لیبیا میں فوجی کارروائی پر روسی قیادت میں اختلاف

لیبیا میں فوجی کارروائی پر روسی قیادت میں اختلاف 

افریقی ملک لیبیا پر مغربی فضائی حملوں کو روسی وزیر اعظم نے قرون وسطیٰ کے صلیبی جنگوں کے عہد سے تعبیر کیا ہے جبکہ صدر میدویدیف نے اس مثال کو ناقابل قبول قراردے کر اندرونی اختلاف کو عام کردیا ہے۔

 

روسی وزیراعظم ولادمیر پوٹین کو اپنے ملک کے اندر انتہائی طاقتور شخصیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ گزشتہ صدارتی الیکشن کے وقت میدویدیف کے چناؤ میں پوٹین کا کردار بھی اہم تھا۔ اب سن 2012 کے صدارتی الیکشن سے قبل روسی صدر اور وزیر اعظم کے درمیان ممکنہ اختلافات کو محسوس کیا جانے لگا ہے۔

وزیراعظم پوٹین نے میزائل بنانے کی ایک فیکٹری کے دورے پر ورکروں سے بات چیت کرتے ہوئے لیبیا میں اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل کی جانب سے فضائی کارروائی کی اجازت کو قرون وسطیٰ کے صلیبی جنگی دور سے تعبیرکیا ہے۔ ان کے بیان کے ملکی میڈیا پر نشر ہونے کےتھوڑی دیر بعد میڈیا پر صدر میدویدیف کا بیان جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے سلامتی کونسل کی اجازت کو کروسیڈز کی مانند قراردینے کو ناقابلِ قبول قراردیا اور کہا کہ اس سے تشدد کو مزید ہوا مل سکتی ہے۔ روسی صدر نے اپنے بیان میں وزیر اعظم کا حوالہ نہیں دیا۔ یہ امر اہم ہے کہ لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے  امریکی قیادت میں برطانوی اور فرانسیسی فوجوں کے اتحاد کو کروسیڈرز کا اتحاد قرار دیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ روسی صدر کا اس انداز میں اپنے سیاسی اتالیق کے بیان پر نکتہ چینی کرنا، اندرون خانہ اختلافات کا عندیہ دیتے ہیں اور یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ اگلے الیکشن سے قبل دونوں بڑے لیڈروں میں ڈھکا چھپا اختلاف سامنے آ سکتا ہے۔

روسی صدر اور وزیر اعظم

روسی وزیر اعظم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر میدویدیف کا کہنا تھا کہ محتاط تجزیے کی ضرورت ہے اور یہ کسی طور قابل قبول نہیں کہ ایسے الفاظ کا استعمال کیا جائے جو تہذیبوں میں مزید تصادم کا باعث ہو۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کروسیڈز کے استعارے کا بھی حوالہ دیا۔ روسی صدر نے ماسکو میں لیبیا پر اپنے خیالات کا اظہار خاص طور پر فوری طلب کی گئی پریس بریفنگ میں کیا۔ روسی صدر کے بیان کے بعد وزیر اعظم کے کروسیڈز والے بیان کو نشر کرنا بند کردیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اس بیان سے میدویدیف نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا جس کے تحت روسی سفیر سکیورٹی کونسل کے اس اجلاس میں شریک نہیں ہوا تھا جس میں گزشتہ جمعرات کو لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

لیبیا کے معاملے پر ان بیانات سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ روس کے چوٹی کے لیڈروں کے درمیان کسی ایک پالیسی کے بنیادی نکتہ نظر پر اختلاف موجود ہے۔ اس مناسبت سے بین الاقوامی امور کے روسی جریدے ‘‘رشیہ’’ کے چیف ایڈیٹر Fyodor Lukyanov کا بھی خیال ہے کہ پہلے وہ اختلافات کی تمام افواہوں کو یکسر نظر انداز کردیتے تھے لیکن لیبیا کے معاملے پر دونوں لیڈروں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے سے ان کے اندرونی اختلافات واضح ہو گئے ہیں۔

 

بشکریہ ڈی ڈبلیوڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button