منظر نامہ

دکھ کی کوئی سرحد بھی ہے

دکھ کی کوئی سرحد بھی ہے

تحریر: نورالعین ساحرہ
ہم جیسے اکثر پردیسیوں کی عید تو ویسے بھی زندگی بھر صرف اپنے ملک کو یاد کرنے میں ہی گزرا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ کوئی نئی یا غیر معمولی بات تو نہیں ہے ۔ بیرون ملک رہنے والے اکثر لوگوں کا یہ مشترکہ درد ہی ان کو مل کر یہ غم بانٹنے پر مجبور کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔لیکن اس بار آنے والی عید صرف خاموش ہی نہیں بلکہ اتنی اذیت ناک سسکتی ہوئی لگ رہی ہے کہ محسوس ہوتا ہے جیسے کسی زخم سے مسلسل قطرہ قطرہ خون رس رہا ہو۔ ہر طرف موت ہی موت بکھری ہے، مایوسی اور قنوطیت سی طاری ہے۔
سیلاب کی تصویریں دیکھ دیکھ کر سب خاموش ہیں، بے بسی کی عملی تصویر بننا کیسا لگتا ہے، یہ اب معلوم ہو رہا ہے،ا یک کے بعد ایک گاؤں اور ہزاروں کے بعد لاکھوں لوگ ہماری آنکھوں کے سامنے لقمہ اجل بنتے جا رہے ہیں۔
ٹی وی دیکھنے ، اپنا دل جلانے، آنسو بہانے، بے انتہا پریشانی ذہن پر لینے کے ساتھ ساتھ ڈالر، پاونڈز یا ریال بھیجنے کے علاوہ یہ لوگ اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟
سب سے پہلے سیلاب نے دلوں کو دہلا دیا ۔۔۔۔۔۔قدم قدم موت ، سانس سانس درد اور دور دیس میں بیٹھے لوگوں کی بڑھتی ہوئی اذیت اور احساس جرم۔۔۔۔۔۔۔کہ وہ اپنے لوگوں کے لئے کچھ کر نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس پر سانحہ سیالکوٹ نے تو جیسے سانسوں کو روک ہی دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کی دبی دبی سسکیاں کو گویا۔۔۔۔ بھیانک موت کی چیخوں میں بدل دیا۔۔۔۔۔۔۔۔آہ و فغاں کا طوفان اٹھا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ حیرت ہے وہ ماں کیسے زندہ ہے ابھی تک جس نے اپنے معصوم سے بھولے بھالے جگر گوشوں کے قیمہ نما ملغوبے کو اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخری بار دفنانے سے پہلے۔۔۔۔۔اس باپ نے دل پر صبر کا کو نسا پتھر رکھا ہو گا جس کی پوری نسل ہی ختم ہو گئی ہے۔
ہمارا ان سے رشتہ صرف مسلمان اور پاکستان کا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے علاوہ کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر وہ ویڈیو دیکھ کر غم کے مارے دل پھٹ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔زبان گنگ ہے اور ذہن ان نظاروں کو سچا ماننے سے انکاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنے دن ہو گئے راتوں کو نیند نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر وقت وہ معصوم سے دو چھوٹے بچے جنکی آنکھوں کی جگہ پر سوراخ نظرا ٓ رہے ہیں۔۔۔وہ ہمارے دائیں بائیں جیسے آ کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ وہ ہمیں جینے نہیں دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہم سے پوچھتے ہیں انصاف کب ہو گا ؟
چین ہمیں تب ملے جب ان دو معصوم بھائیوں کو مارنے والوں کے ساتھ بالکل یہی سلوک ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ آنے والی نسلیں کبھی ایسی غلطی نہ دہرا سکیں۔۔۔۔۔۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب اس اتنے بڑے ہجوم کے ساتھ یہی سلوک کیا جائے گا تو پھر ہمیں دو کی بجائے ساٹھ ستر لوگوں کے لئے دوبارہ سے بالکل اسی دکھ سے گزرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔ آخر وہ بھی انسان ہیں اور ان کی تکلیف سے بھی ہمیں ہی تکلیف ہو گی۔۔۔۔ ان کے گھر میں بچ جانے والے لوگوں کا درد ایک بار پھر سے ہمارا درد بن جائے گا۔۔۔۔اس کا کیا حل ہے؟
