سائنس و ٹیکنالوجیمنظر نامہ

پاکستان کوسیلاب کی’تباہ کاریوں سے بچایا جا سکتا تھا‘

ایک امریکی محقق کے مطابق سیلاب کا پیشگی پتہ چلا لینے والے یورپی موسمیاتی ادارے اگر پاکستانی حکام کو بروقت آگاہ کر دیتے تو گزشتہ برس آنے والے شدید ترین سیلاب کی تباہ کاریوں سے بڑی حد تک بچا جاسکتا تھا۔

گزشتہ برس جولائی اور اگست میں  تباہ کن مون سون بارشوں کے سبب پاکستان کا ایک بڑا علاقہ متاثر ہوا، جو ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب کا موجب بنا تھا۔ یہ سیلاب قریب 1700 انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بنا تھا۔ سیلاب سے قریب دو کروڑ افراد متاثر ہوئے، 17 لاکھ گھر جزوی یا کُلی طور پر تباہ ہو گئے اور 54 لاکھ ایکڑ زمین پر فصلیں تباہ ہو گئیں یا یہ زرعی زمین متاثر ہوئی۔

امریکی شہر اٹلانٹا میں قائم جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے شعبہ ’ارتھ اینڈ ایٹماسفیرِک سائنس‘ کے پروفیسر پیٹر ویبسٹر کے بقول، ’نہ صرف اس تباہ کاری سے بچا جاسکتا تھا بلکہ سیلاب کا دائرہ بھی کم کیا جاسکتا تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اگر ہم لوگ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہوتے تو ہم پاکستانی حکام کو آٹھ سے 10 دن پہلے ہی آگاہ کر دیتے کہ سیلاب آرہا ہے۔‘‘

سیلابی پانی 17 گھروں کی جزوی یا کُلی تباہی کی وجہ بناا

یورپ میں قائم موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے نظام ’یورپین سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ‘ (ECMWF) سے حاصل شدہ اعداد وشمار کے تجزیے کے بعد ویبسٹر اور ان کے ساتھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر اس ڈیٹا کا بروقت تجزیہ کر لیا جاتا، تو آسانی سے اس سیلاب کی پیش گوئی کی جا سکتی تھی۔

امریکہ کی ’جیوفزیکل یونین‘ (AGU)کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پیٹر ویبسٹر اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق اس ادارے کے ریسرچ جرنل Geophysical Research Letters میں اشاعت کے لیے قبول کر لی گئی ہے۔

دوسری طرف لندن میں قائم ECMWF نے یہ کہہ کر اپنا دفاع کیا ہے کہ وہ میڈیا یا عام لوگوں کو موسمیاتی پیشن گوئیاں فراہم کرتا ہے اور نہ ہی خطرات سے آگاہ۔ اس موسمیاتی ادارے میں 33 یورپی ممالک کو نمائندگی حاصل ہے۔ امریکی جیوفزیکل یونین نے ECMWF کی ایک محققہ Anna Ghelli کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ ادارہ اپنے رکن ممالک اور ایسے ممالک کو اعداد و شمار مہیا کرتا ہے، جن کے ساتھ اس  کا تعاون جاری ہے، پھر یہ ان کا کام ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف موسمیاتی پیش گوئی کریں بلکہ اگر ضروری ہو تو حکام کو کسی خطرے سے بروقت آگاہ بھی کریں۔

54 لاکھ ایکڑ زرعی رقبہ سیلاب کی نذر ہوا

AGU کے مطابق سیلاب سے متعلق بروقت معلومات اس لیے پاکستانی لوگوں تک نہ پہنچ سکیں کیونکہ ECMWF اور پاکستان میں موسم کی پیش گوئی کرنے والے قومی ادارے کے درمیان تعاون کا کوئی سمجھوتہ موجود نہیں ہے۔

اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق اگر اس موسمیاتی پیش گوئی کی تفصیلات پاکستان کو فراہم کر دی جاتیں تو پاکستان کے شمال مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور دریائی پانی پر نظر رکھنے والے ادارے سیلاب سے پیشتر ہی ڈیموں وغیرہ میں موجود پانی چھوڑ دیتے اور یوں سیلاب کی شدت میں کمی واقع ہو سکتی تھی۔

AGU کے بقول پاکستان کے اپنے محکمہ موسمیات نے بھی اس سیلاب سے متعلق بروقت پیش  گوئی جاری نہیں کی تھی۔

۔بشکریہ ڈی ڈبلیو ڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button