شخصیاتمنظر نامہ

حضرت علی ہجویری کا عرس

داتا ہجویریؒ کا عرس تقریبات عرس 18 صفر المظفر سے شروع ہوں گی

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی ایم اے

اولیاءاللہ کی جماعت کا ذکر خیر خالق کائنات نے اپنی لاریب کتاب میں فرمایا ۔ارشاد ربانی عزوجل ہے کہ اولئک الذین انعم اللّٰہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھدآءوالصالحین0اس آیت کریمہ میں لفظ صالحین سے مراد اولیاءاللہ ہیں ۔ان محبان خدا میں سے حضورشہنشاہ اولیاء،زبدة العارفین ،شمس الکاملین حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف بہ حضرت داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ کا نام مبارک خاص اہمیت کا حامل ہے ۔حضرت داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ کی ہستی ان اولیائے کرام اور صوفیائے کرام میں سے ایک ہے ۔جنہوں نے بر صغیر پاک و ہند کے ظلمت کدوں کو نورِ اسلام سے منور کیا اور اپنے قول و فعل سے حضور اکرم ﷺ کا اسوہ¿ حسنہ لوگوں کے سامنے پیش کیا ۔یہ بزرگان دین کی بے لوث مخلصانہ کوششوں کا نتیجہ تھا کہ بر صغیر میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ان بزرگان دین میں سے حضرت سیدنا علی بن عثمان الہجویری رحمة اللہ علیہ کی بھی ایک ذات ہے جن کو ہدیہ تبرک پیش کرنے کےلئے کتب تواریخ کی روشنی میں چند گذارشات پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں کیونکہ فرمان رسول اللہﷺ ہے کہ ذکر الصالحین کفارة السیاٰت۔یعنی نیک لوگوں کے ذکر خیر سے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔ایک دوسری جگہ فرمان مصطفےٰ ﷺہے کہ عند ذکر الصالحین تنزل الرحمة۔یعنی اولیاءکاملین کا ذکر خیر کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ معزز قارئین:حضرت داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ کی ذات تو وہ ہے کہ نماز پڑھاتے ہیں اور حالت نماز میں لوگوں کے اعتراض کے جواب پر قبلہ کی درستگی کا سلسلہ کرتے ہیں ۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر ی رحمة اللہ علیہ جیسے عظیم المرتبت بزرگ بھی سیدنا حضرت داتا علی ہجویری رحمة اللہ علیہ کے روحانی فیض سے مالا مال ہو کر نوے لاکھ افراد جو کہ کفر و شرک کی ضلالت میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ اُن تمام کو سرکار مدینہ ﷺ کا غلام بنا دیا۔ نام و نسب اور سلسلہ نسب:آپ کا اسم گرامی علی ، کنیت ابو الحسن ،لقب داتا گنج بخش، والد ماجد کا اسم گرامی عثمان بن علی،وطنی نسبت الجلابی الغزنوی ثم الہجویری ہے ۔جلاب اور ہجویر افغانستان کے غزنی شہر کے مضافات میں دوبستیاں ہیں ۔ (سفینة الاولیاء146،کشف المحجوب مقدمہ 1،خزینة الاصفیاء233) سلسلہ نسب:آپ حسنی سید ہیں ۔آپ کا سلسلہ نسب آٹھ واسطوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (از علامہ غلام سرور لاہور،(خزینة الاصفیاء233) ولادت داتا گنج بخش:حضرت سیدنا علی ہجویری المعروف بہ داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ کی ولادت مبارک کے بارے میں تذکرہ نگاروں کی روایات درج ذیل ہیں ۔1۔آپ کی ولادت پانچویں صدی ہجری کے شروع میں ہوئی ۔2۔آپ کی ولادت 400ھ بمطابق 1010ءمیں ہوئی۔3۔آپ 400ہجری میں پیدا ہوئے ۔ (مقالات دینی و علمی ، 223/1،بزم صوفیا101/1،صباح الدین عبد الرحمن) جائے ولادت ووطن:آپ کے والد ماجد جلاب کے اور والدہ ماجدہ ہجویر کی رہنے والی تھیں والد صاحب کی وفات کے بعد آپ مستقل طورپر ننھیال منتقل ہو گئے اس لئے اپنے آپ کو جلابی ثم الہجویری لکھتے ہیں ۔آپ کی والدہ ماجدہ کی قبر غزنی میں آپ کے ماموں تاج الاولیاءکے مزارشریف کے ساتھ ہے ۔(از حضرت دار شکوہ رحمة اللہ علیہ ،(سفینة الاولیا صفحہ209تا210) سلسلہ طریقت:آپ کے مرشد حضرت ابو الفضل محمد بن حسن ختلی رحمة اللہ علیہ ہیں ۔