لیبیا اور عالمی تقسیم

عبدالجلیل منشی ۔ کویت
اقوام متحدہ کی لیبیا پر نوفلائی زون قائم کرنے کی قرارداد پاس کرنے اوراسکے نتیجے میں لیبیا پر مغربی ممالک کی یلغار نے بین الاقوامی برادری کودو حصوں میںتقسیم کردیا ہےگزشتہ منگل کو اقوام متحدہ کی سیکیوریٹی کونسل کے تحت لیبیا پر نو فلائی زون کے قیام کے سلسلے میں ہونے والی راے شماری میں چین اور روس نے حصہ لینے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا روس کے وزیر اعظم ولادی میر پوٹن نے لیبیا پر مغربی حملے کو قرون وسطی کی صلیبی جنگوں سے تعبیر کیا اور کہا کہ موسکو لیبیا کے خلاف ہونے والی کسی بھی فوجی جارحیت کا حصہ نہیں بنے گا مگر قیام امن کے سلسلے میں اپناکردار ادا کرنے کے لئے ہمہ وقت تیا رہیگا
لیبیا کے سلسلے میں ہونے والی یہ سیاسی تقسیم نہ صرف یوروپی حلفائ، ناٹو اور عرب ممالک پراثر انداز ہوئی ہے بلکہ اس معاملے میں انکی داخلی اور خارجی پالیسی کی عکاسی بھی کرتی ہے
عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل عمرو موسی نے کہا ہے کہ وہ لیبیا پر فوجی کاروائی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی قرارداد کا احترام کرتے ہیںخصوصا جبکہ اس قرارداد میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ لیبیا پر حملے کے نتیجے میں اس کی آزادی اورخود مختاری کا احترام کرتے ہوئے اس پر قبضہ نہیں کیاجائے گا اتحادی فوج کی شدید بمباری کے نتیجے میں کئی بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فضائی حملے شہریوں کو قذافی کے ظالمانہ پنجوں سے محفوظ رکھنے کے لئے عمل میں لائے جارہے ہیں نہ کہ انہیں ہلاک کرنے کے لئے
لیبیا پر مغربی حملے کے نتیجے میںعرب دنیا بھی بٹوارے کا شکار ہوگئی ہے شام نے مغربی فضائی حملوںکی سخت مذمت کی ہے جبکہ مشرق وسطی کے دیگر ممالک اور قطر کے علاوہ تمام خلیجی ریاستیں اپنی مکمل رضامندی کے اظہار میں متذبذب نظر آتی ہیں صرف قطر ایک ایسی خلیجی ریاست ہے جس نے اپنی فضائیہ کو اس مشن کا حصہ بناتے ہوئے اسے لیبیا پر نو فلائی زون کے نفاذ کے لئے روانہ کر دیا ہے عراق نے بین الاقوامی مداخلت کی حمایت کی ہے جنکہ بارسوخ عراقی شیعہ رہنما مقتدی الصدر نے حملوں پر تنقید کرتے ہوئے مغربی اتحاد پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوںکو نشانہ نہ بنائیں اور انکی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں
ایرانی قیادت نے قذافی کے خلاف عوامی بغاوت کی تائید اور حوصلہ افزائی کی تھی مگر لیبیا پرفوجی مداخلت پر اپنے شکوک کا اظہار کیا ہےایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامن مہمان پرست نے ایک بیان میں فضائی حملوں کومغرب کی ایک جدید استعماریت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران قذافی مخالف باغیوں کے جائز مطالبات کی حمایت کرتا ہےایرانی خبر رساںادارے اسنا نے مہمان پرست کے حوالے کہا ہے کہ اتحادی ممالک عموما متاثرہ ملکوں میں عوام کی مدد کے دل خوش کن نعروں کے ساتھ داخل ہوتے ہیں مگر درحقیقت وہ ان ممالک میں حکمرانی کے سلسلے میں اپنے مفادات کی پیروی کرتے ہوئے استعماریت کو ایک نئی شکل میں رائج کرتے ہیں
ادھر بن غازی میںقذافی مخالف باغیوں نے اتحادی فضائی حملوں کو سراہا ہے جس کے نتیجے میںبن غازی میں انکے خلاف قذافی کی فضائیہ اور زمینی فوج کی کاروائیاں رک گئیں ہیں مگرمغربی فضائی حملوں کے باوجود انہیں اب تک طرابلس کی جانب پیش قدمی کا موقع نہیں مل سکا ہے جسے باغی غیرملکی زمینی افواج کی مدد کے بغیر بذات خود کنٹرول میں لینا چاہتے ہیں
