امیگریشن، صرف ایک ہفتہ میں!!!

امیگریشن، صرف ایک ہفتہ میں!!!

لوگوں کی ہجرت کی ساتھ ساتھ وطن عزیز سے امن ، پیار اور سکون کی فاختائیں بھی کوچ کر رہی ہیں جبکہ انکی جگہ افراتفری ، ترسناکی اور محرومیوں کی کالی گھٹاوں نے لے لی ہے

وہ بھی کیا زندگی ہوئی کہ نہ کوئی نوک جھوک ، نہ کوئی حسد کرنے والا ، نہ کوئی نفرت کرنے والا ، نہ کوئی طنزکرنے والا، نہ کوئی الجھن ، نہ کوئی سولجھن ، ایسی جذبوں سے عاری زندگی کا کیا لطف ہوگا؟

تحریر:محمدالطاف گوہر

امیگریشن یا ہجرت سے مراد ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی اور نئے سرے سے زندگی کا آغاز ہے جبکہ گذشتہ چند برسوںمیں پاکستان سے دوسرے ممالک میں ہجرت کا رواج بڑے عروج پر رہا ہے اور تقریباً ایسے بے حساب لوگ جن کے کوائف کسی بھی طرح سے دوسرے ممالک کے امیگریشن کے قوانین کے مطابق پورا اترے ، وہ ہنر و قابلیت یا پھرسرمایہ کی بنیاد پر جا چکے اور جو معیار پر پورا نہ اترے باقیات میں شامل ہو گئے اور مسلسل چارہ جوئی میں لگے رہے جبکہ انہوں نے مختلف بیرون ممالک کی شہریت حاصل کرنے کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ بعض لوگ مختلف جائز و ناجائز حربے استعمال کرنے میں بھی پیچھے نہ رہے اور نتیجہ میں کچھ تو اپنے مقاصد حاصل کر گئے اور باقی ماندہ کسی ہارے ہوئے جواری کیطرح ہاتھ ملتے رہ گئے۔
دولت مشترکہ اور دیگرترقی یافتہ بیرون ممالک نے کچھ ایسے قوانین وضع کئے ہیں کہ پوری دنیا سے انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مندیا انتہائی سرمایہ دار لوگوں کو اپنے ممالک کی شہریت کی سہولیات دیکر دنیا سے دولت اورمہارت کے علمبرداروں کو اپنی سر زمین کا حصہ بنا لیں تاکہ انکا ملک ترقی اور کامرانی کی راہ پر گامزن رہے ۔ جبکہ ایسے قوانین اور آفرز ترقی پزیر ممالک کے باشندوں کیلئے بہت پر کشش ہوتی ہیںکیونکہ اسطرح وہ ایسے ہی کسی ملک میں جا کر اپنی بقیہ زندگی آرام اور سکون سے گزار سکیں جہاں معاش کے بہتر زرائع کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورت حال بھی برقرار ہو.
پاکستان عرصہ دراز سے خونی تکون کا تختہ دار بنا ہوا ہے جبکہ عام آدمی عدم تحفظ کا شکار ہے اور اپنے تمام تر وسائل کو بروکار لاتے ہوئے کسی بھی طرح سے امن کی پناہ میں بسیرا کرنا چاہتاہے۔اسی وجہ سے گذشتہ چند دہائیوں میں لاتعداد افراد پاکستان سے ہجرت کر کے ترقی یافتہ ممالک کا رخ کر چکے ہیں ۔ اب باقی مانندہ ، جنکے پاس کوئی اگر اعلیٰ تعلیم اور تجربہ نہیں یا پھر وافر سرمایہ نہیں وہ حالات کے دھارے پر بہہ رہے ہیں ۔
کسی وقت بے روزگاری ایک ایسا محرک تھا کہ ہجرت ، سفر کو وسیلہ ظفر تصور کیا جاتا تھا مگر آج کے محرکات میں اگر ایک طرف اچھا روزگار ہے تو دوسری طرف ایک پر امن معاشرے کی تلاش بھی ہے کہ جہاں کوئی سکھ کا سانس لے سکے اور زندگی کے ایام رفتہ کو کسی تسلسل کی ڈگر پر ڈال سکے۔وطن عزیز جو اغیار کی نظر میں شروع سے ہی کھٹکتا تھا اس کی صورت حال کسی سے پوشیدہ نہیں ، ساری قوم انگشت بدنداں ہے کہ حالات کا دھارا اس وطن کو کس طرف لیجارہا ہے ۔ دہشت گردی اور افراتفری کا ڈانڈے الاًعلانیہ بج رہے ہیں مگر مجال ہے کہ انکی روانگی پر کوئی فرق آیا ہو۔ آئے روز بم دھماکوں نے اگر ایک طرف تمام کاروباری ، سماجی ، معاشرتی مشینری جام کر رکھی ہے تو دوسری طرف عوامی طور پربے سروسامانی کا