ان کا سلسلہ طریقت نو واسطوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے ۔آپ نے شیخ ابو الفضل محمد بن حسن ختلی کے علاوہ جن دیگر مشائخ سے فیض حاصل کیا اُن کے نام یہ ہےں ۔شیخ ابو القاسم گرگانی ،شیخ ابو سعید ابی الخیر،شیخ ابو القاسم قشیری ،شیخ ابوالعباس اشقانی۔(خزینة الاصفیائ232/1از علامہ غلام سرور لاہوری) لقب:درست قرینہ یہ ہے کہ آ پ بر صغیر میں آمد کے ساتھ ہی اس لقب”گنج بخش“ سے مشہور ہو گئے تھے اور یہ شہرت تواتر سے صدیوں کا فاصلہ طے کرتی ہوئی آج تک پہنچی ہے چنانچہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کا مشہور شعر جو زبان زد خلائق رہا ہے وہ یہ ہے ۔ گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا نا قصاں را پیرکامل کاملاں را رہنما (مقالات دینی و علمی ) تعلیم و تربیت اور سیاحت:آپ نے درج ذیل اساتذہ اور شیوخ سے تعلیم و تربیت پائی۔شیخ ابو القاسم عبد الکریم بن ہوازن القثیری ،حضرت ابو الفضل محمد بن حسن الختلی۔شیخ ابو جعفر محمد بن المصباح الصید لانی ۔ آپ نے زندگی کا زیادہ تر حصہ علمی و روحانی غرض سے سیاحت میں گذارا ۔اکابر اولیاءکرام کی زیارت کی اور ان سے فیض اٹھایا مثلاًعراق ،شام ،بغداد، پارس، طبرستان ،خوزستان، کرمان ،طوس اور حجاز کا سفر کیا ۔صرف خراسان میں آپ نے تین سو مشائخ سے ملاقات کی ۔ حضرت شیخ ابو الحسن سالبہ شیخ ابو اسحاق شہریار اور خواجہ احمد حمادی سر خسی اور شیخ احمد نجار سے بہت متاثر ہوئے ۔(نزہة الخواطر،کشف المحجوب 40) داتا گنج بخش کی لاہور آمد:اس بارے میں مشہور قدیم روایت حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الہٰی رحمة اللہ علیہ سے منقول ہے ۔انہوں نے فرمایا کہ حضرت داتا گنج بخش اورشیخ حسن زنجانی لاہوری رحمہ اللہ علیہادونوں پیر بھائی ہیں ۔شیخ حسن زنجانی رحمة اللہ علیہ پہلے سے لاہور میں مقیم تھے ۔ایک دن حضرت داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ کے مرشد نے آپ کو حکم دیا کہ لاہور جاﺅ چنانچہ حضرت سید علی بن عثمان ہجویری رحمة اللہ علیہ لاہور روانہ ہوگئے ۔جس دن لاہور پہنچے رات ہو گئی تھی ۔شہر کے دروازے بندے ہو گئے تھے ۔لہٰذا باہر رات گذاری صبح اٹھے تو دیکھا کہ لوگ ایک جنازہ اٹھائے شہر سے بار آرہے ہیں ۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ جنازہ حضرت شیخ حسن زنجانی کا ہے ۔ آپ کو اس وقت اپنے پیر کامل حضرت ابو الفضل محمد بن حسن ختلی رحمة اللہ علیہ کے حکم کی حکمت سمجھ میں آئی ۔(فوائد الفواد 57از خواجہ سنجری) تاجدار مرکز الا ولیاءکی شادی:آپ کی دو شادیاں والدین نے کی تھیں پہلی بیوی کی وفات کے بعد گیارہ سال تک علائق زاوج سے بچے رہے پھر دوسری شادی کی مگر ایک سال بعد یہ بیوی بھی فوت ہو گئی ۔(سوانح حیات علی ہجویری 24تا25از محمد دین فوق) حضرت داتا گنج بخش کی تعلیمات:حضرت سید علی بن عثمان ہجویری رحمة اللہ علیہ المعروف بہ داتا گنج بخش علم و فضل میں مجتہدانہ شان رکھتے تھے ۔وہ صاحب صحو، صاحب مقام اورصاحب مسلک صوفی تھے اور تصوف کے مدونین فن میں ان کا نام امام قشیری اور عبد الرحمن سلمی رحمة اللہ علیہ کے بعد امام محمد غزالی اور شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ سے پہلے آتا ہے ۔لہٰذا ان کی تعلیمات کا سر چشمہ ان کی کتب کشف المحجوب اور کشف الاسرار جو کہ نہایت اہمیت کی حامل ہیں ۔حصول برکت کے لئے اور نزول رحمت کے لئے آپ کی تعلیمات میں سے چند فقرات اپنے معزز قارئین کرام کی تنویر بصیرت کے لئے درجہ ذیل ہیں چنانچہ یہ تعلیمات کشف المحجوب اور کشف الاسرار سے ماخوذ ہیں ۔٭نفس کی مخالفت سب عبادتو ں کا اصل اور سب مجاہدوں کا کمال ہے ۔