About the author

Related Articles

4 Comments

  1. 1

    اسماء پيرس

    آج بہت اچھا لکھا آپ نے نہ کوئی حسد نہ رقابت نہ مرے بھائی کا گوشت نہ لڑائی نہ دھماکے بھلا يہ بھی کوئی زندگی ہے سکون ايسا کہ بندہ پرسکون رہ رہ کر تنگ آ جائے

  2. 2

    altafgohar

    انفرادی نوک جھونک ، رشتوں میں پیار بڑھانے کا باعث بنتی ہے جبکہ تنقید انسانی ترقی کا پیش خیمہ ہے البتہ آپ ان معاملات کو عالمی اور ملکی تناظر میں لانا چاہیں تو آپکا اپنا ظرف ہے ورنہ ایسی بھی کوئی بات نہیں ، رشتوں کی باہمی رقابت کے دوران پیش آنے والی واردات کو اس تحریر میں جا بجا طور دیکھیں گے نہ کہ تشدد و منفی رحجانات کا معاملہ ۔

  3. 3

    Naeem

    سر جی کتابی باتوں کے چکر مِیں کوئی کب تک بھی ذلیل ہو سکتا ہے۔ جب سالہا سال ٹیکس دے کر بھی آپکی کوئی عزت نہ ہو تو آپ ملک سے ہجرت ہی کریں گے نا۔ میں گجرات کا رہنے والا ہوں پچھلے کئی سال سے لاہور میں ہوں، سوچتا ہوں کہ گھر سے دور ہی رہنا ہے تو کیوں نہ آسٹریلیا یا کینیڈا چلا جائوں۔ پاکستان میں گھر والوں کو پیسے بھیجتا رہوں گا، انکی پریشانیاں تو کچھ کم ہوں گی اور اپنا اللہ مالک ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے ہماری یہ کمزوری بھانپ لی ہے کہ ہم اپنے ہیومن ریسورس کی قدر نہیں کرتے، اور اسی بات کا وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

  4. 4

    کنعان CONAN

    السلام علیکم الطاف بھائی

    عنوان تو آپ نے متوجہ کرنے کے لئے بہت اچھا دیا ھے مگر عنوان کے مطابق کہانی بڑی عجیب سی لکھ دی ھے جو کسی بھی زاویہ سے اپنا حدف پورا کرتی ہوئی نظر نہیں آ رہی کہ جس سے کوئی بھائی آپ سے فری میں مشورہ ہی مانگ لے۔
    سٹوڈنٹ ویزوں پر نیا قانون کا ایک مرتبہ مطالعہ بھی کر لیجئے، اگر امیگریشن پر کوئی معلومات درکار ہوں تو میری خدمات حاضر ہیں۔

    والسلام

Leave a Reply

2020 Powered By Urdusky Urdusky Network