لیبیا نیا صلیبی میدان جنگ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تحریر :۔ محمد احمد ترازی

امریکہ کی خود سری کوئی نئی بات نہیں،روس کی شکست و ریخت کے بعددنیا کی واحد سپر پاور ہونے کی وجہ سے اُس نے خود ہی یہ استحقاق حاصل کرلیا ہے کہ وہ دنیا کے 190سے زائد ممالک میں جہاں چاہے اور جب چاہے اپنی مرضی ومنشا اور پسند کی حکومتیں تخلیق کرسکتاہے،امریکہ دنیا میں جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار اور عوام کے بنیادی حقوق کا چیمپئن بنتا ہے،ایک روشن خیال عالمی طاقت ہونے کیلئے وہ دنیا کو یہ تاثر بھی دیتا ہے کہ دنیا کے ممالک میں جمہوری نظام کار فرما ہو ،عوامی حقوق کی پاسداری ہو اور عوام خود اپنی آزادانہ رائے سے اپنے حکمرانوں کا انتخاب کریں ۔

لیکن دوسری طرف نظریہ ضرورت کے تحت وہ کسی بھی طرح کی حکومت کو سند جواز عطا کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتا ہے،اپنے تئیں حاصل اِس استحقاق کی وجہ سے اُس کی گڈ لسٹ میں جمہوری،فوجی،شاہی ،موروثی اورآمرانہ ہر قسم کی حکومتیں شامل ہیں،کسی بھی ملک کیلئے امریکہ کے سیاسی حرم میں جگہ پانے کی واحد شرط یہ ہے کہ وہ امریکہ کی کاسہ لیس ہو،اُس کی عظمت کے قصیداں خواں ہو،اُس کے سامراجی عزائم کے پاسباں ہو اور اپنے ملک کے عوام کے جذبہ و احساس کو کچل کرامریکی حکمرانوں کی ہدایات پر عمل کرنے والی ہو،جو حکومتیں اِس شرط پر پوری نہیں اترتی وہ جمہوریت دشمن،دہشت گردوں کی سرپرست،امن عالم کیلئے خطرہ اور امریکی دربار میں معتوب قرار پاتی ہیں ۔urdu-writer

جنھیں امریکہ حرف غلط کی طرح مٹانے کے درپے ہوجاتا ہے،سچ ہے جب رعونت اپنی انتہا پر پہنچ جائے تو خوں آشام طاقتیں الفاظ کے معنی و مفہوم ہی بدل دیتی ہیں،آج امریکہ نے جس چیز کو دہشت گردی کا نام دے رکھا ہے اوروہ جس آزادی ،جمہوریت اور انسانیت کا علمبردار ہے اُس کے خونی نقوش سے چین ،کوریا،گوئٹے مالا، کیوبا، کانگو، پیرو،لاؤس،ویتنام،کمبوڈیا،گرینیڈا،نکاراگوا،پنامہ،یوگوسلاویہ،انڈونیشیا،لبنان،ایران،الجزائر، سوڈان سے لے کر عراق اور افغانستان کے درودیوار رنگین ہیں ۔

جمہوریت،آزادی او ر انسانی اقدار کے خلاف اکیسویں صدی کی پہلی عالمی جنگ شروع کرنے والے امریکہ نے گذشتہ 136سالوں میں ایک کے سوا کوئی بھی جنگ اپنی سرزمین پر نہیں لڑی،ہمیشہ اُس نے اپنی لامحدود عسکری طاقت اورجدید ترین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کمزورملکوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا،آج امریکہ لیبیا کی تباہی و بربادی کے درپے ہے،لیبیا پر حالیہ بمباری اور تباہ کاری کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہاں کرنل معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ کرکے عراق اور افغانستان کی طرح ایک ایسی کٹ پتلی حکومت قائم کی جائے جو امریکی مفادات کی نگہبان اور اُس کے اشاروں پر ناچنے والی ہو ۔

آج امریکہ کا نظریہ ضرورت پھر حرکت میں ہے،امریکہ اور اُس کے مغربی اتحادیوں کی لیبیا میں قذافی فورسز پرچڑھائی جاری ہے،لیبیا پر آتش و آہن کی بارش ہورہی ہے اور یہ سب کچھ امریکہ کی رکھیل اقوام متحدہ کی چھتری تلے کیا جارہا ہے،اقوام متحدہ امریکہ اور اُس کے اتحادی یورپی ممالک کے تابعدار ادارے کا کردار ادا کررہی ہے،یہ سب کچھ امریکہ کے نام نہاد امن اور عافیت کے اعلیٰ اصولوں کی کارفرمائی کیلئے ہورہا ہے ،انسانی حقوق کی سربلندی اور دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے مصروف جہاد امریکہ کی عسکری قوت سے اٹھنے والے شعلے ابھی سرد نہیں ہوئے ۔

حالانکہ دنیا کے مختلف خطوں اور ممالک میں بھی حکمرانوں اور اُن کے مخالفوں کے درمیان تصادم جاری ہے،لیکن ہدف صرف لیبیا بنا ہوا ہے،اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ صرف اُن حکومتوں اور حکمرانوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناتا ہے جو اُس کے مخالفین ہوتے ہیں اور جن کے دل و دماغ میںغیرت،عزت نفس،قومی آزادی اور خود مختاری کا سودا سمایا ہوتا ہے ۔

