سائنس و ٹیکنالوجیمنظر نامہ

موسمیاتی تبدیلیاں: اختلافات ابھی بھی باقی ہیں

موسمیاتی تبدیلیاں: اختلافات ابھی بھی باقی ہیں

تحفظ ماحول کے لئے کرائی جانے والی کانفرنسوں کا بے نتیجہ رہنا، دعوؤں کے باوجود ناکام ہونا یا ان میں کسی نہ کسی مرحلے پر اختلاف پیدا ہونا ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ یہی حال چین میں کرائے جانے والے اجلاس کا بھی ہوا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ تھا کہ تحفظ ماحول کے موضوع پر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چین میں کوئی کانفرنس منعقد کرائی گئی تھی۔ اس چھ روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے جو امیدیں وابستہ کی  جارہی تھیں، وہ پوری نہیں ہو سکیں۔ اس طرح  نومبر کے آخر میں میکسیکو میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس  ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کمی کے حوالے سے بغیر کسی ٹھوس منصوبے کے ہی شروع ہو گی۔ چینی شہر تیان جن میں ہونے والے اجلاس کو میکسیکو کانفرنس کی تیاری کے تناظر میں دیکھا جا رہا تھا۔ عالمی ماحولیاتی کانفرنس29 نومبر سے 10دسمبر تک میکسیکو کے شہر کانکون میں منقعد ہو گی۔کوپن ہیگن سربراہ اجلاس کا ایک منظر

تاہم  مایوسی اور ناامیدی کے سائے میں ایک مثبت پیش رفت یہ ہوئی کہ میزبان ملک چین نے ترقی یافتہ ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس سے پہلے چین کی جانب سے ایسا بیان کبھی بھی نہیں دیا گیا تھا۔ عالمی براداری کی جانب سے ضررر رساں گیسوں کے اخراج کے حوالے سے چین اور امریکہ کو بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ بہرحال اس مرتبہ چین کا موقف تھا کہ ترقی یافتہ ممالک نے ماحول کو بہتر بنانے کے وعدے پورے نہیں کئے ہیں اور ابھی تک جو اقدامات اٹھائے ہیں، وہ ناکافی ہیں۔ امریکی نمائندے جوناتھن پیرشنگ کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس سے متوازن نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ یپرشنگ نے مزید کہا کہ تحفظ ماحول کی سمت میں پیش رفت کی سست رفتاری سال کے آخر میں میکسیکو میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس  پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔گزشتہ برس کوپن ہیگن سربراہ اجلاس بھی بے نتیجہ ہی رہا تھا

تیان جن کانفرنس اس لئے بھی نہایت اہم تصور کی جا رہی تھی کیونکہ اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی سمٹ سے قبل یہ آخری کانفرنس تھی۔ ماہرین پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ اگر تیان جن میں عالمی درجہ حرارت میں کمی کے لئے کوئی حتمی مسودہ تیار نہ کیا گیا، توکنکون سمٹ بھی بغیرکسی نتیجےکے ختم ہوسکتی ہے۔گزشتہ سال اقوام متحدہ کی کوپن ہیگن سمٹ بھی کوئی ٹھوس نتائج پیش نہیں کر سکی تھی، کیونکہ اس وقت بھی عالمی رہنما، عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو روکنے کےلئے کسی معاہدے پرنہیں پہنچ سکے تھے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کی سربراہ کرسٹیانا فیگیرس کا کہنا تھا یہ کانفرنس شرکاء کو ایک دوسرے کے قریب لانے کامیاب ہوئی ہے، جس کی وجہ سے کنکون میں فیصلے کرنے میں آسانی ہوگی۔ یورپی کمشنر یورگن لیفیور کا کہنا تھا کہ مسودے کی تیاری اور فیصلوں کے درمیان کا فرق ابھی بھی بہت وسیع ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیوڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button