تحقیقاتصحت و تندرستینوجوان

ریٹائر منٹ کے بعد کام صحت کے لیے ضروری: ایک حالیہ تحقیقی مطالعہ

ریٹائر منٹ کے بعد کام صحت کے لیے ضروری:

ایک حالیہ تحقیقی مطالعہ

تحقیق کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا کہ جو افراد اپنی سابقہ ملازمت سے ملتا جلتا کا کررہے تھے، ان کی ذہنی صحت کام نہ کرنے والوں کی نسبت نہ صرف بہتر تھی بلکہ ان کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوا تھا۔ تاہم جو افراد ریٹائر منٹ کے بعد اپنے سابقہ شعبے سے مختلف کام کررہے تھے، ان کی ذہنی صلاحیت میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر لوگ اپنے وقت کا زیادہ تر حصہ گھر پر گذارتے ہیں۔ وہ یا تو مطالعہ کرتے ہیں، ٹی وی دیکھتے ہیں، دوستوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں، یاگھر کے معاملات کو سلجھاتے اور الجھاتے رہتے ہیں۔ اکثر لوگ ریٹائر ہونے کے بعد جزوقتی ملازمت یا اپنا

بڑھاپے میں جا گنگ ایک اچھی عادت ہے ورنہ سیر کرنا ایک نعمت سے کم نہیں

کوئی ذاتی کام کرنےکی بجائے آرام کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر بھر کام کرنے کے بعدمکمل ریٹائرمنٹ کوئی سکون یا آرام نہیں دیتی بلکہ موت کو زیادہ قریب کردیتی ہے۔
ایک حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ جو لوگ ایک خاص عمر پر پہنچنے کے بعد ریٹائرمنٹ لے کر گھر بیٹھ جاتے ہیں، وہ ان لوگوں کی نسبت بیماریوں کا زیادہ نشانہ بنتے ہیں، جوریٹائر ہونے کے بعد کوئی چھوٹا موٹا جزوقتی کام شروع کردیتے ہیں۔
تحقیقی مطالعے کے مطابق جن لوگوں نے ریٹائر ہونے کے بعد پارٹ ٹائم ملازمت شروع کردی تھی، ان کی صحت ایسے افراد کی نسبت بہتر تھی جنہوں نے ریٹائر منٹ کے بعد کوئی چھوٹاموٹا کام نہیں کیا۔ریٹائرہونے کے بعد جزوقتی ملازمت کرنے والے افراد نسبتاً کم تعداد میں مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوئے اوراپنے روزمرہ کام کاج کے معاملے میں وہ کام نہ کرنے والے لوگوں کی نسبت زیادہ چاق و چوبند تھے.

لیپ ٹاپ کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی پر انٹرنیٹ سے لطف اندوز ہونے کا اپنا ہی مزہ ہے

ایسے افراد جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایسا جزو وقتی کام شروع کیا، جو ان کی سابقہ ملازمت سے کسی حوالے سے کوئی تعلق رکھتا تھا، تو ان ذہنی کارکردگی میں، کام نہ کرنے والوں کی نسبت کہیں زیادہ اضافہ ہوا۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر مو وانگ، جو اس تحقیقی مطالعے کے شریک مصنف بھی ہیں، کہتے ہیں کہ جو لوگ ریٹائر ہونے کے بعد ایسی جزوقتی ملازمت، یا ذاتی کام کررہے تھے جس کا ان کی سابقہ ملازمت سے کوئی تعلق تھا، ان کی کارکردگی ایسے لوگوں کی نسبت بہترتھی جنہوں نے کوئی مختلف کام شروع کیا تھا۔

سمندر کنارے ، ہاتھوں میں ہاتھ اور مسکراہٹوں کا ساتھ

ڈاکٹر وانگ کا کہنا ہے کہ اپنی سابقہ ملازمت جیسا نیا کام درحقیقت ایک پل کی طرح کام کرتا ہے، اور انسان کا سابقہ تجربہ نئی ملازمت میں منتقل ہوکر اسے اور ادارے دونوں کو زیادہ فائدہ پہنچاسکتا ہے۔
اس مطالعاتی جائزے کے لیے عمررسیدہ افراد کے لیے امریکہ کے قومی انسٹی ٹیوٹ کے اعداد وشمار سے مدد حاصل کی گئی اور 12 ہزار سے زیادہ ایسے افراد سے سوال جواب کیے گئے جن کی عمریں 51 اور 61 سال کے درمیان تھیں۔ ان سے پوچھے جانے والے سوالات، گذشتہ چھ برس کے دوران ان کی صحت، مالی حیثیت، ملازمت سے متعلق معلومات اور ریٹائرمنٹ کے بارے میں تھے۔
مطالعاتی جائزے میں ان کی صحت کے مسائل کو بھی پیش نظر رکھا گیا، جس میں بلڈ پریشر، ذیابیطس، کینسر، سانس اور دل کے امراض، اسٹروک اورنفسیاتی پیچیدگیاں شامل تھیں۔
نتائج کے مطابق ریٹائر ہونے والے ایسے افراد جو اپنے سابقہ پیشے سے ملتی جلتی جزوقتی ملازمت یا کام کررہے تھے،ان میں خطرناک بیماریوں کی شرح ان لوگوں سے کہیں کم تھی جو ریٹائرمنٹ کے بعد محض آرام کررہے تھے۔

سائیکلینگ کرتے ہوئے صحت کو بحال رکھا جا سکتا ہے

مطالعے میں شامل افراد سے ان کی ذہنی صحت کے حوالے سے بھی سوالات کیے گئے۔
نتائج سے یہ ظاہر ہوا کہ جو افراد اپنی سابقہ ملازمت سے ملتا جلتا کا کررہے تھے، ان کی ذہنی صحت کام نہ کرنے والوں کی نسبت نہ صرف بہتر تھی بلکہ ان کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوا تھا۔ تاہم جوافراد ریٹائر منٹ کے بعد اپنے سابقہ شعبےسے مختلف کام کررہے تھے، ان کی ذہنی صلاحیت میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔
ڈاکٹر وانگ کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریٹائر افراد جب کسی مختلف ماحول میں کوئی ایسا کام شروع کرتے ہیں، جن کا انہیں ماضی میں کوئی تجربہ نہیں ہوتا تو وہ زیادہ ذہنی دباؤ میں آجاتے ہیں۔
حالیہ تحقیقی جائزے سے،اس سے قبل کے اس جائزے کی توثیق ہوتی ہے جس سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کام چھوڑ دینے والے افراد بہت جلد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
(DWD ,آکوپیشنل ہیلتھ سائیکالوجی سے ماخوذ)

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button