سعودی عرب میں حکومت مخالف کارکن کا قتل

 

سعودی عرب میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے علمبردار حلقوں نے خبر دی ہےکہ سعودی حکام نے انٹرنیٹ پر سرگرم ایک کارکن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ اس کارکن نے11 مارچ کو ’یوم الغضب‘ منانے پر زور دیا تھا۔

internet_1

تیونس، مصر اور دیگر عرب ممالک میں جمہوریت اور مزید حقوق کے لیے شروع کی جانے والی تحریکوں میں انٹرنیٹ اور سماجی ویب سائٹس کا بہت بڑا کر دار ہے۔ ان ممالک میں آزادی اظہار کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے عوام نے انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے پیغام دوسروں تک پہنچائے۔ ریاض حکومت سے نالاں افراد بھی یہی طریقہ استعمال کیے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد نے اطلاع دی ہے کہ ان کے ایک ساتھی کو گولی مار دی گئی ہے۔

27 سالہ فیصل احمد عبدالاحمد احدواس کے بارے میں کہا جاتا ہے کو وہ فیس بک پر’یوم الغضب‘ کے حوالے سے موجود صفحے کے تنہا منتظم تھے۔ماہرین کہہ رہے ہیں کہ سعودی عرب میں بھی حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو سکتے ہیں

فیس بک پر اس گروپ کے 17 ہزار سے زائد ارکان ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سعودی نظام میں اصلاحات لائی جائیں، سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، بے روزگاری ختم کی جائے اور اظہار آزادی کو ممکن بنایا جائے۔

سعودی عرب میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہےکہ فیصل احمد کو مبینہ طور پر سلامتی کے سرکاری اداروں نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکام نےتمام ثبوت مٹا دیے ہیں اور اس جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے فیصل کی لاش بھی کہیں چھپا دی ہے۔ سرگرم افراد کا مزید کہنا ہے کہ فیصل کو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ وہ ملک میں تبدیلی کا خواہاں تھا۔

بہرحال ان الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیونس، مصر، بحرین اور لیبیا کے بعد سعودی عرب میں بھی احتجاج شروع ہو سکتا ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو ڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button