تحقیقاتتعلیم و تربیتسائنس و ٹیکنالوجینوجوان

شور سے نجات کیلئے حیرت انگیز دریافت

شور سے نجات کیلئے حیرت انگیز دریافت

شور سے بچاؤ کے اس طریقے کو پہلے ہی سے ایسے ہوائی جہازوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، جو پرو پَیلر انجن سے چلتے ہیں۔ یوں ہوائی جہاز کے اندر بیٹھے ہوئے مسافروں کو جہاز کے انجن کے شور سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ ویسے آج کل ایسے ہیڈ فون بھی مارکیٹ میں آ چکے ہیں جن میں اینٹی ساؤنڈ طریقہء کار استعمال کیا جاتا ہے۔

شور بھی ماحولیاتی آلودگی کی ایک قسم ہے۔ اس آلودگی سے بچاؤ کے لئے ایک ایسا طریقہ دریافت

بے ہنگم موسیقی


کیا گیا ہے جس میں شور کا مسئلہ شور کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔ اس کے لئے انگریزی میں Noise against Noise کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
شور بے ہنگم لیکن تیز آوازوں کے اُس مجموعے کو کہتے ہیں جو انسانی اعصاب پر دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ اس کی وجہ سے انسان بالعموم کسی ایک کام پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتا۔ شور اگر بہت زیادہ ہو جائے تو انسان کو بیمار بھی کر دیتا ہے۔
اسی لئے ماہرین کئی ایسے متنوع طریقوں پر کام کر رہے ہیں، جن کے ذریعے شور سے بچا جا سکتا ہو۔ شور سے بچاؤ کے لئے صرف کان بند کر لینا بہت آسان طریقہ تو ہے، لیکن یہ ہمیشہ ہی مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ کبھی کبھی اس کے لئے انتہائی نفیس اور مؤثر طریقے بھی اپنانے پڑتے ہیں۔ مثلا اس معمولی لیکن بہت بیمار کر دینے والے شور کا خاتمہ جسے مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسے

بے ہنگم شور


شور کا نام دیا جاتا ہے، اور جس کی اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں اپنے کانوں میں مسلسل ایسا شور سنائی دیتا ہے۔شور انسانی اعصاب پر دباؤ کا باعث بنتا ہے.
اکثر جرمن شہروں میں فضا میں پائے جانے والے ٹریفک کے شور کو کم کرنے کے لئے سڑکوں کے کنارے ایسی دیواریں بنائی جاتی ہیں، جو تیز رفتار ٹریفک کے شور کو قریبی رہائشی علاقوں تک جانے سے کافی حد تک روک دیتی ہیں۔ ایسے طریقے شور سے بچاؤ کے passive طریقے کہلاتے ہیں۔ لیکن آسٹریلیا میں ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے بین الاقوامی سطح پر معروف ماہر کولِن ہَینسن ایسے طریقوں کے استعمال کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، جن میں شور سے بچاؤ کے لئے passive کے بجائے active ذرائع استعمال کئے گئے ہوں۔
“شور کی تلافی کے active طریقہء کار کے تحت ذہنی اور اعصابی دباؤ کا باعث بننے والی تیز آوازوں کواسپیکروں اور مائیکروفونز کے ذریعے باقاعدہ نشانہ بنا کر ہوا میں تحلیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس خود کار نظام کے تحت پہلے ایک مائیکرو فون کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ شور کتنا زیادہ ہے، پھر یہ مائیکروفون ایک آٹومیٹک نظام کے ذریعے ایک کمپیوٹر سے منسلک ایسے لاؤڈ سپیکر آن کر دیتا ہے، جو شور کے مقابلے میں ایک اینٹی ساؤنڈ پیدا کرتے ہیں اور یوں بےچین کر دینے والے شور کا عملا خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔”
شور سے بچاؤ کے اس طریقے کو پہلے ہی سے ایسے ہوائی جہازوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، جو پروپَیلر انجن سے چلتے ہیں۔ یوں ہوائی جہاز کے اندر بیٹھے ہوئے مسافروں کو جہاز کے انجن کے شور سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ ویسے آج کل ایسے ہیڈ فون بھی مارکیٹ میں آ چکے ہیں جن میں اینٹی ساؤنڈ طریقہء کار استعمال کیا جاتا ہے۔ٹریفک کا بے ہنگم شور شہری زندگی میں انسانی رویوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے.

شور ہی شور


کولِن ہَینسن کی خواہش ہے کہ شور سے بچاؤ کی اینٹی ساؤنڈ ٹیکنالوجی اب ہوائی جہازوں کے علاوہ ایسی جگہوں پر بھی استعمال کی جانا چاہئے، جہاں خاص طور پر بہت زیادہ شور پایا جاتا ہے۔ مثلا بڑی بڑی فیکٹریوں اور کارخانوں میں بھی۔ سوال یہ ہے کہ شور سے بچاؤ کے لئے شور کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟
“یہ نظام اس طرح کام کرتا ہے کہ بہت زیادہ شور والی جگہ پر کئی مائیکروفون نصب کئے جاتے ہیں۔ وہ اس جگہ پر شور کی شدت ناپتے ہیں۔ پھر ایک ایسا الٹراساؤنڈ سینسر بھی شور کی شدت ناپتا ہے، جسے پر شور ماحول میں موجود کوئی بھی شخص اپنے سر پر ہیلمٹ کی طرح پہن سکتا ہے۔ ان مختلف طرح کی سگنلز کی مدد سے یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ اس ماحول میں موجود کسی بھی انسان کے کانوں تک پہنچنے والے شور کی شدت کتنے decible بنتی ہے۔”
کولِن ہَینسن کہتے ہیں کہ اس طرح اس شور کی شدت کے عین برابر اینٹی ساؤنڈ لہریں پیدا کی جا سکتی ہیں، جو اس جگہ پر سب سے زیادہ مؤثر ہوں گی جہاں کسی بھی وقت کوئی کارکن کام کر رہا ہوگا۔

بشکریہ DWD

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button