URDUSKY || NETWORK

‘جب تک مصباح کوچ ہیں، پاکستان کی ٹی20 ٹیم کبھی اچھے نتائج نہیں

50

Pakistan ‘struggling in every department’ in T20Is

سابق قومی کرکٹر باسط علی نے ناتجربہ کار سری لنکن ٹیم کے ہاتھوں عالمی نمبر ایک پاکستان کی ٹی20 سیریز میں شکست پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک مصباح الحق کوچ ہیں اس وقت تک پاکستان کی ٹی20 ٹیم اچھے نتائج نہیں دے گی۔

سری لنکا نے عالمی نمبر ایک پاکستان کو پہلے ٹی20 میں 64 اور دوسرے میچ میں 35 رنز سے شکست دے کر سیریز 0-2 سے اپنے نام کر لی تھی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے باسط علی نے کہا کہ چھوٹے فارمیٹ میں ہم عالمی نمبر ایک ہیں اور سری لنکا چھوٹی ٹیم ہے لہٰذا دباؤ ہمیشہ ہم پر ہی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سری لنکن ٹیم دو ون ڈے میچ ہار چکی تھی اور جب بھی لمبا میچ ہو گا تو چاہے ٹیسٹ میچ ہو یا ون ڈے، پاکستانی ٹیم ہی سری لنکا کو ہرائے گی لیکن بدقسمتی سے سری لنکا نے 10 سال میں پہلی مرتبہ ہمیں ٹی20 سیریز میں شکست دی ہے۔

عمر اکمل اور احمد شہزاد ٹیم میں واپسی پر بدترین ناکامی سے دوچار ہوئے جہاں عمر اکمل دونوں میچوں میں گولڈن ڈک پر آؤٹ ہوئے جبکہ احمد شہزاد نے بھی مایوس کن کھیل پیش کیا۔

ٹیم میں واپس آنے والے عمر اکمل اور احمد شہزاد کے حوالے سے سوال پر باسط علی نے کہا کہ میں نے رواں سال ورلڈ کپ کے دوران میں نے کہا تھا کہ شعیب ملک اور محمد حفیظ کو ‘تھینک یو ویری مچ’ کہہ کر رخصت کردینا چاہیے، اسی طرح ان دونوں کے ساتھ بھی یہی کرنا چاہیے۔

سابق بلے باز نے کہا کہ 10 سال سے عمر اکمل اور احمد شہزاد کھیل رہے ہیں لیکن اس کے بعد بھی ہم ان کو چانس دے رہے ہیں لیکن دوسری جانب عابد علی نے پہلے ون ڈے میں مین آف دی میچ ایوارڈ جیتا لیکن اسے ٹی20 کے 16رکنی اسکواڈ تک میں نہ رکھا گیا جو سراسر زیادتی ہے اور اسی زیادتی کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کی یہ صورتحال نظر آ رہی ہے۔

کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کے بارے میں باسط علی نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ مجھے مصباح نے بالکل مایوس نہیں کیا، مجھ سے زیادہ مصباح کو کوئی نہیں جانتا، ان کی سوچ ٹی20 کی نہیں ہو گی۔

سابق کرکٹر نے کہا کہ جب تک ٹی20 میں مصباح الحق کوچ ہیں، اس وقت قومی ٹیم اچھے نتائج کبھی بھی نہیں دے سکے گی البتہ وہ ٹیسٹ میچ کے اچھے کوچ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ اہم قدم اٹھاتے ہوئے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 میچوں کے لیے الگ الگ کوچز بنا دینے چاہئیں۔