منظر نامہ

نو ڈیرو، گڑھی خدا بخش کو خطرہ ، قحط سے آٹھ لاکھ متاثرین جاں بحق ہو سکتے ہیں ، اقوا م متحدہ

نو ڈیرو، گڑھی خدا بخش کو خطرہ ، قحط سے آٹھ لاکھ متاثرین جاں بحق ہو سکتے ہیں ، اقوا م متحدہ

مظفر گڑھ، لاڑکانہ(مانیٹرنگ ڈیسک) کیرتھرکینال میں پڑنے والا شگاف 100 فٹ چوڑا ہوگیا ہے اور آبپاشی ذرائع کے مطابق کیرتھر کینال کے سیلابی ریلے کو شہداد کوٹ کی طرف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ریلا اس وقت تیزی سے رتوڈیرو اور نوڈیرو کی جانب بڑھ رہا ہے کیرتھر کینال میں شیراں پور گاؤں کے مقام پر پڑنے والے 100 فٹ چوڑے شگاف سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے اور سیلابی ریلا تیزی سے شکارپور اور رتوڈیرو کے علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ دوسری طرف گڑھی یاسین کی جانب بڑھ رہا ہے سنگین صورتحال کے باعث ڈی سی او لاڑکانہ حسن نقوی نے رتوڈیرو اور ملحقہ علاقوں کے شہریوں کو الرٹ رہنے کی وارننگ جاری کر دی ہے کیرتھر سے نکلنے والا سیلابی ریلا اب تک 25 سے زائد دیہات اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے سیلابی ریلے سے شیراں پور، کرمپور، جیکب آباد اور شکارپور کے متعدد علاقے زیر آب آچکے ہیں۔ سیکڑوں افراد سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ انتظامیہ نے گڑھی خدابخش میں شہید بینظیر بھٹو کے مزار کو بچانے کیلئے بندبنانے کی ہدایت کردی ہے۔ رتوڈیرو میں شہریوں کا الرٹ رہنے کا حکم دیدیاہے۔ رتوڈیرو بچانے کیلئے شہر سے چار کلو میٹر کے فاصلے پر جنت برانچ بند مضبوط بنانے کا کام جاری ہے نوڈیرو اور گڑھی خدابخش بچانے کے لئے بند مضبوط کئے جا رہے ہیں۔ گڑھی خدا بخش کو بچانے کے لئے چاروں اطراف نیا بچاؤ بند تعمیر کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ رتو ڈیرو کو بچانے کے لئے ہیوی مشینری گاؤں محمد پور اُوڈھو پہنچائی گئی۔ رتو ڈیرو اور گڑھی خدا بخش بھٹو میں شہید بے نظیر بھٹو کے مزار اور گڑھی خدا بخش بھٹو کو ڈوبنے سے بچانے کے لئے لاڑکانہ انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر گاؤں محمد پور کے درمیان پانی کا رخ تبدیل کرنے کے لئے لنک روڈ کو 4 کٹ دیئے ہیں، جس کی وجہ سے پانی کا رخ گڑھی خیرو اور شہداد کوٹ کی طرف ہوجائے گا۔ کھیر تھر کینال کو پڑنے والے شگاف سے 25 سے زائد دیہات زیر آب آگئے جبکہ محمد پور اُوڈھو سمیت علاقے کے 50 سے زائد نواحی گاؤںسے لوگوں نے انخلاء شروع کردیا ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی مزار گڑھی خدا بخش بھٹو کو تھر کینال سے آنے والے سیلابی پانی سے بچانے کے لیے لاڑکانہ انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے جس کے باعث لاڑکانہ انتظامیہ نے پارٹی قیادت کے حکم کے بعد ہیوی مشینری سے حفاظتی بند تعمیر کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ سندھ کے وزیر جام سیف اللہ اور قانون کے صوبائی وزیر محمد ایاز سومرو کے ساتھ کھیر تھر کینال سے لگنے والے دو شگاف کے بعد سیلابی پانی کا جائزہ لینے کے لیے ہیلی کاپٹر سے فضائی جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بعد میں رتو ڈیرو پہنچ کر لاڑکانہ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ گڑھی خدا بخش بھٹو کو سیلابی پانی سے محفوظ کرنے کے لیے نیا حفاظتی بند تعمیر کیا جائے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر لاڑکانہ انتظامیہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو سمیت جمہوریت کے شہیدوں کا آخری آرامگاہ بچانے کے لیے گڑھی خدا بخش بھٹو کو چاروں اطراف نیا حفاظتی بند تعمیر کرنے کے لیے ہیوی مشینری سے ہنگامی طور پر کام شروع کردیا ہے۔ رتوڈیرو اور گڑھی خیرو روڈ کے درمیان چھوٹا پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے جس کے نتیجہ میں متعدد گاڑیاں پھنس گئی ہیں سیلابی ریلے سے حیدر آباد شہر کو محفوظ بنا دیا گیا لیکن دبائو کے باعث ناظم آباد اور لطیف آباد کے بعض علاقوں میں پانی جمع ہوگیا ہے ،کوٹری میں حفاظتی پشتوں میں 6 مقامات پر دبائو ہو رہا ہے،ٹھٹھہ کے حفاظتی بند شدید دبائو کے باعث سجاول ،میر پور ،وٹورو، میر پور ساکرو، کبڈی بندر شاہ بند بندرکو خطرات کے درپیش ہیں ،شینجر جھیل میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جس کے باعث نیشنل ہائی وے پر پانی آنے کا خطر ہ پیدا ہوگیا،دوسری طرف ڈیرہ الہ یار میں نیا سیلابی ریلہ داخل ہوگیا جس سے صعبت پور،روجھال جمال اور گندا خاکے علاقوں میں پانی کی سطح بلند ہوگئی ، مظفر گڑھ میں لعل پیرو پاور بارش کے قریب سے سیلابی ریلے میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے 9 افراد کی لاشیں ملی ہیں ،گیارہ لاشوں میں تین خواتین کی لاشیں بھی شامل ہیں تمام لاشوں کو نشتر ہسپتال ملتان منتقل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ سبی کا ایئرپورٹ سیلاب کے باعث بند کر دیا گیا ہے کراچی میں گلشن معمار کے متاثرین کیمپ میں گیسٹرو سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا ہے سندھ میں سیلاب سے گیسٹرو کی وباء پھیلنے سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 76 ہو گئی غیر معیاری خوراک، آلودہ پانی اور صحت و صفائی کی خراب صورتحال کے باعث متاثرین کے کیمپوں میں زیادہ اموات ہو رہی ہیں۔ فلڈ کمیشن کے چیف انجینئر عالمگیر خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس وقت کوٹری بیراج پر پانی کی آمد سوا نولاکھ کیوسک کے لگ بھگ ہے جبکہ وہاں سے نو لاکھ سولہ ہزار کیوسک پانی خارج کیا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ گڈو اور سکھر کے مقام پر پانی کے دباؤ میں کمی آئی ہے اور اب وہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اس کے علاوہ پنجاب میں تونسہ اور چشمہ کے مقامات پر بھی پانی میں کمی ہو رہی ہے اور ان دونوں بیراجوں پر بھی درمیانے درجے کا سیلاب ہے سندھ کے صوبائی وزیر آغا سراج درانی کا کہنا ہے کہ نوڈیرو روڈ پر پانی آنے کے باوجود رتوڈیرو اور نوڈیرو کو تاحال کوئی خطرہ نہیں تاہم گڑھی خدابخش کے حفاظتی بند کو مضبوط کیا جا رہا ہے خیال رہے کہ نوڈیرو بھٹو خاندان کا آبائی علاقہ ہے۔ خیبر پختونخواہ میں سوات کے عل
اقے کالام میں ادویات اور خوراک کی قلت کے باعث 10بچے جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ ضلع کوہستان اور گلگت بلتستان میں بھی خوراک اور پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت ہے محکمہ موسمیات نے دریائے راوی کے کناروں پر رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی دوسری وارننگ بھی جاری کر دی ہے۔ سیلاب کی اطلاع دینے والے مرکز کے مطابق دریا کے آس پاس کی آبادیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ حفاظتی اقدام کے پیش نظر علاقہ خالی کر کے دوسری جگہ منتقل ہو جائیں۔ دریائے راوی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور بارشیں ہونے سے اس میں اضافے کا بھی امکان ہے۔ اس وقت راوی سے 45 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے سیلاب آنے کی صوررت میں بہت زیادہ تباہی ہو گی لیکن مقامی لوگ علاقہ چھوڑنے کیلئے قطعی طور پر تیار نہیں ہیں۔ سیلابی ریلا 75 ہزار کیوسک کی حد سے بڑھ جانے کے بعد شاہدرہ کا بند توڑے جانے کا بھی امکان ہے۔دوسری جانب دریائے ستلج کے گرونواح کے علاقے یعنی دریا کے ساتھ ساتھ بسنے والوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ سیالکوٹ اور نارووال میں بارشوں سے دونوں اضلاع کے مختلف نالوں میں طغیانی آرہی ہے اور درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔ ادھر ڈیرہ اسماعیل خان شہر کو بچانے والے بند پر سیلاب کا شدید دبائو بند کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے امدادی کارروائیاں برائے نام ایک کلو میٹر اہم ترین بند کو بچانے کے لئے صرف ایک کرین پتھر ڈال رہی ہے۔
اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پانی میں پھنسے متاثرین تک فوراً امداد نہ پہنچائی گئی تو آٹھ لاکھ افراد قحط یا بیماریوں سے مر سکتے ہیں عالمی ادارہ خوراک کے ترجمان امجد جمال نے بتایا کہ آٹھ لاکھ متاثرین تک فوری امداد پہنچانا ہوگی انہوں نے مزید ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے کی اپیل دہرائی انہوں نے کہا کہ کئی علاقے پانی میں ڈوبے ہونے کی وجہ سے متاثرین تک ہیلی کاپٹرز سے ہی امداد پہنچائی جا رہی ہے اس وقت صرف تیرہ ہیلی کاپٹر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور اقوام متحدہ کو سینتالیس مزید ہیلی کاپٹرز فوری درکار ہیں اقوام متحدہ نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ پانی میں پھنسے آٹھ لاکھ افراد کو امداد پہنچانے میں مدد کی جائے۔ دوسری طرف عالمی ادارہ برائے خوراک کے پاکستان میں نمائندے کریس لون نے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں ساٹھ لاکھ افراد کو خوراک کی ضرورت ہے جبکہ انیس لاکھ متاثرین کو ایک مہینے کا راشن پہنچایا جا چکا ہے اسلام آباد میں پریس بریفنگ میں کریس لون نے بتایا کہ متاثرین تک ادویات اور خیمے پہنچانے اور مریضوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کیلئے مزید ہیلی کاپٹرز کی ضرورت ہے عالمی ادارہ کے نمائندے سلیم رحمت نے کہا کہ دس لاکھ سات ہزار متاثرین کو پناہ دے دی گئی ہے جبکہ چھبیس لاکھ متاثرین کو اب بھی پناہ کی ضرورت ہے یونیسیف کی نمائندہ بن الدہائی نے کہا کہ خواتین اور بچے سیلاب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جن میں ہیضہ، ملیریا اور جلد کی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کی رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں تقریباً 80لاکھ ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں جنوبی پنجاب میں سیلاب سے 21لاکھ ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں تباہ ہوئیں جن میں کپاس، چاول اور گنے سمیت دوسری فصلیں شامل ہیں بلوچستان میں سیلاب سے 2لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوئی یہاں بھی سیلاب گندم، چاول، مکئی، چنے اور سبزیوں کی تیار فصلیں بہا کر لے گیا سیلاب سے سندھ میں 16لاکھ 21ہزار ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی جس میں نقصان کا اندازہ 76 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
بشکریہ اوصاف

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button