معاشرہمنظر نامہ

بھارت میں بچیوں کے خلاف امتیازی سلوک

بھارت میں بچیوں کے خلاف امتیازی سلوک  

بھارت میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی شرح کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ نئے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بھارت میں چھ برس سے کم عمر کے ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد کی 914 ہو گئی ہے۔

 

1947ء میں آزادی کے بعد سے بھارت میں لڑکیوں کی یہ تعداد کم ترین بتائی گئی ہے۔ دس برس قبل ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد 927 تھی۔ بھارتی معاشرے میں لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دی جاتی ہے اور وہاں کئی مرتبہ والدین یہ پتہ چلانے کے بعد کہ ان کے گھر میں آئندہ پیدا ہونے والا بچہ ایک لڑکی ہو گی، حمل ضائع بھی کروا دیتے ہیں۔

مختلف اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں بچیوں کو قتل کرنے کی روایت کافی پرانی ہے۔ وہاں بہت سے والدین بچیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور غریب والدین اپنی بچیوں کی شادی کے لیے جہیز کا انتطام بھی نہیں کر سکتے، اس لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے ہاں کوئی لڑکی جنم نہ لے۔ بھارت میں اکثر شادی شدہ خواتین کو اس بارے میں بہت زیادہ دباؤ کا سامنا بھی ہوتا ہے کہ وہ لڑکوں ہی کو جنم دیں۔

1961ء سے ہی بھارت میں لڑکیوں کی شرح میں کمی واقع ہو رہی ہے

آج کل بھارت میں حاملہ خواتین الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے اپنے ہونے والے بچے کی جنس کا پہلے ہی پتہ چلا لیتی ہیں، اور جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ نامولود بچہ ایک لڑکی ہے، تو حمل گرا دیا جاتا ہے۔

دہلی یونیورسٹی سے وابستہ معاشرتی علوم کی ماہر گیتکا واسودیو کے بقول، ’اس سے قبل کہ ہم خود کو ایک آزاد خیال معاشرے کا حصہ سمجھیں، ہمیں بچیوں کے خلاف ہونے والے ظلم کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے‘۔

1961ء سے ہی بھارت میں لڑکیوں کی شرح میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس وقت ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد 976 تھی۔ واسودیو کے مطابق یہ نئے اعداد و شمار اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ لڑکیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں بھارت اجتماعی طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

عالمی سطح پر ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد ایک ہزار پچاس بنتی ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کے سیکریٹری جی کے پلائی نے کہا ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے فیملی پلاننگ کی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ چالیس برس سے اگرچہ  اس حوالے سے کئی اقدامات کیے گئے ہیں تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق بھارت میں ہر سال کم ازکم پانچ ملین بچیوں کو رحم مادر میں ہی موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔

نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے منسلک ڈیموگرافی کے ماہر پی کُلکامی کے مطابق بھارت میں نہ صرف دیہی علاقوں میں بچیوں کی پیدائش کو برا سمجھا جاتا ہے بلکہ وہاں کئی پڑھے لکھے لوگ بھی اپنے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی جنس کا پتہ کراتے ہیں تاکہ لڑکیاں ہونے کی صورت میں انہیں اس دنیا میں ہی نہ آنے دیا جائے۔

 

بشکریہ ڈی ڈبلیوڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button