ اسد مبارک کی مانند تیس برس تک اقتدار پر قابض رہے۔ اردن کے شاہ حسین نے چالیس سال تک حکومت کی اور یاسر عرفات نے بھی چالیس سال تک فلسطینیوں کی نمائندگی کی ۔مگر شاہ حسین اور اسد نے اقتدار اپنے بیٹوں کو منتقل کیاجبکہ عرفات کی جگہ پر انکے نائب محمود عباس متمکن ہوئے جو کہ تا دم تحریر فلسطینی اتھاریٹی کے صدر ہیںاور ان تینوں کے اقتدار میں آنے سے اسرائیل کو کسی قسم کی پریشانی اور سیاسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا
مگرمصرکا معاملہ بالکل الٹ نکلا نہ ہی حسنی مبارک نے نہ اسرائیلی راہنماوں نے کبھی خواب میں یہ بات سوچی تھی کہ یوں اچانک ہی مبارک کے ہاتھ سے اقتدار چھن جائے گا اور مصرکے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی سیاسی اور دفاعی عدم استحکام کا شکار ہو جائےگامصر میںفوج کی سپریم کمانڈ کونسل جس نے ملک کی عبوری حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی ہوئی ہے عوام اور بین الاقوامی برادری کو اس بات کی یقین دہانی کرا رہی ہے کہ وہ وقت پر انتخابات کروا کر اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کردے گی مگر ان جنرلوں کو بھی اس بات کا پختہ اندازہ نہیں ہے کہ انکا یہ وعدہ کب پورا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس قسم کے انقلابات کے بعدملک کو جمہوری راہ پر گامزن ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں، خصوصا پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایوب خان کے مارشل لاءسے لے کر پرویز مشرف کے اقتدار پر قابض ہونے تک جمہوریت کی بحالی میں کتنا عرصہ لگ گیااور بدقسمتی سے ملک میں ایک مستحکم جمہوریت پنپ ہی نہ سکی
مبارک کے اقتدار سے ہٹنے کے فورا بعد اسرائیلی پارلیمنٹ نے اپنے فوجی بجٹ میں ۰۴۱ ملین یورو کا اضافہ کردیا۔ مبارک کے استعفے سے ایک روز قبل تک اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتنیاہو نے مبارک کا اقتدار بچانے کی بھر پور کوشش کی جو کہ مصری عوام کے بپھرے ہوئے طوفان کے سامنے بار آورثابت نہ ہوسکی اس دوران اس نے اپنے بد ترین خدشات کا اظہار کر دیا تھا کہ اگر مبارک کا اقتدار برقرار نہ رہ سکا تومصر کے ساتھ کئے گئے امن کے معاہدے مٹی کا ڈھیر ثابت ہوسکتے ہیں
کیمپ ڈیوڈ کے معاہدوں کے بعد اسرائیل نے مصر کے ساتھ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا لیا تھا اور صحرائے سینا ءسے نہ صرف اپنی فوج کو ہٹالیا تھا بلکہ مصر کےساتھ مزید فوجی مہمات کا خطرہ نہ ہونے کے باعث اس نے اپنے صحرائی دستوں کو غیر فعال کردیا تھا اور کسی بھی قسم کی صحرائی جنگی مشقیں نہ ہونے کے برابر تھیںاب مصر میں ہونے والی سیاسی تبدیلی نے اسرائیل کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنی فوجی اور جنگی حکمت عملی میں تبدیلی لائےسینا ءمیں مصر کے ساتھ اسرائیلی سرحد کے غیر محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ مصر کی غزہ کے ساتھ رفح کی سرحد بھی انتہائی غیر محفوظ ہوچکی ہے اور اس سرحد کے زریعے مصر سے ہر قسم کا اسلحہ اسمگل ہوکر غزہ پہنچ سکتا ہے جو کہ اسرائیل کی سیکیوریٹی کے لئے شدید خطرے کا باعث بن سکتاہےاسرائیل کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ مصر کا انقلاب اپنا رخ اردن اور شام کی طرف کر سکتا ہے ایسی صورت میں اسرائیل کی اردن اور شام کے ساتھ مشرقی اور شمالی سرحدیں بھی غیر محفوظ ہوسکتی ہیں
