منظر نامہ

اس ماحول میں شیاطین سمایا کرتے ہیں فرشتوں کا کیا کام؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تحریر: محمدیونس عالم
ہلاکوخان بغدادکی سرحدپرکھڑاحیران و سرگرداں تھا۔ایک نظر بغداد کے دروازے پرڈالتا تودوسری نظراپنی فوج ظفر موج پرڈال کر سوچ میں پڑجاتا۔ہلاکوخان ایسا سفاک بھلا کیوں پریشان ہونے لگا؟پریشانی بجا تھی کہ مخبرنے خبر یہ دی تھی کہ اس دیوار کے اُس پار جس قوم سے واسطہ پڑنے والا ہے اگرکوئی معجزہ رو نما ہو تو انہیں زیرکیا جا سکے ورنہ کبھی یہ محکوم نہیں ہوئے۔بغداد،کہ جو کُل علوم و فنون کا خلاصہ تھاکوئی کیسے بے دھڑک اس قلعے پر شب خون مار سکتا تھا۔مگر ہلاکوخان کی شوری دور کی کوڑی لے کر پہنچی اور کہاعالی جاہ!اگر ہماری مانیں تو بھیس بدل کر اس شہر میں خود پہنچ کر حالات کا جائزہ لیں اور پھر کوئی فیصلہ صادر فرمائیں۔ دروغ برگردنِ راوی ہلا کوخان ایک درویش کا روپ دھار کرچند ساتھیوں سمیت بغداد میں داخل ہوا۔وسط بغدا میں پہنچ کر ہلاکو خان نے وہ منظر دیکھا جسے تاریخ نے تین اقوال کے ساتھ اپنے سینے میں محفوظ کیا۔ایک طرف ”وکیلِ فلاں،مناظرڈمکاں،علامة الدہر والقہر“اپنے آتش مزاج مریدوں کے جمِ غفیر میں آستین چڑھائے ایسے کھڑے تھے کہ ان کے مقدس کنج لب پرشعلہ نوائی کے رقص نے ماحول کوقہرآلودکررکھا تھا۔اور دوسری طرف رنگا رنگ چغہ پوش شرق و غرب میں پھیلے القابات کے بیچوں بیچ فتووں کے ”ناقابل شکست“ہتھیارلئے بے رحمی سے مدمقابل کے گریبان پھاڑ رہے تھے۔قافیہ اور ردیف سے آراستہ پیراستہ سخنہائے دلنشیں سے قتل عام کرنے والے ان مناظرین کا موضوعِ بحث مچھر اور کوے کی حلت و حرمت رہا ہو یاپھرفرشتوں کے مذکریا مﺅنث ہونے کا معمہ،اس سے کوئی غرض نہیں۔مگر اتنا یقینی ہے کہ علم و دانش سے بے نیازعلّامہائے وقت لایعنی مباحث میں الجھ کراس قدر سفاکی سے کشتوں کے پشتے لگانے کے عمل سے گزررہے تھے کہ الامان والحفیظ!پھر کیا تھا؟ہلاکو خان دیدنی شادمانی لے کر واپس اپنے لشکر میں لوٹا۔پہلے اپنے لشکر سے مخاطب ہوکر ایک تاریخی جملہ کہا:تم مجھ کو ڈراتے رہے کہ ان فصیلوں کے اُس پارجو قوم رہتی ہے اسے فتح کرنامجھ ایسے فاتح کے بس کی بات نہیں۔مگرتم لوگوں کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ میں نے اپنی عسکری تاریخ میں اس قدر کمزور دشمن نہیں دیکھا۔پھر ہلاکونے پیش قدمی کی اور بغدادکی فصیل پر کھڑے ہوکر اس نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے دوسرا تاریخ سازطنزیہ جملہ کہا:اے مسلمانوں!تم کہتے ہو کہ آسمانوں میں ہمارا ایک خدا رہتا ہے۔ہمارے اچھے اعمال کی وہ جزا دیتا ہے اور سیاہ کاریوں پر عذاب اتارتا ہے۔تو یاد رکھو!تمہاری سیاہ کاریوں کے نتیجے میں تمہارے خدانے مجھے عذاب کی صورت تم پر نازل کیا ہے۔بہرطور اب تم نے اس عذاب سے گزرنا ہوگا کہ روئے زمین پراس قدر نااہل معززمیں نے نہیں دیکھے۔ہلاکونے ہاتھ بلندکرکے ایک چیخ ماری اوراگلے ہی لمحے میں بغدادچترال کے کسی پولوگراونڈکا منظرپیش کرنے لگا۔دشمن کے گھوڑوں نے مسلمانوں کے سروں کا جی بھرکرفٹبال کھیلا۔