تحقیقات

خوست میں خود کش حملہ، سی آئی اے آٹھ ایجنٹ، سمیت تیرہ ہلاک

خوست میں خود کش حملہ، سی آئی اے آٹھ ایجنٹ، سمیت تیرہ ہلاک

تازہ خبر

BBC ، DWD ایک خبرکے مطابق افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں نے اتحادی دستوں کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز تر کر دی ہیں، جس دوران خوست اور قندھار کے صوبوں میں نئے حملوں میں آٹھ امریکی خفیہ ایجنٹوں سمیت تیرہ غیر ملکی مارے گئے۔

کابل میں امریکی فوجی ذرائع اور واشنگٹن میں محمکہ دفاع کے حکام نے تصدیق کر دی ہے کہ افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے خوست میں بدھ کے روز ایک خود کش حملہ آور نے خود کو ایک اتحادی فوجی اڈے پر دھماکے سے اڑا دیا۔ اس واقعے میں آٹھ امریکی مارے گئے جو سب کے سب شروع میں سویلین بتائے گئے۔
امریکہ میں مقامی وقت کے مطابق بدھ کی رات اور عالمی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح پہلے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے یہ اطلاع دی کہ مرنے والوں میں امریکی خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
پھر کابل اور واشنگٹن میں امریکی فوجی اور سول اہلکاروں نے بھی یہ تصدیق کرنے میں دیر نہ کی کہ خوست کے امریکی فوجی اڈے پر خود کش بم حملے میں مرنے والے تمام امریکی اہلکار دراصل ملکی خفیہ ادارے CIA کے ایجنٹ تھے جو اس وقت Chapman فارورڈ آپریٹنگ بیس نامی اس اڈے پر موجود تھے۔
چیپ مین بیس پر خود کش حملے کے بارے میں کابل میں ایک امریکی اہلکار نے بم دھماکے کی جگہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ اس فوجی اڈے کی حدود کے اندر ہوا۔
خوست میں اس حملے میں امریکی خفیہ ایجنٹوں کی یہ ہلاکتیں افغانستان میں اتحادی دستوں کی طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف آٹھ سالہ جنگ میں کسی ایک واقعے میں غیر ملکیوں کی غیر فوجی ہلاکتوں کا سب بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 2001 سے لے کر اب تک افغانستان میں کسی ایک حملے میں کبھی بھی اتنے زیادہ غیر ملکی سویلین ہلاک نہیں ہوئے تھے۔
افغانستان میں ہلاک ہونے والے کینیڈا کے فوجیوں کی تعداد ایک سو اڑتیس ہوگئی ہے۔ کابل میں اتحادی فوجی ذرائع نے بتایا کہ خوست میں مختلف تعمیراتی منصوبوں پر عمل درآمد میں اپنا کردار ادا کرنے والی اس فارورڈ آپریٹنگ بیس پر حملے میں چند افراد زخمی بھی ہوئے، تاہم ان میں نیٹو یا امریکہ کا کوئی ایک بھی فوجی شامل نہیں ہے۔
اسی دوران کینیڈا میں ملکی وزارت دفاع نے بدھ کی رات بتایا کہ افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں منگل کی رات کینیڈا کے فوجی دستوں کی ایک گشتی ٹیم پر کئے گئے ایک مسلح حملے میں چار کینیڈین فوجیوں کے علاوہ ان کے ساتھ سفر کرنے والی ان کی ہم وطن ایک خاتون صحافی بھی ہلاک ہو گئی۔ اس واقعے میں کینیڈین گشتی ٹیم کی بکتر بند گاڑی کو بم حملے نشانہ بنایا گیا۔
اس وقت کینیڈا کے مجموعی طور پر 2800 فوجی افغانستان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قندھار میں تازہ ترین ہلاکتوں کے بعد 2001 سے اب تک افغانستان میں مارے جانے والے کینیڈین فوجیوں کی تعداد 138 ہو گئی ہے۔ ہلاک ہونے والی کینیڈین صحافی Canwest نیوز سروس کی 34 سالہ نامہ نگار میشیل لینگ تھیں جو اپنے پہلے دورہ افغانستان پر 11 دسمبر کو وہاں پہنچی تھی۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button