اس میں کوئی شک نہیں کہ مبارک کی حکومت نے ایران، حماس اور حزب اللہ کی شکل میںا سرائیل کو درپیش عظیم سیکیوریٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے سلسلے میں بہت قریبی تعاون کیا ہےمبارک کی حکومت نے غزہ میں قائم حماس کی حکومت کو الگ تھلگ کرنے کے لئے غزہ کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کردیا اور غزہ کے اسرائیلی محاصرے کے دوران بھی غزہ کی سرحد مکمل طور پر بند رہی جس سے غزہ کے فلسطینیوں کو خوراک اور ادویات کے حصول میں بے تحاشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا
مبارک نے اسرائیل اور فلسطینی اتھاریٹی کے درمیان امن مذاکرا ت کے سلسلے میں ایک بروکر کا کردار ادا کیا ہے یہ الگ بات ہے کہ ان مذاکرات میں اس نے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں سے زیادہ اپنے اسرائیلی حلیفوں کے حقوق کا خیال رکھا اور انکی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیااوراسی لئے اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم شمعون پیریز نے یوروپی پارلیمنٹ کے ایک وفد کے تل ابیب کے دورے کے موقع پر اس بات کا برملا اظہار کیا تھا کہ امن کے قیام کے سلسلے میں مبارک کا کردار ناقابل فراموش ہے
مصر میں اسرائیل کے سابق سفیر زاوی مازل کا کہناہے کہ مبارک کے بعد مصر نے عرب دنیا مےںاپناوہ تشخص کھو دیا ہے جو مبارک کے دم سے قائم تھااور اب اسکی غیر موجودگی میں ترکی اور ایران اپنا سر ابھار رہے ہیں مبارک نے خطے میں موجود ممالک اور اسرائیل کے درمیان ایک توا زن برقرار رکھا ہوا تھا جو اب اپنا وجود کھو چکا ہے اور ہم بڑی مشکلات کا شکار ہونے جارہے ہیں
علاوہ ازیں موجودہ صورتحال میں اسرائیل مصر کے ساتھ اپنے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے بھی واضح خدشات کا شکار ہے کیوں کہ کیمپ ڈیوڈ معاہدوں کے بعد سے اسرائیل کے طویل ترین باہمی تعلقات مصر کی حکومتوں کے ساتھ تھے نہ کہ مصر کی عوام کے ساتھ مصر کی عوام کے دلوں میں موجزن اسرائیل مخالفانہ جذبات مبارک کے تیس سالہ دور اقتدار میں مسلسل پروان چڑہتے چڑہتے اب ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکے ہیں اوریہ لاوا کسی بھی وقت پھٹ کر اسرائیل کے لئے مزید مشکلات کا سبب بن سکتا ہے خصوصا اگرآئندہ انتخابات کے دوران اخوان المسلمین کامیاب ہوکر حکومت کا حصہ بنتے ہیں تو انکی تمام تر ہمدردیاں اور عملی اقدامات فلسطینیوں کے حق میں ہونگے اور اسرائیل کے ساتھ مصر کے تمام معاہدے بھی منسوخ ہوسکتے ہیں، نہر سوئز میں اسرائیل جہازرانی متاثر ہوسکتی ہے اور اسرائیل کی مصر کو برآمد ا ت رک سکتی ہیں
صحرائے سیناءمیں موجود قدرتی گیس کی پائپ لائن جس کے زریعے مصر کی قدرتی گیس اردن اوراسرائیل کو سپلائی ہوتی ہے محفوظ نہیں ہے ۵ فروری کومصر۔