جاپان میں تابکاری کا خطرہ: ایشیا میں سُوشی مسلسل بہت مقبول غذا

جاپان میں یہ خطرہ موجود ہے کہ وہاں زلزلے کے بعد ایک ایٹمی پلانٹ سے خارج ہونے والی تابکار شعاعیں خام اشیائے خوراک کو بھی آلودہ کر سکتی ہیں۔

 

لیکن ان خطرات کے باوجود جاپان کی مشہور زمانہ ڈش سُوشی بہت سے ایشیائی ملکوں میں ابھی تک اتنی ہی مقبول ہے جتنی کہ زلزلے اور سونامی کی تباہ کاریوں سے پہلے تھی۔ تائیوان میں سُوشی ریستورانوں کے ایک بڑے کامیاب سلسلے کا نام سُوشی ایکسپریس ہے اور اس ادارے نے اپنی ہر شاخ میں گاہکوں کے لیے ایسے بڑے بڑے نوٹس آویزاں کر رکھے ہیں، جن پر لکھا گیا ہے: ’’ہمارے ہاں استعمال ہونے والی ہر قسم کی seafood جاپان میں آنے والے زلزلے اور فوکوشیما کے ایٹمی پلانٹ کے تابکاری مادوں کے اخراج سے قبل درآمد کی گئی تھی۔‘‘

سُوشی ایکسپریس کی صرف تائیوان میں 196 شاخیں ہیں۔ سُوشی ایکسپریس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ مشرق بعید کے علاقے میں اس کمپنی کا کاروبار معمول کے مطابق جاری ہے۔ لیکن ہانگ کانگ میں ریستورانوں کے مالکان کی فیڈریشن کے صدر ولیم مارک نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ جاپان میں زلزلہ، سونامی اور تابکاری شعاعوں کا اخراج ہانگ کانگ میں سُوشی ریستورانوں کے کاروبار کو متاثر کر سکتا ہے۔

جاپانی باورچی سوشی تیار کرتے ہوئےجاپانی باورچی سوشی تیار کرتے ہوئے

ولیم مارک کے مطابق یہ درست ہے کہ جاپان میں تابکاری مادوں کے اخراج سے خام اشیائے خوراک کی تیاری کا شعبہ ابھی تک متاثر نہیں ہوا تاہم انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک یا علاقے میں تابکاری شعاعوں کا اخراج عوامی سطح پر ایسی تشویش کا باعث بنتا ہے، جس کے نفسیاتی اثرات بڑی دیر تک باقی رہتے ہیں۔

سنگاپور، بھارت اور ویت نام میں ایسے ریستورانوں کے مالکان نے، جو اپنی سُوشی ڈشوں کے لیے مشہور ہیں، کہا ہے کہ جاپان میں تابکاری مادوں کے اخراج سے متعلق بحران شدید ہوتا جا رہا ہے لیکن انہیں انفرادی طور پر ایسا کوئی خدشہ نہیں کہ ان کا کاروبار متاثر ہو سکتا ہے۔

سنگاپور میں سُوشی ریستورانوں کے سب سے بڑے سلسلے ساکائی ہولڈنگز نے بھی جمعرات کو بتایا کہ اس کے ریستورانوں میں گاہکوں کا ہجوم کم نہیں ہوا ہے اور کاروبار میں معمول کی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

تباہ کن زلزلے کے بعد فوکوشیما کے جاپانی ایٹمی بجلی گھر میں متعدد دھماکے ہو چکے ہیں تباہ کن زلزلے کے بعد فوکوشیما کے جاپانی ایٹمی بجلی گھر میں متعدد دھماکے ہو چکے ہیں

بھارت میں بھی، جو جاپان سے اپنے ہاں اشیائے خوراک کی درآمد پر خصوصی طور پر نظر رکھنے کا اعلان کر چکا ہے، سُوشی ریستورانوں کا کاروبار معمول کے مطابق جاری ہے۔ نئی دہلی میں جاپان سے درآمد کردہ ’سی فوڈ‘ اور گوشت کی فروخت کے لیے مشہور یاماتو یا نامی جاپانی سپر مارکیٹ کے ایک مینیجر مکیش رائے نے کہا کہ ان کی سپر مارکیٹ میں عام بھارتی صارفین ابھی بھی بڑی تعداد میں تازہ جاپانی مچھلیاں اور seafood خرید رہے ہیں۔

ویت نام میں بھی جاپانی سُوشی بارز کہلانے والے ریستورانوں کے مالکان نے کہا ہے کہ ان کے کاروبار پر جاپان میں زلزلے، سونامی اور تابکار شعاعوں کے اخراج کے بعد سے اب تک کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو دی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button