شوگر ٹیسٹ اب خون کی بجائے آنسو کے ذریعے


امریکہ کے ماہرین نے خون میں شوگر کی مقدار جانچنے کے لیے ایک نیا آلہ تیار کیا ہے۔ اس آلے میں مریض کی آنکھ سے حاصل شدہ سیال مادے یعنی آنسو کے ذریعے خون میں شوگر کی بالکل درست مقدار جانچی جاسکے گی۔

 

امریکہ میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 23 ملین سے زائد ہے اور یہ بیماری امریکہ میں ہلاکتوں کی پانچویں سب سے بڑی وجہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ ذیابیطس کی وجہ سے کئی دیگر امراض کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں جن میں دل کے امراض، نابینا پن، گردوں کی خرابی، اعضاء کا کاٹا جانا اور دیگر کئی طرح کے طبی مسائل شامل ہیں۔

شوگر تیسٹ کرنے کے لئے اب خون کے نمونے کے بجائے آنسو کے نمونے کا استعمال کیا جا سکے گاشوگر تیسٹ کرنے کے لئے اب خون کے نمونے کے بجائے آنسو کے نمونے کا استعمال کیا جا سکے گا

ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ان کے خون میں شوگر کی مقدار ایک مقررہ حد کے اندر رہے اور ڈاکٹرز مریض کو ہی یہ تجویز کرتے ہیں کہ اپنے خون میں شوگر کی مقدار باقاعدگی سے مانیٹر کریں۔ بعض مرتبہ اس مقصد کے لیے خون کا ٹیسٹ دن میں کئی مرتبہ کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ شوگر لیول چیک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مریض سوئی کے ذریعے اپنی اگلی میں چھید کرے جو کافی تکلیف دہ ہوتا ہے لہذا اکثر مریض اپنا شوگر لیول چیک کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔

تاہم امریکہ کے طبی ماہرین کی ایک نئی ایجاد کے ذریعے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے شوگر لیول چیک کرنے کا تکلیف دہ عمل اب آسان ہوگیا ہے۔ خون میں گلوکوز کا پتہ لگانے والے اس نئے آلے کی مدد سے مریض کی آنکھ سے لیے گئے سیال مادے یعنی آنسو کے ذریعے خون میں موجود شوگر کی مقدار کا پتہ چلایا جاسکے گا۔

عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق ذیابطیس کے باعث دنیا میں ہر سال پانچ فیصد اموات ہوتی ہیں

یہ آلہ تیار کرنے والے ماہرین کے مطابق آنسو کے ذریعے بھی بالکل اسی درستی سے شوگر لیول معلوم کیا جاسکتا ہے جو خون کے ٹیسٹ سے معلوم کیا جاتا ہے۔ ماہرین کی ٹیم میں شریک بائیوانجینئر جیفری ٹی لابیلے کے مطابق خون میں شوگر کی مقدار جانچنے والے موجودہ نظام میں چونکہ مریضوں کو اپنی انگلی میں تکلیف دہ چھید کرنا پڑتا ہے لہذا وہ یہ ٹیسٹ کرنے سے گھبراتے ہیں، مگر ان نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے مریضوں کو اس تکلیف دہ عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا لہذا ان کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ زیادہ باقاعدگی سے اپنا شوگر لیول چیک کریں۔ لابیلے نے امید ظاہر کی کہ اس کا نتیجہ ذیابیطس کے زیادہ بہتر کنٹرول کی صورت میں نکلے گا۔

تاہم اس نئی ایجاد کو مریضوں تک پہنچنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا کیونکہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے طبی اداروں سے اس کی باقاعدہ توثیق کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو دی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button