قذافی مخالف اتحاد کے ترجمان احمد الحصی نے مغربی اتحاد کے قذافی کے خلاف فضائی حملوں کی حمایت کرتے ہوئے لیبیا کی سرزمین پر کسی بھی غیر ملکی زمینی افواج کی موجودگی کی مخالفت کی ہے
دوسری جانب بریطانیہ اور امر یکہ کے اشتراک سے فرانس کی قیادت میں ہونے والے ان فضائی حملوں نے ناٹو ممالک کو بھی تقسیم کر دیا ہے جرمنی نے کہا ہے کہ ان حملوں کے سلسلے میں عرب لیگ کی تنقید نے اسکے لیبیا کے خلاف مہم کا حصہ نہ بننے کے فیصلے کی توثیق کردی ہےجرمنی کے وزیر خارجہ گوئیڈو یسٹرویلے نے کہا کہ لیبیا پر فضائی حملوں کے خلاف عرب لیگ کی شدید تنقید اور مخالفت نے جرمنی کے لیبیا کے خلاف کسی بھی قسم کے فوجی مشن میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کو تقویت بخشی ہے جس پر ہم مطمئین ہیںurdusky-writer-12
امریکہ نے اپنی فوج کو لیبیا بھیجنے کے امکانات کو یکسر مسترد کردیا ہے جسکی زمینی افواج عراق اور افغانستان میں فوجی کاروائیاں کر رہی ہے ترکی جو کہ مغربی فوجی اتحاد کا اہم رکن ہے اسکے وزیر اعظم طیب اردوگان نے لیبیا کے سلسلے میں ناٹو کے کردارکو شک کی نظر سے دیکھتے ہوئے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ قذافی کی افوج کے خلاف اتحادی افواج کا آپریشن جلد ا ز جلد مکمل ہوجانا چاہئے تاکہ لیبیا کی عوام اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیں اپنے سعودی عرب کے حالیہ دورے کے دوران مکہ مکرمہ سے دئے گئے ایک بیان میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ناٹو کواس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے کاروائی کرنا ہوگی کہ لیبیا اور اسکی دولت اور اسکے تیل کے زخائر پر صرف لیبیا کے عوام کا حق ہے اور یہ دولت اور ثروت اغیار میں تقسیم کے لئے نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ لیبیا کے عوام جلد از جلد اپنے مستقبل کا خود تعین کریں
ادھر اٹلی نے اپنے حلیفوںپر زور دیاہے کہ لیبیا پر فضائی حملے ناٹو کی زیر کمان کئے جائیں ورنہ وہ اپنے ان سات فوجی ہوائی اڈوں کا کنٹرول خود سنبھال لیگا جسکا اختیار اس نے اتحادی افواج کو لیبیا پر حملوںکے سلسلے میں ودیعت کیا ہےاٹلی کے شہر ٹیورن میں ایک سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم سلویو برلسکونی نے کہا ہے یہ ضروری ہے کہ موجودہ مشن کی کمان ناٹو کو ایک الگ انتظامی ڈھانچے کے تحت سونپی جائے
برلسکونی نے کہا کہ مشن کا دائرہ کار صرف لیبیا کی فضائی حدود میں ایک نو فلائی زون تشکیل دے کر شہریوں کو لیبیا کی ایرفورس اور زمینی افواج سے تحفظ فراہم کرنا تھا انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اٹلی کے جو جنگی جہاز لیبیا کی فضائی حدود میں پرواز کررہے ہیں انہوں نے نہ ہی لیبیا کی سرزمین پر بمباری کی ہے اور نہ ہی کریں گے
اٹلی کے وزیر خارجہ فرانکو فراٹینی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر لیبیا پراقوام متحدہ کی منظوری سے قائم نو فلائی زون کی قیادت ناٹو کو منتقل کرنے کے سلسلے میں فوری معاہدہ نہ ہوا اور قیادت ناٹو کو منتقل نہ ہوئی تو اٹلی اپنی الگ کمان میں یہ آپریشن جاری رکھے گااور ان سات ہوائی اڈوںکا مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیگاجنہیں استعمال کرنے کا اختیار ا سنے آپریشن کی تکمیل کے سلسلے میں اتحادی فضائیہ کودیا ہے