2003ءکے بعد لیبیا عرب دنیا کا دوسرا ملک ہے جس پر امریکہ اور اُس کے اتحادی آگ اور بارود برسا رہے ہیں،آج لیبیا کے خلاف اِس سامراجی جارحیت کااصل محرک عرب لیگ ہے،جس نےUNOمیں لیبیا کونوفلائی زون قرار دینے کی قرار داد پیش کی تھی،مگر لیبیا پر حملوں کے بعد عرب لیگ نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے حملوں کی مذمت کرنا شروع کردی،عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل اَمر موسی نے” من انم کہ من دامن “کے مصداق کہا کہ لیگ نے حملوں کی بجائے نو فلائی زون قائم کرنے کی قرارداد پیش کی تھی ۔

اَمر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح اقوام متحدہ سامراجی طاقتوں کی رکھیل بنی ہوئی ہے بالکل اُسی طرح او ائی سی اور عرب لیگ بھی ایک طوائف کا روپ دھار چکی ہے،مگر رکھیل اور طوائف میں فرق یہ ہوتا ہے کہ رکھیل عمر بھر اپنے عاشق کے ساتھ وفاداری نبھاتی ہے، جبکہ طوائف پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ طوائف نوٹوں کی جھنکار پر روزانہ اپنے عاشق بدلتی رہتی ہے ۔

بدقسمتی سے 56 مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی اور عرب لیگ نے اُن طاغوتی طاقتوں کے آلہ کار بن کر میر جعفر میر صادق کا کردار ادا کیاہے،جن کا مقصدہی مسلم ممالک کے معدنی وسائل پر قبضہ کرناہے، اِس سے بڑی بے حمیتی اور کیا کوئی ہو سکتی ہے کہ ایک عرب ریاست لیبیا پر امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے فضائی اور بحری حملوں میں عرب لیگ سے وابستہ ممالک شریک اور ایک مسلم ریاست کو اپنے ہاتھوں سے مارنے اور دفن کرنے کا سامان کررہے ہیں ۔

دوسری طرف امریکہ،برطانیہ،فرانس اور کینیڈا کے ساتھ اب ا ِس لڑائی میں اٹلی بھی شامل ہوگیاہے،لیبیا پر اتحادی افواج کے حملوں کے بعد عالمی طاقتیں بھی تقسیم ہوگئی ہیں جبکہ چین اور روس سمیت کئی ممالک نے امریکہ،برطانیہ اور فرانس سے حملے بند کر نے کا مطالبہ کیا ہے،اقوام متحدہ کے پانچ میں سے تین رکن ممالک ایک طرف ہیں اور دو نے لیبیا میں کھلے عام بیرونی فوجی مداخلت کی شدید مذمت کی ہے

دوسری طرف بھارت ایر ان،وینز ویلا اور کیوبابھی امریکہ،بر طانیہ اور فرانس پر حملے بند کر نے کیلئے زور دے رہے ہیں،جبکہ افریقی یونین سمیت دنیا کے کئی ممالک امریکہ کی سر پر ستی میں قذافی فورسز کے خلاف کاروائی کی مخالفت کررہے ہیں،ایر ان کا کہنا ہے کہ وہ لیبیا میں انقلاب کاحامی ہے لیکن بیرونی فوجی مداخلت کاقائل نہیں،آج افغانستان اور عراق پر امریکی فوجی قبضے کے بعدشمالی افریقہ کا تیل برآمد کرنے والا سب سے اہم ملک لیبیا سامراجی انتقام کا مرکز بنا ہواہے ۔

سلامتی کونسل نے لیبیا پر فضائی حملوں کیلئے جو بھونڈا جوازتراشاہے اُس کے مطابق” کرنل قذافی اپنی ہی قوم کے اوپر حملہ آور ہیں اِس لیے عالمی قوتوں کو عام شہریوں کی حفاظت کے نام پر مداخلت کا حق حاصل ہے“ لیکن یہ وہ جرم ہے جس میں خود امریکہ سمیت تمام عالمی قوتیں ملوث ہیں،اِس تناظر میں لیبیا کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد لیبیا کے عوام کی ہمدردی میں نہیں ہے بلکہ یہ عالمی سیاست کے گندے کھیل کا حصہ معلوم ہوتی ہے،اِسی وجہ سے روسی وزیراعظم ولادی میرپیوٹن قرار داد کو نقائص سے پُراور اِسے صلیبی جنگوں کے مترادف قرار دیتے ہیں ۔