اگر وہ معصوم بچے ، سچ میں بھی ڈاکو مان لئے جائیں تب بھی کسی انسان کو اتنا وحشیانہ تشدد کرنے کی اجازت نہیں دی سکتی تھی۔۔۔۔۔اول تو آ ٓپ کسی کو خود مار ہی نہیں سکتے ۔لیکن اگر مارنا ہی ٹھہرا تھا ظالمو۔۔۔۔۔ تو خدارا ۔۔۔۔۔ایک ایک گولی ہی مار دی ہوتی۔۔۔۔۔ دو تین منٹ تڑپ کر ٹھنڈے ہو جاتے مگر اتنی اذیت ناک موت دینا کسی انسان کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ناقابل معافی ہے۔۔۔ البتہ تب جائز ہو سکتا ہے اگر مرنے والے نے اپنی زندگی میں کسی اور انسان کو اتنی ہی بے دردی اور درندگی سے مارا ہو۔۔۔۔۔۔۔ تب ہم یہ سزا دینے کے بعد یہ کہ کر خود کو بہلا سکتے ہیں۔۔۔آنکھ کے بدلے آ ٓ ٓنکھ، کان کے بدلے کان، جان کے بدلے جان۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اب کیسے دل کو بہلائیں۔۔۔۔۔؟ ان دو بچوں کی صورت کبھی ذہن سے نہیں نکلتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا ایسی بہت سی لاشیں جن کی موت تو ایسے ہی ہوئی مگر ان کی ویڈیو ہم تک نہ پہنچ پائی جو اس قدر ذہنی تناو کا باعث بن جاتی کہ کسی انسان کی زندگی ہی بدل جاتی۔
وہ لاشیں ہم سے کہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس پتھروں کے دیس سے تعلق توڑ دو۔۔۔۔۔۔ اب کبھی دوبارہ خود کو پاکستانی مت کہلوانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ پاکستان نہیں جس پر تمھیں فخر کرنا تھا اور دوسروں سے کروانا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اپنے امریکن آفس میں لگی تمام پاکستانی مصنوعات کو بھی ہٹا دو کجا کسی کو تمھاری اصلیت معلوم ہو جائے ۔۔۔۔ یہ وہ دیس نہیں جس کے لئے تم امریکیوں سے اس وقت لڑائی کرو ۔۔۔۔ جب وہ مسلم ملکوں کو پٹرول کی صنعت میں نقصان پہنچانے کے طریقوں پر مشتمل ایک ای میل پوری کمپنی کو بھیج دیں اور یہ میل بھیجتے وقت ان کو یاد نہ رہے کہ اسی کمپنی میں ایک مسلمان پاکستانی لڑکی بھی کام کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ اپنی جاب کی پرواہ کئے بغیر میل بھیجنے والے دوسرے ڈیپارٹمنٹ کے پریزیڈنٹ کے آفس میں جواب طلبی کرنے پہنچ جائے ، لیکن اب۔۔۔۔۔! اب وہ لڑکی کیا کرے ۔۔۔۔۔۔۔؟ کہاں منہ چھپائے ؟ ہے کسی کے پاس جواب اسکا؟
جو ٹائم اسکوائر والی بڑی اسکرین پر سیلاب زدگان کی بجائے پوز بنا بنا کر کھڑے سفارت کاروں کی تصویریں دیکھے؟
جہاں سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات عام ہو جائیں۔۔۔۔۔
جس کے ملک کی کرکٹ ٹیم پر رشوت لینے کا الزام لگ رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا یہ درد اسی طرح بڑھتا رہے گا ۔۔۔۔ اس درد کی کوئی حد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دکھ کی کوئی سرحد بھی ہے؟
سم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کو کوئی بھی بڑے سے بڑا اور برے سے برا سانحہ یا دکھ اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا جب تک کہ اس مصیبت سے گزرنے والا خود ان کا خونی رشتے دار نہ ہو۔ پتھر کے لوگ۔
پردیسیوں کی عید تو ویسے بھی زندگی بھر اپنے ملک کو یاد کرنے مین گزرا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
عید آنے والی ہے مگر دل پر شدید مایوسی اور قنوطیت طاری ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button