فرانس، برطانیہ اور امریکہ کی قیادت میںکئی ناٹو ممالک لیبیا کے خلاف فضائی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں مگر ایک تنظیم کی حیثیت سے ناٹو کے پاس لیبیا کی فضائی حدود کی نگرانی کا دائرہ وسیع کرنے کے اختیارات انتہائی محدود ہیںاور اسی بات کے پیش نظر اٹلی نے اس مشن کا مکمل اختیار ناٹو کو سونپنے کے لئے زور دیا ہے تاکہ نو فلائی زون سے متعلق تمام امور تنظیم کی مربوط حکمت عملی کے تحت انجام دئے جائیں اس ضمن میںفرانس کے وزیر خارجیہ نے کہا ہے کہ عرب ممالک لیبیا میں ناٹو کے زریعے کئے جانے والے کسی بھی فوجی آپریشن کے خلاف ہیں
دوسری جانت گیبون جو کہ اقوام متحدہ کی سیکیوریٹی کونسل کا رکن ہے اسکے صدر عمر بونگو اونڈمبا نے کہا ہے کہ اس بات کی امید کی جارہی تھی کہ قرارداد کے نتیجے میں لیبیا میں فوری جنگ بندی ہوجائے گیرائٹر خبررساں ادارے کو دئے گئے ایک بیان میںانہوں نے کہا ہمیںامید ہے کہ لیبیا کے خلاف یہ فوجی مہم مختصر ثابت ہو گی اور جنگ بندی کے بعدمعاملات کو طاقت کی بجائے بات چیت سے حل کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی
چین نے لیبیا پر نو فلائی زون کے قیام کے سلسلے میں سیکوریٹی کونسل میں ہونے والی رائے شماری میں حصہ نہ لیتے ہوئے اس پر شدید تنقید کی تھی چین کے سرکاری اخبارا ت نے لیبیا پر فضائی حملوں میں حصہ لینے والے ممالک پربین الاقوامی قوانین کی دھچیاں اڑانے کا الزام لگاتے ہوئے اسے مشرق وسطی میں ایک نئے سیاسی بحران کوہوا دینے کی سازش قرار دیا ہے
چین کے ایک سرکاری اخبار :پیپلز ڈیلی: نے اپنے ایک تبصرے میں کہا ہے کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی بھی کسی بحران کو اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے فوجی مداخلت کے زریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو معاملات سلجھنے کی بجائے مزید الجھتے ہی چلے گئے اور ہرایسی کاروائی اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی تعلقات کے قواعدپرایک تازیانہ ثابت ہوئی یقینا اخبار کا اشارہ عراق اور افغانستان کی جانب تھا جہاںحالات درست کرنے کے بجائے ان ممالک پر قبضہ کرلیا گیااورحالات پہلے سے بھی بدتر کردئے گئے
بیجنگ کے گلی کوچوں میں گونجنے والے اس احتجاج کی بازگشت دور موسکو کے ایوانوں میں بھی سنی اور محسوس کی گئییا د رہے کہ چین اور روس اقوام متحدہ کی مجلس امن کے مستقل رکن ہیں اور کسی بھی قرارداد کے حق یا مخالفت میں رائے دہی کا حق رکھتے ہیں اس سے قبل روس کے وزیر اعظم پوٹین نے مجلس امن میں رائے شماری سے اجتناب کرتے ہوئے قرارداد کی شدید مذمت کی تھی بلکہ لیبیا پر مغربی حملے کو قرون وسطی کی صلیبی جنگوں سے تعبیر کیا تھا
انہوں نے میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا پر فوجی مداخلت میرے لئے پریشانی کا باعث نہیںہے بلکہ میری اصل پریشانی اور تشویش کا سبب فوج کشی کے زریعے بین الاقوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کاباسانی اور بغیر کسی روک ٹوک کے منظور ہوجانا ہے جبکہ ہر جگہ فوجی مداخلت کے زریعے مسائل کو حل کرنے کا رجحان امریکی پالیسی کا ایک مستقل حصہ بنتا جارہا ہے