اردن گیس پائپ لائن کو سبوتاز کیا گیا جسکی وجہ سے اسرائیل کو گیس کی سپلائی متاثر ہوئیاسرائیل میں ۰۴ فیصد بجلی کی پیداوار گیس کے زریعے ہوتی ہے جسکا کچھ حصہ وہ اپنی نئی دریافت شدہ سمندری گیس فیلڈ سے حاصل کرتا ہے مگر اسکے باوجودآدھے سے زیادہ حصہ وہ مصر سے درآمد کرتا ہےاسرائیل کو یہ خطرہ ہے کہ اگر مصر میں اسلام پسند عناصر کی حکومت قائم ہوتی ہے تو وہ اسرائیل کو گیس کی سپلائی روک دینگے اور اگر کسی سبب سے یہ سپلائی جاری رہی تو غزہ کی سرحد سے فلسطینی گروپس کی دراندازی اور صحرائے سیناءمیں سر اٹھانے والے قبائلیوں کی سورش اس سپلائن لائن کے لئے مستقل خطرہ ثابت ہوسکتی ہے اسی لئے مبارک کے اقتدار سے علیحدہ ہوتے ہی اسرائیل نے ۸۷۹۱ءکے معاہدے کے بموجب سیناءسے کنارہ کشی کے بعد پہلی مرتبہ مصر کی دو بٹالین فوج کو صحرائے سیناءمیں داخل ہونے اور اسکا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دیدی تاکہ وہ ایک طرف گیس لائن کو ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھ سکے تو دوسری طرف غزہ کی سرحد سے فلسطینیوں کی دراندازی کا سدباب کرسکے
خطے میں ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت بھی ا سرائیل کے سر پر ایک تلوار کی طرح لٹک رہی ہے وہ کئی بارایران کے ایٹمی پلانٹ پر حملے کا عندہ دے چکا ہے مگر غالبا امریکہ کی جانب سے گرین سگنل نہ ملنے کے باعث اپنی اس دیرینہ خواہش کو عملی جامہ پہنانے سے قا صر رہا اور اب اسکا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر یوں نہیں آرہا کہ مبارک کے بعد مصر میں ایک ہم خیال حکومت کی غیر موجودگی میں اسرائیل کسی بھی طور ایران پر فضائی یا میزائل حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے
مبارک کے اقتدار سے جانے کے بعد مصر کا خطے کے حکمرانوں پر اثر ورسوخ ختم ہو چکا ہے اور ایران اپنا اثر ورسوخ بڑھا رہا ہے گزشتہ دنوں مبارک کی حکومت گرنے کے بعد پچھلے تیس سالوں کے دوران پہلی بار ایران کے جنگی جہاز نہر سویز پار کرتے ہوئے شام کی لاذقیہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوئے جس پر اسرائیل نے کافی واویلا مچایااور اس دورے کو اشتعال انگیز قرار دیا ایران کا کہنا ہے کہ اسکے یہ جہاز شام
میں تربیتی مشن پر آئے ہوئے ہیں
بعض مبصرین اور سیاسی اور دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے دوجنگی جہازوں کو سویز کی آبی گزرگاہ سے گزار کر موجودہ مصری حکومت کا اسرائیلی تعلقات کے حوالے سے امتحان لیا ہے ایرانی حکام یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آیاموجودہ ملٹری عبوری حکومت مبارک کی مغرب نواز پالیسیوں پر گامزن ہے یا اس میں تبدیلی واقع ہوئی ہےان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح ایران نے یہ اشارہ دینے کی کوشش بھی کی ہے کہ بوقت ضرورت وہ خطے میں موجوداپنے سیاسی اورنظریاتی حلیفوں کو عملی مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے جن میں شام کی حکومت، غزہ میں ایران کے ہمنوا حماس مومنٹ اور لبنان میں حزب اللہ شامل ہیں
اس سارے سیاسی دنگل اور اسکے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے اسرائیل حکومت کے ارباب اختیار اس نتیجے پر پہونچے ہیں کہ امن کے معاہدوںکو صرف حکومتوں کے مابین ہی نہیں ہونا چاہئے بلکہ جن ممالک کے ساتھ معاہدے کئے جائےںانکی عوام کو بھی ان فیصلوں میں شامل کیا جانا چاہئے اور تمام معاہدوں کومکمل حفاظتی انتظامات کے زریعے مضبوط بنانا چاہیے اسلئے کہ صرف معاہدے اکیلے استحکام کے ضامن نہیں ہوتے اور کبھی کبھار کشتیاں ساحل پر پہنچ کر بھی ڈوب جاتی ہیں

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button