تحقیقاتنوجوان

انٹرنیٹ کیفے ، جدت اور نعمت

انٹرنیٹ کیفے ، جدت اور نعمت

مکھی کو قدرت نے کثیر التعداد ،تقریباً 28000 پہلوؤں بشمول تین عدد سادہ آنکھوں اور ایک میٹر تک دیکھنے والی انتہائی تیز نظر سے نوازا ہے مگر اسکے باوجود وہ ہمیشہ گندگی اور غلاظت پر بیٹھتی جو کہ اسکی فطرت کا شاخسانہ ہے، جبکہ شہد کی مکھی کی فطرت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ گلوں پر آسرا کرتی ہے مگر انسانی تربیت کا اعجاز اسے ارادی و غیر ارادی افعال میں اور معاملات زندگی میں اچھائی اور برائی اپنانے کی تمیز فراہم کرتا ہے

تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر

کبھی کبھار حقائق اتنے تلخ ہوتے ہیں کہ انکا سامنا کرنا دشوار ہو جاتا ہے مگر ان سے کنارہ کشی بعض اوقات ناقابل تلافی نقصان کی شکل میں برآمد ہوتی ہے۔ الہامی ذرائع ، مذاہب عالم اور اخلاقیات نے اگر انسان کو ایک طرف اچھے اور برے کی تمیز کرنا سکھایا ہے تو دوسری طرف آزادی اختیار سے بھی نوازا ہے البتہ فطرت نے کچھ ایسے قوانین وضع کئیے کہ جو اپنی جگہ پر اٹل حقیقت ہیں جبکہ انسانی تجربات انکی حقانیت سے ہمکنار ہوتے رہتے ہیں۔
مکھی کو قدرت نے کثیر التعداد ،تقریباً 28000 پہلوؤں بشمول تین عدد سادہ آنکھوں اور ایک میٹر تک دیکھنے والی انتہائی تیز نظر سے نوازا ہے مگر اسکے باوجود وہ ہمیشہ گندگی اور غلاظت پر بیٹھتی جو کہ اسکی فطرت کا شاخسانہ ہے، جبکہ شہد کی مکھی کی فطرت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ گلوں پر آسرا کرتی ہے مگر انسانی تربیت کا اعجاز اسے ارادی و غیر ارادی افعال میں اور معاملات زندگی میں اچھائی اور برائی اپنانے کی تمیز فراہم کرتا ہے ، لہذا اگر تربیت میں کمی رہ گئی ہو تو اسکا الزام دوسروں پر تھو پا نہیں جا سکتا بلکہ افراد کو تربیت کی آنچ سے گزارنا اور شعور آگہی سے نوازنا کسی بھی تنقید سے بہر طور بہتر ہے ۔
انٹرنیٹ آج کے دور کی ایک عظیم ایجاد ہے کہ جس نے اگر ایک طرف فاصلے سمیٹ دئیے ہیں تو دوسری طرف معلومات کے انبار لگا دیئے ہیں جبکہ آج کا بچہ بوڑھوں کو مات دینے لگا ہے کیونکہ اس نے صدیوں کا سفر گھنٹوں میں کرنا شرع کر دیا ہے ، دنیا بھر کی لائبریریز ، انسائیکلوپیڈیا ، کتب اور بزنس گائیڈز کے علاوہ صحت و تندرستی کی رہنمائی سے مزین ویب سائٹ اور آن لائن شاپنگ مال ، لاتعداد مارکیٹنگ رابطے ، آن لائن شادی ،اور تو اور آن لائن قربانی کے بکروں کی منڈی بھی اب آپکے ڈرائنگ روم یا انٹرنیٹ کیفے میں دستیاب ہیں، البتہ یہ اور بات ہے کہ اگر کوئی انکی افادیت سے استفادہ حاصل نہ کرنا چاہتے یا پھر اسکے استعمال سے قاصر رہے ، ورنہ نارتھ پول میں بیٹھے والدین ساوتھ پول میں موجود اپنے بچوں سے بذریعہ ویڈیو چیٹ دل بھلا لیں یا پھر ایک ملٹی نیشنل کمپنی ایک ہی وقت میں اپنے تمام دفاتر سے ویڈیو کانفرنس سے بزنس معاملات و دیگر سے استفادہ کرلیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟ دنیا بھر کی کمپنیاں اب اپنا شوروم اب انٹرنیٹ پر کھو ل چکیں جبکہ اپنی مرضی کی جبکہ بک کروانا ممکن نہیں اور تو اور اب اردو میں بھی ویب سائٹس کی رجسٹریشن ممکن ہو چکی ہے جسکا سہرا ہمارے ملک پاکستان کے ان نوجوانوں کو جاتا ہے جنہوں نے دن رات محنت کرکے یونی کوڈ اردو متعارف کروایا، جسکی بدولت آپ اب انگلش ٹیکسٹ کی بجائے اردو الفاظ کو استعمال کر سکتے ہیں اور اسی کے بدولت یہ ممکن ہوا کہ اب آپ “اسلام .com، الطاف گوہر.com،اردو.com جیسے ناموں کو استعمال کرکے اپنی انٹرنیٹ پر اپنی مرضی کا پلاٹ لے سکتے ہیں جو بعد میں لاکھوں کروڑں کی مالیت کا ہو جاتا ہے۔
