URDUSKY || NETWORK

عمران ریاض خان سینئر جرنلسٹ کو اٹک پولیس نے گرفتار کر لیا گیا

اسلام آباد: حکومت پر تنقید کرنے والے معروف صحافی عمران ریاض خان کو پولیس نے گرفتار کرلیا، جس کی صوبائی وزیر قانون اور عمران ریاض کے وکیل نے بھی تصدیق کردی ہے۔

24

عمران ریاض خان کی گرفتاری کو لیڈ کرنے والی ٹیم کی سربراہی آر پی او راولپنڈی نے کی اور تصدیق کی کہ انہیں تھانہ ایئرپورٹ منتقل کردیا گیا ہے۔

وزیر قانون پنجاب ملک احمد خان نے تصدیق کی کہ عمران ریاض خان کو ضلع اٹک، راولپنڈی ڈویژن سے گرفتار کیاگیا، اُن کے خلاف پنجاب میں مقدمات درج ہیں اس لیے انہیں صوبے کی حدود سے ہی گرفتار کیا گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ تاثر غلط ہے کہ اسلام آباد سے گرفتاری عمل میں آئی‘۔

واضح رہے کہ صحافی عمران ریاض نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے متعلقہ حکام کو انہیں گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی اور صحافی کو تحقیقات میں تعاون کرنے کی ہدایت کی تھی۔

دوسری جانب عمران ریاض خان کے وکیل میاں علی اشفاق نے بھی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جس وقت گرفتاری عمل میں آئی وہ میرے ساتھ موبائل فون پر بات کررہے تھے۔

میاں علی اشفاق نے بتایا کہ عمران ریاض خان کے خلاف پنجاب بھر میں 17 مقدمات درج تھے، جس پر ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تو عدالت نے ملک بھر کے متعلقہ اداروں کو گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی جس پر معزز جج نے آئی جی پنجاب کو مقدمات کی کاپی فراہم کرنے اور گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ علی اشفاق نے اعلان کیا کہ ہم اس گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ معزز جج صاحبان عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لے کر عمران ریاض کو رہا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کی عمران ریاض خان کی گرفتاری کی مذمت

پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل نے عمران ریاض خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران ریاض محب وطن پاکستانی اور پیشہ ور صحافی ہیں، وہ بے باکی کے ساتھ عوام کے سامنے سچ لاتے ہیں‘۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ ججز توہین عدالت کا نوٹس لیں گے، عمران ریاض خان کی گرفتاری کے وقت موقع پر 15 ایس ایچ اوز موجود تھے۔

بشکریہ: اے ٓر وائے، سوشل میڈیا، دنیا نیوز