کا یہ عالم ہے کہ ہرلحظہ ایک فکر سی لگی ہوتی ہے کہ پتہ نہیں کب کچھ ہو جائے ، خوف کے بادل چھٹنے کا نام ہی نہیں لیتے ۔ اس صورت ِ حال میں کسی کا ہجرت کی طرف مائل ہونا کسی اچنبے کی بات نہیں۔
امیگریشن یا ہجرت کا رواج اسی وقت فروغ پا گیا تھا جب امن امان کی صورت حال اولاً کشیدہ ہونی شروع ہوئی مگر اس میں جوش و خروش کچھ عرصہ قبل بہت واضع رہا ہے اور اسی آڑ میں بہت سے ادارے بھی معرض وجود میں آئے جو آئے روز نت نئی امیگریشن کی آفرز لیکر کر کسی نہ کسی طرح اس عمل کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں بہت سے مشروم ادارے بھی فروغ پاتے رہے جو کچھ عرصہ کیلئے وجودمیں آئے اور لوگوں سے پیسے بٹورے اور پھر چل دیئے ۔ انکو یہ موقع اس طریق کار نے فراہم کیا کہ امیگریشن کے معاملات سالوں پر محیط ہوتے ہیں لہذا نتائج کی طوالت کے باعث لوٹ مار کیلئے کافی وقت مل جاتا ہے او ر اسطرح ایک جگہ سے دوسری جگہ نام بدل بدل کر نئے نئے دفتر کھلتے رہے اور بند ہوتے رہے۔
لوگوں کی ہجرت کی ساتھ ساتھ وطن عزیز سے امن ، پیار اور سکون کی فاختائیں بھی کوچ کر رہی ہیں جبکہ انکی جگہ افراتفری ، ترسناکی اور محرومیوں کی کالی گھٹاوں نے لے لی ہے۔چہروں پر بے رونقی کا دورودورہ ہے اور افراتفری کے سیلاب ہیں مگر امن کے خورشید کا انتظار ہے کہ کب وہ طلوع ہو گا اور اسکی کرنیں ان کالی گھٹاوں کا سینہ چیر کر اس مٹی کو سکون کی حرارت سے ہمکنار کریں گی ؟ البتہ امید کی ہوائیں چلنی شروع ہو گئی ہیں اورکسی مثبت تبدیلی کے واضع آثارنمودار ہورہے ہیں، زمینی دھماکوں کے ساتھ ساتھ سیاسی دھماکوں کا بھی امکان ہے( یاد رہے کہ دھماکوں سے اب اتنے شناسا ہو گئے ہیں کہ انکے محاوروں کا لغت میں استعمال بے اختیار ہو جاتا ہے ) ۔
ملکی حالات اور واقعات میں شہری زندگی معطل ہو کر ر ہ گئی ہے ، لوڈ شیڈنگ ، مہنگائی اور پریشان حال زندگی سے کنارہ کشی ممکن نہیں اور نقل مکانی بھی اتنی آسان نہیں کہ اسکا مداوا بنے ، البتہ ایک ہفتہ میں ایک نئی زندگی کا آغاز ہو سکتا ہے کہ بحر طور کسی نہ کسی صورت میں تبدیلی تو نظر آئے گی۔ ایک ہفتہ میں امیگریشن ، جی نہیں بلکہ نکل مکانی ،ایک شش وپنج کی شکار زندگی سے بحرحال کافی بہتر ، قدرتی لوازمات سے بھرپور اور جاندار ماحول۔ شہری زندگی سے کسی گاوں کی طرف نکل مکانی کسی نہ کسی صورت ملک چھوڑنے سے بہتر ہے جہاں وطن کی مٹی کی خوشبو سے بھرا ماحول بھی موجود اور حالات کی خود سری سے چھٹکارا بھی ۔
چند روز قبل ایک جاننے والے ، ڈاکٹر حلیم صاحب تشریف لائے ، انکی عمر ستر برس سے زیادہ ہے مگر ماشاءاللہ اپنے روزمرہ کام میں چست ہیں ، چلنے پھرنے ، کام اور گفتگو میں بھی بہت حلیم مزاج واقع ہوئے ہیں۔ جناب فرما رہے تھے کہ زمانہ طالبعلمی میں وہ کافی عرصہ انگلینڈ رہ چکے ہیں اور تعلیم ،مکمل کرنے کے بعد اپنے وطن آکر اپنی قوم کی خدمت کر رہے ہیں ۔فرمانے لگے جو زندگی کا مزہ اپنے وطن میں ہے وہ دوسرے ممالک میں کہاں؟ بیرون ممالک اعلیٰ تعلیم اس لئے حاصل کی کہ اپنے وطن آکر اپنے لوگوں کو اس سے مستفید کریں ۔۔۔۔۔ انکی آئیڈئل گفتگو میں تو میں قطع کلامی نہ کر سکتا تھا البتہ لقمہ ضرور دیا ؛