٭ عارف عالم بھی ہوتا ہے مگر ضروری نہیں کہ عالم بھی عارف ہو۔٭فقر کی معرفت کے لئے سیر دنیا سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں۔٭ بندہ کے لئے سب چیزوں سے زیادہ مشکل خدا کی پہچان ہے ۔٭دنیا کے ساتھ (ہاتھ ،پاﺅں ،آنکھیں) جو بظاہر دوست نظر آتے ہیں در اصل تیرے دشمن ہیں ۔(سوانح حیات علی ہجویری ؒ) تصانیف حضرت داتا گنج بخش:حضرت سید علی بن عثمان ہجویری رحمة اللہ علیہ ایک بڑی مصنف تھے اور شعر بھی کہتے تھے ۔ ان کی بعض تصانیف کے نام یہ ہیں مگر ان کا نام جس سدا بہار کتاب کی بنا ءپر زندہ ہے وہ کشف المحجوب ہے ۔(مقدمہ کشف المحجوب ژو کونسکی از محمد لوی عباسی) خلفائے حضرت داتا گنج بخش:آپ تصوف کے مدونین فن میں سے ہیں ۔اصحاب سلاسل میں سے نہیں لہٰذا آپ نے سلسلہ جاری نہیں فرمایا ۔کتابوں میں تحریر ہے کہ شیخ ہندی اور آپ کے اصحاب ابو سعید ہجویری اور حماد سرخنی رحمة اللہ علیہم آپ کے خلفاءتھے ۔ اس کے علاوہ آپ کے مزار مقدس سے فیض اٹھانے والے عظیم صوفی بزرگ مثلاً خواجہ معین الدین چشتی۔حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر اور حضرت شیخ فاروق احمد المعروف بہ حضرت مجدد الف ثانی بجا طور پر آپکے خلفاءہیں ۔(فضائل داتا علی ہجویری17از محمد نسیم عباسی) تاجدار مرکز الاولیاءکا وصال باکمال :حضرت سیدنا علی بن عثمان جلابی ثم ہجویری رحمة اللہ علیہ کے وصال شریف کے بارے میں مو¿رخین میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔چنانچہ سفینة الاولیاءمیں حضرت دار شکوہ رحمة اللہ علیہ حضرت داتا گنج بخش کا وصال باکمال 454ھ یا464ھ ذکر کرتے ہیں ۔علامہ غلام سرور لاہوری رحمة اللہ علیہ خزینة الاولیاءمیں حضرت سیدنا علی بن عثمان ہجویری رحمة اللہ علیہ کا تاریخ وصال 464ھ یا 466ہے ۔اے ،آر نکلس مترجم کشف المحجوب کے نزدیک حضرت داتا گنج بخش کا وصال باکمال465ھ یا469کو ہوا ۔ حضرت داتا گنج بخش کا مزار مبارک:آپکی وفات لاہور میں ہوئی اور اِسی جگہ دفن ہوئے اور آپ کا مزار شہر کے اندر قلع کے مغرب کی طرف واقع ہے ۔آپ کا مزار شریف سب سے پہلے غزنوی حکمران سلطان ابراہیم بن سلطان مسعود غزنوی نے بنوایا اور اس کے بعد وقتاً فوقتاًاس کی تعمیر و مرمت جاری رہی ۔ اس وقت مزار مبارک اور مسجد میں بہت سی تبدیلیاں ہو چکی ہیں ۔محکمہ اوقاف پنجاب نے مزار سے متصل ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کی ہے ۔مسجد میں پچاس ہزار سے زائد نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں ۔آپ کا عرس مبارک 20,19,18صفر المظفر شریف کو بمقام لاہور شریف میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے دنیائے کائنات کے طول و عرض سے مخلوق خدا اس ولی کامل کا آستانے پر حاضرہوکر اپنی مرادیں باذن الہٰی پوری کرتے ہیں ۔(فضائل داتا علی ہجویری 16از محمد نسیم عباسی) مگر افسوس کہ ایسے مرد درویش جس نے ساری دنیا کو امن و محبت ،عشق و عمل صالح اور صبر و رواداری کا درس دیا اُسی کے مزار پر انوار جو لاکھوں عقیدت مندوں کے لئے روحانی سکون کا ذریعہ ہے پر ملک دشمن اور فتنہ پرور حضرات نے خود کش بم دھماکے کئے جس سے کئی بے گناہ افراد لقمہ¿ اجل بنے ۔کئی عورتوں کے سہاگ اجڑ گئے ۔کئی بچے یتیم ہو گئے ۔ظلم بالائے ظلم یہ کہ ملکی ایجنسیاں دہشت گردی کی پیش گوئی کرتی ہیں ۔دہشت گردوں کے داخلے کی اطلاع دیتی ہیں مگر دہشت گردوں کا سراغ نہیں بتاتیں ۔ داتا دربار پر حملے کو سوادِ اعظم اہلسنت و جماعت اپنے ایمانوں پر حملہ گردانتے ہوئے پورے ملک میں پر امن سراپا احتجاج ہیں ۔اللہ تعالیٰ کی بارگاہ ایزدی میں دعا ہے کہ ہم سب کو اپنے مقبول بندوں کے نقش قدم پر چلنے اور دنیااور آخرت میں سرخروئی کی توفیق سعید مرحمت فرمائے ۔آمین!

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button