یہاں اَمر بھی قابل توجہ ہے کہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے کہ وہ لیبیا پر فوج کشی کا ارادہ رکھتے ہیں،لیکن جب تیونس سے شروع ہونے والی عوامی احتجاج کی لہر لیبیا پہنچ کر معمر قذافی کے خلاف مسلح بغاوت کی شکل اختیار کرگئی تو امریکہ اوراُس کے حواریوں کو اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا،حالانکہ اِس وقت لیبیا کے علاوہ شام،بحرین اور یمن سمیت کئی ملکوں میں حکومت اور مخالفین کے درمیان تصادم جاری ہے،لیکن لیبیا کو ہدف بناکرامریکہ نے ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالی ہے کہ وہ کسی بھی ملک میں حزب اختلاف کی سرپرستی،بچاؤ اور برسراقتدار لانے کیلئے فوجی طاقت استعمال کرنے کا حق بھی رکھتا ہے اور انصاف کی پالکی بحری بیڑوں،جنگی طیاروں اور تباہ کن بموں پر لادھ کر امریکی باغیوں تک پہنچنا امریکہ کیلئے بڑی بات نہیں ہے ۔

آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پوری اسلامی دنیا میں ایک بھی ایسا رہنما موجود نہیں جو اقوام متحدہ اور سامراجی طاقتوں کے دوہرے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے اُن سے یہ سوال کرسکے کہ اگر آپ اپنے اصول اور قراردادوں کی حرمت کا اتنا ہی خیال ہے تو مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادیں ردی کا ڈھیر کیوں بنی ہوئی ہیں،اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو لیبیا میں تو عوام پر ظلم نظر آرہا ہے لیکن برسوں سے جو ظلم بھارت کشمیر میں کر رہا ہے کیا وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

کیا اسرائیل فلسطینی عوام پر جو ظلم وستم کر رہا ہے اُس پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اسرائیل کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کریں اور مظلوم فلسطینیوں کو اسرائیل کے مظالم سے نجات دلائیں،ہم پوچھتے ہیں کہ کیا صرف عرا ق افغانستان اور لیبیا ہی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں،اسرائیل اور بھارت جو کچھ کر رہے ہیں کیا وہ اقوام متحدہ کی لغت میں انسانی حقوق کی پاسداری اور خدمت ہے؟

اقوام متحدہ اور مغربی دنیا کے اِسی دوہرے معیار اور کردار نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے،لہٰذا یہ کہنا قطعاً غلط نہ ہوگا کہ اقوام متحدہ کا مقصد دنیا میں امن قائم کرنا نہیں بلکہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کرنا اور مسلم دنیا کے خلاف ننگی جارحیت کیلئے قانونی جواز فراہم کرنا ہے ۔

اِس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اقوام متحدہ کی چھتری تلے امریکہ اور اُس اتحادیوں نے عراق اور افغانستان کے بعد لیبیا پر حملہ کرکے پوری مسلم دنیا کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ایک ایک کرکے ہر مسلمان ملک کے خلاف کسی نہ کسی بہانے جارحیت کا ارتکاب کریں گے،سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ مسلم دنیا کے حکمران صرف اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے مغرب اور اقوام متحدہ کے اس دوہرے کردار پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔

آج اُمت مسلمہ کی ہراکائی اپنی بقاءکی فکر میں ہے،جبکہ اپنے لامحدود مفادات کے ایجنڈے پر عمل پیراامریکہ ایک ایسے ملک پر چڑھ دوڑا ہے جس نے اُس کا کچھ نہیں بگاڑا ہے،وہ اکثریت کی نمائندگی کے باوجود معمر قذافی کو لیبیا پر حکمرانی کا حق دینے کیلئے اِس لیے تیار نہیں کہ قذافی نے دنیا کے سب سے بڑے امریکی خرکار کیمپ کا حصہ بننے سے انکار کیا ہے ۔

اسی وجہ سے امریکہ لیبیا میں لکیریں ڈال کر اپنے طویل المعیاد مقاصد کی راہ ہموار کررہا ہے،ہماری رائے میں معمرقذافی کو ہٹانے کا مطلب لیبیا کی مرکزیت اور اُس کی یکجہتی پر ضرب لگانا ہے،یہ درست ہے کہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے اہداف کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے،مصلحتوں اور مجبوریوں کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی مسلم حکومتوں میں اتنی توانائی نہیں کہ وہ امریکہ کی حکم عدولی کرسکیں اوراُس کے خلاف جاسکیں ۔

لیکن لیبیا کی تباہی و بربادی کے ذمہ دار مسلم ممالک کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ بھی ایک دشت بے اماں میں کھڑے اُس جنگلی بھینسے سے خیر کی توقع کررہے ہیں جس کے خونخوار سینگوں کو رخ کسی وقت بھی خود اُن کی اپنی طرف ہوسکتا ہے،ہمارا ماننا ہے کہ افغانستان اورعراق اکیسویں صدی کے امریکی چنگیزی لشکرکے ابتدائی پڑاؤ تھے،لیبیا بھی منزل نہیں،اصل منزل کیا ہے،اِس کا ابھی سامنے آنا باقی ہے،لیکن ایک بات طے ہے کہ اکیسویں صدی کے اس خونی عفریت نے ابھی بہت سی شہہ رگوں کا خون پینا ہے اور بہت سی مسلم مملکتوں کو تباہ و برباد کرنا ہے ۔

٭٭٭٭٭

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button