ڈاکٹر صاحب! وہ بھی کیا زندگی ہوئی کہ نہ کوئی نوک جھوک ، نہ کوئی حسد کرنے والا ، نہ کوئی نفرت کرنے والا ، نہ کوئی طنزکرنے والا، نہ کوئی الجھن ، نہ کوئی سولجھن ، ایسی جذبوں سے عاری زندگی کا کیا لطف ہوگا؟ اب اگر کوئی آپ کو امیر ہوتے دیکھ کر حسد کرتا ہے تو اسکا اپنا مزہ ہے اور اگر آپکی کامیابی پر کوئی نفرت کا اظہار کرتا ہے تو اسکی اپنی چاشنی ہے اور اگر کوئی آپکو راہ میں روک کر آپکے معاملات میںخوامخواہ مداخلت کرتا ہے تو اسکا اپنا مزہ ہے ، اور اگر کوئی آپ سے ناراض ہوتاہے تو اسکو منانے کی اپنی ایک موج ہے ۔ کبھی محبتوں کی چھاوں اور کبھی نفرتوں کی شامیں ، کبھی الفت کے سائے اور کبھی حسد کی دھوپ بھی تو زندگی کے تسلسل کو قائم رکھے ہوئے ہے پیار کی ساری رتیں نچھاور کر رہی ہیں ۔ کتنی خوش آئین بات ہے کہ کوئی آپ کیلئے وقت نکالتا ہے اور نفرت میں یاد رکھتا ہے ، کوئی آپ سے مقابلہ نہیں کر سکتا مگر حسد تو کرتا ہے ۔ مگر یہ ساری نعمتیں تو اسی کو میسر ہیں جو اپنوں میں رہے ۔کبھی بچپن کی راہوں سے گزرے تو زندگی سے اٹھکھیلیاں کرے ، کبھی ہمجولیوں کے وصل کی بہاریں لوٹے اور کبھی مکتب کی گھنٹیوں کی لے کا سرور ، کبھی پیاروں کی گلیوں کے درشن اور کبھی والدین کی شفقت کے گھنے سائے ، کیا دولت کے انبار لگا دئے ائیں اور ان میں سے کوئی نعمت خریدی جاسکتی ہے؟
خوبصورت یادیں!!!
خوبصورت یادوں کے انمول موتی جنکو لمحوں کی مالا میں پرو کر الفت کے کھونٹی پر لٹکا یا جاتا ہے اورجب کبھی گوشئہ تنہائی میں گذشتہ ایام کو جپا جاتا ہے تو احساس کا آنگن انکی بھینی بھینی مہک سے لبریز ہو جاتا ہے۔
آج بھی اس مٹی کی خوشبو سانسوں میں بسی , شبنم کیطرح روح و قلب کو سیراب کئیے ہوئے ہیں۔۔۔
وہ حسین یادیں جہاں زندگی مجھ پر آشکار ہوئی اور وہ لمحے جو میں نے محفوظ کیے ہوئے ہیں۔۔
میرے بچپن کی راہوں کے گیت اب بھی اپنی میرے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔۔۔۔
وصل کی خوبصورت شاموں کی جھلک آج بھی قلب کو روشن قمقمے کیطرح روشن کیئے ہوئے ہے۔۔۔۔
ان پاوں کی آہٹ جو کسی مچلتی صبا کیطرح گدگداہٹ سے ہمکنار کرتی تھیں
آج بھی لطف کے جھروکوں سے جھانک رہی ہے۔۔۔
میرے محبوب کی پاوں کی آہٹ اب بھی میرے قلب کو لطف و سرور کی موسیقی میں مبتلا کر دیتی ہے۔۔۔۔
تصور کے آبگینے جو لطف و کرم کے جام انڈیلتے تھے آج بھی انکی چاشنی باقی ہے۔۔۔۔۔۔
خوشبو میں بسی میرے محبوب کی قربت اب بھی زندگی کو رقص میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔۔
اے دوست !!! انتظار کی وہ راہیں جو صدیوں سے وصل کی لذت سے سرشار ہیں۔۔۔انکو میرا سلام کہنا
ان وصل کی گھنی چھاوں کو جو ابھی تک سرور کی لے میں ہیں۔۔۔ میرا سلام کہنا
ان راہوں کی خشبو کو جو قلب و دماغ کو معطر کئے ہوئے ہیں۔۔۔۔ میرا سلام کہنا
ان بچپن کے دوستوں کو جو اب ذمہ داریوں کی بھینٹ چڑھ چکے۔۔۔۔۔۔میرا سلام کہنا
پانی کی اچھلتی اور اٹھکھیلیاں کرتی موجوں کو جنہوں نے میری زندگی کو ایک اٹھان سے روشناس کروایا۔۔۔ میرا سلام کہنا
خیراندیش
محمد الطاف گوہر

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button