تحقیقاتکھیل و صحتنوجوان

انسانی جسم : پیوند کاری کا حیرت انگیز معجزہ

انسانی جسم: پیوند کاری کا حیرت انگیز معجزہ

سپین میں ڈاکٹروں نے پہلی بار ایک مریضہ کی سانس کی نالی میں ایسا پیوند لگایا ہے جو خود مریضہ کے اپنے خلیے یا سٹیم سیلز سے بنایا گیا تھا۔

آپریشن کے پانچ ماہ بعد مریض تندرست ہے

عضو کی تبدیلی کے لیے اس آپریشن میں استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ آپریشن کے بعد انسدادِ استرداد یا اینٹی ریجیکشن کے لیے استعمال کی جانے والی دواؤں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
رپورٹ کے مطابق پانچ ماہ قبل کیے جانے والے اس آپریشن کے بعد دو بچوں کی ماں تیس سالہ کلاڈیا کاسٹیلو مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ انہیں تپِ دق کے بعد پھیپھٹرے بچانے کے لیے اس آپریشن کی ضرورت تھی کیونکہ ان کی سانس کی نالی بہت خراب ہو چکی تھی۔ کلاڈیا کاسٹیلو کے لیے خود ان کے اپنے خلیوں سے سانس کی نالی کی تیاری کے کام میں برسٹل کے سائنسدانوں نے مدد دی اور یورپی ٹیم کا خیال ہے کہ اس طرح ضرورت کے مطابق اعضا کی تیاری ایک معمول بن سکتی ہے۔
نئی نالی بنانےکے لیے ڈاکٹروں نے ایک مریضہ کی جانب سے عطیے کی جانے والی سانس کی نالی استعمال کی۔ مرحومہ مریضہ کی نالی حاصل کرنے کے بعد سائنس دانوں نے کیمیائی مادوں کی مدد سے اس نالی سے تمام خلیے الگ کر دیے۔ اس عمل کے بعد اس نالی کا صرف ڈھانچہ یا کُرکُری ہڈی باقی رہ گئی۔
سائنس دانوں نے کلاڈیا کاسٹیلو کے جسم سے دو قسم کے خلیے حاصل کیے۔ ایک وہ جن سے ان کی سانس کی نالی کا استر یا اندرونی تہہ بنی ہوئی تھی اور دوسرے ان کی ہڈی کے گودے سے سٹیم سیلز۔۔۔ سٹیم سیل وہ خلیے ہوتے ہیں جو خود کو کسی بھی عضو میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خود کلاڈیا کے ریشوں کو نمو کے عمل میں شامل کرنے سے ڈاکٹر کلاڈیا کے جسم میں ایسا کیمیائی ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے جس میں جسم نے پیوند کیے جانے عضو کی نمو کے خلاف منفی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا اور پیوند کیے جانے والے عضو کو جسم کے فطری حصے کے طور پر قبول کر لیا۔
اپنے اس کامیاب آپریشن کے بارے میں کلاڈیا کاسٹیلو نے کہا کہ آپریشن کے بعد اب ان کی صحت خاصی بہتر ہے۔ اگرچہ یہ یہ طویل عمل ہے مگر آپریشن کے چار ماہ بعد وہ کافی بہتر محسوس کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’اب میں ٹھیک ہوں‘۔
آپریشن کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر پاؤلو میکچیارینی کہتے ہیں کہ ’کلاڈیا کی حالت بالکل ٹھیک ہے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ مزے میں ہیں۔ وہ جب تک اس حالت میں رہتی ہیں میں اپنے آپ کا دنیا کا سب سے خوش انسان تصور کروں گا‘۔
عام طور پر جب انسانی اعضاء کی پیوندکاری کی جاتی ہے تو جس جسم میں پیوند کاری کی جاتی ہے اس کا اِمیون سسٹم یا دفاعی نظام پیوند کو قبول نہیں کرتا اور مریض کو تمام عمر ایسی دوائیں کھانا پڑتی ہیں جو دفاعی نظام کو پیوندکردہ عضو کو مسترد کرنے سے روکے۔
اس آپریشن کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں سانس کی نالی کا صرف ڈھانچہ استعمال کیا گیا جس پر مریضہ کی اپنی ہی بافتوں یا ٹِشوز کو چڑھایا گیا۔ یوں کلاڈیا کاسٹیلو کا جسم نئی نالی میں پیوند لیے جانے والے حصے کو اپنا ہی سمجھے گا اور انہیں اِمیون سسٹم کو دبانے والی دواؤں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
بشکریہ الشرق

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button