وسیع و عریض رقبوں پر پھیلی بے مثل خانقاہیں اورمدارس زمین کے ساتھ برابر کردی گئیں۔منبر ومحراب جسے اس وقت کے”شمشیربے نیاموں“نے اپنے سرکس لگا کر موت کا کنواں بنادیا تھا انہیں اصطبل میں تبدیل کردیا گےا۔علوم و فنون کا حاصل ذخیرہ دجلہ و فرات میں پھینکا گےا تو برسوں تک آسمان دجلہ و فرات کوسیاہ رنگ میں بہتے دیکھتا رہا۔یہیں رک جانا چاہتا ہوں۔مگرساری توانائیاں باہمی افتراق پر خرچ والے ساکنانِ شہرمزیدتوجہ کی زحمت فرمائیں کہ ہلاکوخان نے کہا سفید ریش بوڑھوں سے لے کرشیر خوار بچوں تک سبھی موت کے گھاٹ اتارے جائین گے تو اس دل کو قرارنصیب ہوگا۔سووہ مخلوق جسے انسان کہا جاتا ہوزمین پرگائے بکروں کی طرح بے حفظ و اماں تڑپ رہی تھی۔ہلاکو نے چارسو نظر دوڑئی تو کہا:مجھے اب بھی کچھ بو آرہی ہے۔اس شہرکی زمین پر چلتے پھرتے جانوراور ہومیں اڑتے پرندوں کوبھی نشانہ بناو۔اگلے لمحے صرف انسانیت ہی نہیں بلکہ پوری حیوانیت کے سر اوپر دھول اڑتی دکھائی دے رہی تھی۔ہلاکو اٹھااورلاشوںکے انبار پر کھڑے ہوکرچار سو ایک ایک چیز کا جائزہ لیا urdusky-writerاورپھراپنی افواج سے مخاطب ہوا:مجھے اب بھی بوآرہی ہے،سوپورے شہر میں پھیل جاواور گلی کی نکھڑوں پر کھڑے ہوکر اذانیں دو۔جنہیں اذان کے الفاظ آتے تھے وہ حکم بجا لائے۔اذان کی آواز سن کر وہ مسلمان جو زیرزمین تہہ خانوں اور خندقوں میں چھپے ہوئے تھے وہ دھوکے میںپڑکررفتہ رفتہ باہر آنے لگے۔ظاہرہے پھر ان کا انجام بھی وہی ہونا تھا جو پہلوں کا ہوا۔
یہ تو خیربغداداور اہلِ بغداد کی داستان رہی۔کتابیں بھری پڑی ہیںمگر ضروری نہیں کہ ہر بات کتاب کی سطروں پر ملے۔جوبات سطروں میں نہیں مگر دعوتِ فکردیتی ہے وہ یہ ہے کہ بغداد کی سرزمین پر وہ مسلمان جو قوم اور نسل کی بنیاد پرتقسیم ہوگیا تھا جب خنجر سینوں کے پارہوئے تو معلوم چلا کہ خون کا رنگ تو سبھی کا”ایک جیسا“یعنی سرخ تھا۔جن شیوخ نے آمین بالجہراور آمین بالسر کو کفر اور اسلام کا مسئلہ بنا کر اس مت کو فرقوں میں بانٹ دیا تھا وقتِ مرگ ان سب کی زبانو پرالامان الامان کی ”ایک“ جیسی ہی صدائیں تھیں۔جو پگڑیوں کے رنگوں میں الجھ کرایک دوسرے کی جانب پشت کرکے کھڑے تھے بعد ازمرگ انہیں ایک ہی رنگ کا کفن میسرآیا۔جو محرم اور ربیع الاول کے مبارک مہینوں پر قابض ہوکر ماہ وایام کی برتریاں بتاکر خطبوں کی تجارت کرتے تھے جب قتل عام ہوا تو سب” ایک “ہی تاریخ میں مارے گئے ۔جوتین بائی تین کی مسجدیں بناکرمخالف مسلکوں پردراوانے بند کرکے بیٹھے رہے وقت تدفین انہیں” ایک“ ہی قبرمیں با جماعت دفن کردیا گیا۔ تلخیوں سے بھری یہ پوری تاریخ اٹھایئے توہزارباتیں پڑھنے میں آتی ہیں مگرنگاہیں اس بات کو ترس گئیں کہ کبھی ایک آدھ سطریوں بھی تو رقم ملے کہ جب مسلمانوں پرحملہ ہواتو امراءالعساکرمسلمانوں کے دانت چیک کررہے تھے کہ ان میں کون ہے جو خستہ مقبروں میں پڑھی انسانیت کوسماعت پرقادر سمجھتے ہیں اور کون انہیں عذاب تک سے محفوظ گردانتے ہیں۔کس کا عمامہ گیارہ گز کا اور کس کا لنکاباون گز کا ہے۔دورانِ نمازکون رفع یدین جیسے ”جرمِ عظیم“کی جسارت کررہاہے اوکون ہے جو عدمِ رفع یدین جیسے”ناقابلِ معافی گناہ“میں مبتلا ہے۔کتنی عجیب بات ہے کہ امتِ مرحومہ تو ہمیشہ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار دھڑوں میں تقسیم ہوتی ہے اور اس امت کا دشمن صرف” ایک“ ہوتا ہے۔