ااب اگر بجلی کا بل لیٹ ہو اور آپکو فوری درکا ہو، یا پھر طلبا و طالبات کو کسی بھی امتحان کا رزلٹ معلوم کرنا ہو ، کسی بھی قسم کا داخلہ فارم چاہیے یا پھر بیرون ممالک تعلیم و داخلہ ، یا پھر دنیا میں موجود مفت تعلیم کیلئے آن لائن روابط یا پھر اسکول و کالج کی اسائنمنٹ بنانی ہو ، یا پھر ریسرچ تھیسس کی تیاری ، یا پھر پی ایچ ڈی کے سناپسز ،ہر طرح کی سہولت انٹر نیٹ کیفوں میں دستیاب ہے۔ تعلیم و تربیت کی غرض سے جو نوجوان ہاسٹلز میں مقیم ہیں انکے لیے تو یہ کسی بھی نعمت سے کم نہیں اگر ایک طرف انکو تعلیمی معلومات کی فراہمی ہے تو دوسری طرف نوٹس کی پرنٹنگ اور سکیننگ کی سہولت بھی میسر ہے۔ البتہ تفریحی معاملات میں ہر وہ تفریح موجود ہے کہ جسکا آپ تصور کر سکتے ہیں مگر معاملہ ارادی ہے نہ کہ جبری۔ لاتعداد تفریحی اور معلوماتی ویب سائٹس نہ ٍ صرف طلبا کو دنیا بھر کی جدت اور ثقافت سے روشناس کراتی ہیں بلکہ ذہانت بڑھانے میں معاون بھی ثابت ہوتی ہیں۔ اسی طرح دنیا بھر سے کچھ خرید و فروخت کرنا ہو ، عالمی منڈیوں تک رسائی چاہتے ہوں ، بڑے بڑے آکشن میں حصہ لینا ہوتو انٹر نیٹ کیفے آپکے معاملات آسان کر دیتے ہیں۔
پرانے وقتوں میں الہ دین کا چراغ جیسی کہانیاں اور عمرو عیار کی زنبیل جیسے کردار اگر آج اپنی حقیقت کو پہنچ گئیے ہیں تو اسکا کریڈٹ انٹرنیٹ کو جاتا ہے اور اسکا شہکار انٹرنیٹ کیفے کی شکل میں موجود ہے۔اقوام عالم کی ثقافت، سماج ، رجحانات ، اقدار اور ترقی کا اگر جائزہ لینا ہو تو اب آپکو در بدر پھرنا نہیں پڑے گا بلکہ صرف ماوس کی ایک کلک سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ سرچ یا تلاش ایک ایسی چابی ہے کہ اس سے اب دنیا جہان کے دروازے کھلنے لگے ہیں مگر اسکا استعمال آنا بھی ضروری ہے۔ ایک بار مجھے اپنے “قومی رحجان ” کی غرض سے یہی کنجی استعمال کرنی پڑی تو معلوم ہوا کہ الیکسا ڈاٹ کام، جو کہ دنیا بھر میں ویب سائٹس کا ریکارڈ رکھنے میں ایک قابل اعتماد ادارہ ہے جسکے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی عوام کی پسندیدگی و استعمال کی ویب سائٹس کا ریکارڈ انتہائی شاندار ہے کیونکہ انکے استعمال کے پہلے 48 ویب سائٹس صرف اور صرف مفید اور معلوماتی ہیں اور صرف 49 درجہ پر صرف ایک غیر اخلاقی اور اسکے بعد پھر معلوماتی رجحان پایا جاتا ہے جو ایک انتہائی خوش آئند بات ہے۔
مجھے لاہور میں انٹرنیٹ پڑھانے والے پہلے ٹیچر کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے جبکہ میں نے ذاتی طور پر بھی اپنے بچوں کو اگر کوئی تحفہ دیا ہے تو صرف ایک ایک لیپ ٹاپ جسکے باعث اب وہ سکول میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی معلومات اور سرچ کرنے کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ پیپرز ، سوالات ، نوٹس اور وکیپیڈیا سے مستفید ہونے کے علاوہ اسلامی ویب سائٹس سے ارکان اسلام و دیگر معلومات سے ہمکنار ہوتے ہیں جسکا ایک اندازہ اس نیچے دئیے گئے لنک سے لگا سکتے ہیں ؛
[Youtube =http://www.youtube.com/watch?v=6VYuTYUwWKk] دنیا بھر کے علوم کے حصول یا پھر گھر بیٹھے دور دراز ممالک سے تعلیم بذریعہ ڈسٹنس لرنینگ، یا پھر اقوام عالم کے رائٹرز، سائنسدانوں ، فلسفیوں ، علما ، حکما، کھلاڑیوں ، ڈاکٹرز، نقادوں ، تجزیہ نگاروں اور مزاح نگاروں کی نگارشات کی مستفید ہونا ہو یا پھر ان سے ملاقات کا شوق ہو یا پھر مجھ سے آن لائن ملنا چاہتے ہوں یا میری انٹرنیٹ پر لکھی ڈائری یعنی الطاف گوہر کا بلاگ پڑھنا چاہتے ہوں تو اپنے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی بدولت یا پھر کسی بھی قریبی انٹرنیٹ کیفے کی راہ لیجئے کبھی بھی شرمندگی نہیں ہوگی۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button