آٹھ سال قبل عراق پر اتحادی افوج نے حملہ کرکے صدام حسین کی حکومت کا خاتمے کیا جس کے نتیجے میں بظاہر ایک جمہوری اور منتخت حکومت عراق میں قائم ہوئی مگر وہاںحالات سنورنے کی بجائے مسلسل بگڑتے ہی جارہے ہیں اور ایک خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہےکوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب عراق کے طول و عرض میں کسی جگہ دھماکوں کی بازگشت نہ سنی جاتی ہو جسکے نتیجے میں ابتک بےشمار قیمتی انسانی جانیں تلف ہوچکی ہیں اور یہ سلسلہ دراز تر ہوتا چلا جارہا ہے جسے موجودہ عراقی حکومت روکنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے انہی حالات کے تناظر میں عراقی عوم نے لیبیا کی عوام کو انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اتحادی افواج کی فوجی مہم سے بہت زیادہ پر امیدنہ ہوںکیونکہ اگر اس ساری کاروائی کے بعد بھی ملک میں حقیقی جمہوریت نہیںپنپتی اور لیبیا کا حشر بھی عراق کی مانند ہوتا ہے توپھر یہ ساری کاروائی بے ثمر ثابت ہوگی
عراق کی مانند افغانستان پر بھی امریکہ نے القاعدہ کا بہانہ کرکے قبضہ کرنے کید کوشش کی اور وہاں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کردی یہ الگ بات ہے کہ جو کچھ وہ سوچ کر افغانستان میں آیا تھا معاملہ اسکے بالکل برعکس ثابت ہوا اور اب امریکہ مہاراج اس چکر میں ہیں کہ کس طرح اپنی عذت بچاتے ہوئے آبرومندانہ طریقے سے افغانستان سے رخصت ہواجائے
افغانستان میں امریکی مداخلت کا مقصدیہی تھا کہ وہ اپنے قدم مظبوط کرکے وہاں سے ایرا ن ، پاکستان ، چین وغیرہ کو کنٹرول کرسکے مگرافغانستان میں موجود طالبان نے اس سے اسکے خوابوں کی تعبیر چھین لی اور اب وہ ہاں سے اس طرح جان چھڑانا چاہتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اسکی سبکی بھی نہ ہو اور وہ اپنی باقی ماندہ فوج بھی وہاں سے نکال لے جائے
اسی طرح لیبیا میں جاری اس ساری کاروائی کا مقصد اگرمغرب کا لیبیا کے تیل کے کنووں پر قبضہ کرنا اور اس کی دولت کو اپنے ملکوںمیں منتقل کرنا ہے تواس خواب کومنطقی انجام تک پہنچانے کی ابتداءہوچکی ہے اور اس ضمن میں ابتدائی قدم کے طور پر اقوم متحدہ سے منظوری لے کر فضائی حملوں کا جواز پیدا کرلیا گیا ہے گو کہ عراق اور افغانستان پر امریکی حملے اور پھر قبضے کے تناظر میں عرب اس بات کے حق میں نہیں ہیں کہ یہ کاروائی طوالت اختیار کرے اور مذکورہ بالا دونوں ممالک کی مانند لیبیا کی عوام بھی انہی حالات کا شکار ہوںجن سے ان ممالک لوگ گزر رہے ہیں
ابھی قذافی مخالف گروپ مغرب کی اس حمایت سے مسرور وشاداں ہے کیونکہ انکے زریعے انہیں اپنے اس خواب کی تعبیر نظر آرہی ہے جس میں وہ لیبیا کو قذافی کے بغیر دیکھ رہے ہیںاور جو ان کی مدد کے بغیر شرمندہ ہوتا نظر نہیں آتا مگر کل جب وہ لیبیا کی ناسمجھ عوام کو استعمال کرتے ہوئے اسے لیبیا کی فوج کے ساتھ متصادم کرواکر اور انہی کے زریعے لیبیا کو قذافی کے وجود سے پاک کرکے وہاں اپنا ناپاک تسلط قائم کرتے ہیں اور عراق کی طرح لیبیا کو بھی خانہ جنگی میں جھونک کر خود دونوں ہاتھوں سے تیل کی دولت اپنے اپنے ملکوں میں منتقل کرنا شروع کرتے ہیں تو اس وقت لیبیا کی عوام کو مغرب کا اصل چہرہ نظر آئیگا مگر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی ا ور پھر انہیںان مغربی لٹیروںکو اپنی سرزمین سے باہر نکالنے کے لئے ایک اور طویل اور جانکسل جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا خدا کرے ایسا نہ ہو اور وہ ہو جسکا سپنا لیبیا کے عوام دیکھ رہے ہیں اور قذافی کے بعد کوئی محب وطن اور محب عوام حکمران لیبیا کو میسر آجائے جسکی قیادت میں لیبیا مزید پھلے پھولے اور
ترقی کرے آمین

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button