بغداد اب بھی ہے مگر اس کا دبدبہ اورطنطنہ مباہلوں اور مناظروں تلے دب کر فنا ہوگیا۔کیوں نہیں سوچتے کہ ہزاروں کے مقابلے میں تین سو تیرہ کو ظفرمندکرنے والا رب اس بغداد میں کیوں نہیں آیاکہ جہاں”حضرت جناب“ خون میں اور”جامع مسجد“ان نجس جانوروں کے پیشاب میں لتھڑی ہوئی تھی جوان لوگوں سے بھی بدتر تھے جنہیں ہول سیل فتووں کے مطابق اسلام کے دائرے سے باہرکردیئے گئے تھے۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ جب میدانوںمیں فضائے بدر نہ ہوتونصرت کا اور قطار اندر قطار فرشتوں کا کیا کام۔اگرشاہوں کی نازک طبعتیں اورنازنین سماعتیں کچھ سننے کی روادار ہوں تو سوال کروں کہ اس وقت پنجاب بھرمیں غیرضروری مسائل میں الجھ کرکفراور اسلام کا جو تماشہ لگا یا گیا ہے اس کا حاصل کیا ہے۔یا یوں کہیئے کہ مقاصد کیا ہیں؟کیا ہم نے ابد تک کیلئے کنووں میں رہ کر اپنے آج سے باہرنہ نکلنے کی قسم اٹھارکھی ہے؟لبنان کی حزب اللہ اگراکتالیس دنوں میں اسرائیل کو مات دیدے توہم زمانے بھر میں کامرانی کا راگ الاپتے ہیں مگرحزب اللہ کی پالیسیوں سے پرہیزمیں ہی دنیا اور آخرت کی کامیابی جانتے ہیں۔مصر کے اخوانیوں کی لازوال قربانیوں پربے تکان لیکچرجھاڑتے ہیں مگر حرام ہے جو کبھی اس پہلو پر بھی نظرڈالیں کہ تختہ دار پرجھولنے کی روایت سے بھی زیادہ اخوانیوں کا وہ صبراور بردباری قابلِ رشک ہے جس کا تصوراس دیس کے مکتب میں ممکن نہیں ہے۔چھوڑیئے بابا اخوانیوں کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔پنجاب سے لے کر سندھ تک وہ مذہب کے ٹھیکیدارجن کی کُل صلاحیت یہ ہے کہ یا تووہ خطیب ِ بے بدل ہے،یابے مثل ذاکر ہے یاتوپھرحمدونعت کا سیزن لگانے والاکوئی ”بلبلِ مدینہ“ہے ان سب کے چغے پھاڑکرجب تک اپنی اوقات میں لاکھڑانہیں کیا جائے گا اس وقت تک ذرہ بھر مسئلہ بھی حل نہیں ہونے والا۔سلیقہ مندی کے ساتھ الفاظ و حروف کا طومارباندھنے والے وہ ٹیوشن برانڈحضرات جنہیں کم از کم وصی شاہ کے لیول کا شاعر ہونا چاہیئے تھا وہ اپنے زنان خانوں میں مِنی دارلافتاءکھولے بیٹھے ہیں اور دو کے ساتھ ایک فتوی فری دیتے ہیں،مقام شرم ہے کہ ہم کس قدر نا اہل ہوئے کہ انہی کو مسلک کا سرخیل باور کرواتے پھرتے ہیں۔اسلام میں نہیں صرف ایک ہی مسلک میں تہترفرقے وجود میں آچکے ہیں۔اختلاف رائے کی سوچ بھی لیں تو عزت کے لالے اور اختلاف کرہی ڈالیں تو جان کے لالے پڑجاتے ہیں۔یہ کیا تماشہ ہے کہ اصاغر تو مسندوں پر بٹھادیئے گئے اوراکابراسلام کے بالکل بارڈر پر کھڑے اپنے ایمان کی سلامتی کیلئے فکرمندہیں کہ کہیں زلف برداراصاغرکے ارزاں فتوے نہ لے ڈوبیں۔فضائے بدر یہ ہے امت احمد مرسل ﷺ باہم ایک دوسرے پر مہربان اوراغیارکیلئے قہر کی تلواربن جائیں۔مگرمعاملہ یکسر بر عکس ہے،ہم باہم دست وگریبان ہین اوراغیارپرمہربان ہیں۔اس ماحول میں شیاطین سما یا کرتے ہیں فرشتوں کا کیا کام؟

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button