سائنس و ٹیکنالوجیمنظر نامہ

اب گوگل کے ذریعے ’نیٹ ٹو فون‘ کی سہولت بھی

انٹرنیٹ نے دُور بیٹھے لوگوں سے بات چیت اور رابطے کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف آپ دور دراز رہنے والے رشتے داروں سے بات کر سکتے ہیں بلکہ انہیں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دیکھ بھی سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کے اس اعلان کے بعد ٹیلیفون کمپنیوں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ پہلے ہی اپنے کال ریٹ کم کرچکی ہیں، تاہم کال کی سہولت فراہم کرنے والی دیگر انٹرنیٹ کمپنیوں کو اس سے ضرور نقصان پہنچے گا۔ہڈسن اسکوائر کے ماہر ٹوڈ ریتھمیر کا کہنا ہے کہ گوگل کی اس نئی سہولت سے Skype کو زیادہ خطرہ ہے۔
Skype نے مقبولیت اس وقت حاصل کی تھی جب اس نے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کے لئے کمپیوٹر سے کمپیوٹر مفت کال کی سہولت متعارف کرائی تھی۔
ٹوڈ ریتھمیر نے مزید کہا کہ گوگل کی یہ سروس امریکہ میں Skype کی طرح صرف بین الا قومی کال کرنے والے صارفین میں ہی مقبول ہوگی کیونکہ ملک کے اندر کال کرنے کے پیسیے پہلے ہی کام ہیں اور یہ سہولت صرف بین الا قومی صارفین کے لئے ہی پر کشش ہے۔ایک اور ماہر سٹیو کلیمینٹ نے کہا کہ جو لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے کال کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے ہی اپنے گھر کا فون بند کرچکے ہیں۔
گوگل کا کہنا ہے کہ اس کی یہ سہولت عام فون کی طرح کام کرتی ہے اور صارف صرف اپنے چیٹ بڈی لسٹ میں موجود کونٹیکٹ کا نام یا نمبر لکھے اور ‘کال فون’ کے آپشن پر کلک کردے۔جن کالز کے لئے ادائیگی کرنا پڑے گی، وہ ایک آن لائن اکاؤنٹ پر چارج ہوجائیں گی۔ گوگل نے مزید کہا کہ اس سہولت کے ذریعے صارفین موبائل پر فون نہیں کر پائیں گے کیونکہ سہولت گوگل کے علیٰحدہ ایپلیکیشنز پر دستیاب ہے۔
بشکریہ آن لائن ، DW

Related Articles

2 Comments

Leave a Reply

Back to top button