ایڈز کے لیے نئی پالیسی کی ضرورت ہے، نئی تحقیق


ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کی 30 سالہ کوششوں کے بعد اب شاید اس بیماری سے نمٹنے کی لیے بنائی گئی عالمی حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

 

اس تحقیق کے مطابق ایڈز کے خلاف جدوجہد میں احتیاطی تدابیر کے بجائے اس مرض کے علاج کے لیے ادویات کی تیاری پر زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ محققین کے بقول ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے غالباﹰ یہی بہترین راستہ ہے۔

اس ریسرچ کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ ایچ آئی وی وائرس یا ایڈز کے مرض کی باقاعدہ تشخیص کے بعد اگر فوری طور پر مریض کا علاج شروع کر دیا جائے تو اس وائرس کے جنسی رابطوں کے باعث دیگر صحت مند انسانوں تک پہنچنے کے امکانات 96 فیصد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔ امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ NIH سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اینتھونی فوسی اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے مکمل کی گئی اس ریسرچ میں یہ بات زور دے کر تجویز کی گئی ہے کہ احتیاطی اقدامات اور تدابیر اپنی جگہ بہت اہم ہیں لیکن موجودہ حالات میں ایڈز اور اس کے وائرس کے خلاف بہتر سے بہتر ادویات کی جلد تیاری پر کہیں زیادہ رقوم خرچ کی جانی چاہیئں۔

افریقہ میں ہر سال چار لاکھ بچے HIV وائرس کے ساتھ ہی پیدا ہوتے ہیں

ڈاکٹر انتھونی فوسی کے بقول ماضی میں اس حوالے سے ایک لمبی بحث جاری رہی کہ ایڈز کی بیماری سے نمٹنے کی بہترین حکمت عملی کیا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ‘اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ علاج ہی بہترین تدبیر ہے’۔ ڈاکٹر فوسی کے مطابق اب پالیسی سازوں کے پاس مفید معلومات پہنچ چکی ہیں کہ ایڈز کے خلاف کس طرح کی پالیسی بنانی چاہیے۔ ”ایک ماہ قبل ہمارے پاس قابل اعتماد ڈیٹا نہیں تھا، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب ہمارے پاس اتنی معلومات ہیں کہ ہم موجودہ پالیسی تبدیل کر سکتے ہیں۔”

اس امریکی محقق نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایچ آئی وی اور ایڈز کے خلاف ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں مختلف طریقے اختیار کرنا ہوں گے، ‘بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ہر ملک میں مختلف طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے’۔

آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایڈز کے خلاف جنگ سے متعلق اپنائی گئی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ایڈز کے مہلک ثابت ہونے والے مرض کی دریافت آج سے 30 برس قبل 5 جون 1981ء میں ہوئی تھی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک کم ازکم 60 ملین انسان اس جان لیوا مرض کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ اسی بیماری کے ہاتھوں گزشتہ تین عشروں میں کم ازکم 30 ملین انسان ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2010ء کے دوران HIV وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے، اس کے خلاف عوامی شعور میں اضافے کے پروگراموں، نئی ادویات کی تیاری کے لیے تحقیق اور اسی مرض سے متعلق دیگر شعبوں میں مجموعی طور پر 16 بلین ڈالر خرچ کیے گئے۔ یہ امر اہم  ہے کہ براعظم افریقہ میں ایڈز کی بیماری سب سے زیادہ پائی جاتی ہے، جہاں ہر سال چار لاکھ بچے HIV وائرس کے ساتھ ہی پیدا ہوتے ہیں۔

DW

aidsDiseasesHealthHIVA AidsNew Policyprevention of aidsPrevention of diseases
Comments (0)
Add Comment