احادیث مبارکہ ﷺعباداتمنظر نامہ

رب تعالی کی بےشمار انوار و تجلیات سے لبریز ماہِ شعبان کی پندرہویں شبِ………… ( شبِ برات)

                             رب تعالی کی بےشمار انوار و تجلیات سے لبریز ماہِ شعبان کی پندرہویں شبِ………… ( شبِ برات)
اللہ کی جانب سے رحمتوں،برکتوں اور نارِ جہنم سے نجات والی رات
اللہ کی بے شمار رحمتوں، برکتوں، عظمتوں اور بخشیشوں والی شبِ برات

تحریر:-محمداعظم عظیم اعظم
ربِ کائنات اللہ ربِ العزت نے بعض کو بعض پر فضیلت و انفرادیت بخشی ہے یعنی یہ کہ انبیاؑمیں پیارے آقاحضور پُرنور حضرت محمد مصطفی ﷺ کو سب سے زیادہ فضیلت عطافرمائی ہے اِسی طرح سے تمام آسمانی کتب میں سب سے زیادہ عظمت اور توقیر قرآن مجید فرقانِ حمید کودی ہے اور بعض راتوں اور ایام کو بھی رب تعالی سبحانہ نے فضیلت کا ذریعہ قراردیاہے فضیلت کی راتوں میں شبِ قدر، شبِ برات، شبِ معراج اور شبِ عید کو اللہ تبارک تعالی نے بہت پسند فرمایاہے اللہ تعالی کا اِن راتوں کو پسند فرمانا بیشک! اُمتِ مصطفی ﷺ پر احسانِ عظیم ہے اور دنوں میں عاشورہ کے ایام باعثِ فضیلت ہیں اِن ایام میں زیادہ سے زیادہ یاد الہی کی کوشش کرنی چاہئے ۔urdu-hadees
ماہِ شعبانِ المعظم کی پندرہویں شب کو جِسے شبِ برات بھی کہاجاتاہے اِس شب کو رب ِکائنات اللہ رب العزت اپنے فضل وکرم اور اپنی رحمت کے سبب بے شمار گناہ گاربندوں کی مغفرت فرماتاہے اِ س شب کی فضیلت اور عظمت سے متعلق اللہ تعالی نے قرآن مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرمایا ہے ۔”اِس میں بانٹ دیاجاتاہے ہر حکمت و الاکام“اور یوں اِس ماہِ مبارکہ اور اِس کی پندرہویں شب کی احادیث مبارکہ میں بھی بڑے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشادہے کہ ”ماہِ شعبانِ المعظم بہت ہی برگزیدہ مہینہ ہے اور اِس ماہ ِمبارک کی عبادت کا بے حد ثواب ہے“۔
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ شعبان پانچ حرفوں کا مجموعہ ہے ”ش، ع، ب، ا،اور ن، کا پھر اِن حرفوں کی وہ تشریح اِس طرح سے فرماتے ہیں کہ ”لفظ شعبان میں حرف ”ش “ سے مراد ہے شرفِ قبولیت اعمال کے، حرف ”ع“ عزت ع عظمت دین ودنیا دونوں میں حاصل ہونا،حرف ”ب“ سے مراد انہوںنے برکتوں کا تمام اہل محمدیہﷺ پر نزول لیا ہے تو اِسی طرح حرف ”الف“ سے مراد انہوں نے دامن و امان کا بکثرت نازل ہونا اور اللہ عزوجل کا اپنے بندوں پر الفت و انوار کی زیادتی کرنااور اِسی طرح علمائے کرام نے لفظ شعبان کے آخری حرف ” ن“ سے مراد نجاتِ نار یعنی جہنم سے نجات کا راستہ کھلنا لیاہے اور برات کا پورامطلب بھی انہوں نے نجات والی رات لی ہے۔اِس رات کی خصوصیت یہ ہے کہ اِس رات میں اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کو اپنی خصوصی رحمت سے توازتاہے اِس رات ہر امر کا فیصلہ ہوتا ہے اور یہ رات بڑی مبارک اور اہم ہے اِس رات میں خالقِ کائنات اللہ رب العزت مخلوق میں تقسیم رزق فرماتاہے اور سال بھر میں ہونے والے واقعات و حوادث کو لکھ دیتاہے اور پورے سال میں انسانوں سے سرزد ہونے والے اعمال اور پیش آنے والے واقعات سے بھی اپنے فرشتوں کو باخبر کردیتاہے ۔
پیشِ رب سر کو چھکاو آگئی شبِ برات   بگڑیاں اپنی بناو آگئی شبِ برات
یعنی کہ دوسرے لفظوں میں آپ اِسے یوں سمجھ لیں کہ شبِ برات کوصحیح معنوں میں بجٹ والی رات بھی کہہ سکتے ہیں ۔سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ جنابِ رسول ِاکرمﷺ نے فرمایا ” اٹھوشعبان کے مہینے کی پندرہویں رات کو اِس لئے کہ بالیقین یہ رات مبارک ہے فرماتا ہے اللہ تعالی اِس رات کو کہ ہے کوئی ایساجو بخشش چاہتاہو مجھ سے تاکہ بخش دوںاور تندرستی مانگے تو تندرستی دوں اور ہے کوئی محتاج کہ آسودہ حالی چاہتاہوتاکہ اُس کو آسودہ کردوں چنانچہ صبح تک یہی ارشاد ہوتاہے۔
> گڑ گڑا کراے! مسلمانوں یقیں کے ساتھ اَب   جو بھی مانگو رب سے پاو آگئی شبِ برات
ُمیرے پیارے حضور پُرنور محمد مصطفی ﷺ نے اِس ماہِ مبارکہ شعبانِ المعظم کی پندرہویں رات( شبِ برات) کی بے انتہا برکتیں بیان کی ہیں جن سے متعلق چند احادیث مبارکہ پیش ہیں۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس نبی آخری الزماںﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” نصف شعبان کی رات میں اللہ تعالی قریب ترین آسمان کی طرف نزول فرماتاہے اور مشرک، دل میں کینہ رکھنے والے اور رشتہ داریوں کو منقطع کرنے اور بدکار عورت کے سوا، تمام لوگوں کو بخش دیتاہے “( غنیتہ الطعالبین)
> تُوبہ کرلو سرجھکاو پیشِ رب العالمین  خودکو دوزخ سے بچاو آگئی شبِ برات
حضرت انسؓ کا قول ہے کہ رسول خداﷺ سے افضل روزے دریافت کئے گئے تو آپ ﷺ نے جواب دیاکہ رمضان کی تعظیم میں شعبان کے روزے رکھناہے“
ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شب کو میں نے حضور اکرم ﷺ کو نہ پایا تو میں تلاش کے لئے نکلی آپ یقیع (قبرستان مدینہ) میں تھے آپﷺ نے فرمایا! کہ اے عائشہ ! میرے پاس جبرائیل ؑ تشریف لائے اور کہا کہ آج نصف شعبان کی رات ہے اِس میں اللہ تعالی اتنے لوگوںکو جہنم سے نجات دے گا جتنے قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بال ہیں (قبائل عرب میں اِس قبیلے کی بکریاں سب سے زیادہ ہوتی تھیں) مگر چند بدنصیب افراد کی طرف اِس

urdu-hadees

Related Articles

Back to top button