تازہ خبریںمنظر نامہ

ٹارگٹ کلنگ روکنے کئلئے انتہائی قدم

وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے کسی سیاسی جماعت کے لیے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔ کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے انتہائی قدم بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ میں تیسری قوت ملوث ہے جسے بہت جلد بے نقاب کردیا جائے گا ،پاکستان کے اہم ترین شہر میں پُر امن حالات کو کسی بھی صورت میں خراب نہیں کرنے دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیرقانون بابراعوان نے پیپلزپارٹی ضلع اوکاڑہ کے نائب صدر سید مظہر زمان کرمانی کے ساتھ ملنے والے پارٹی کارکنوں کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ صدر آصف زرداری کی مفاہمتی سیاست کی کامیابی اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ اپوزیشن جماعتیں بھی موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری کرنے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دروازوں کا بند نہ ہونا جمہوریت کے تسلسل کی ضمانت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم (ن) لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے اس مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں جو 2008ءکے انتخابات میں انہیں عوام نے دیا لیکن جمہوری اقدار یہی ہیں کہ پیپلزپارٹی کے مینڈیٹ کا بھی احترام کیا جائے۔ وفاقی وزیر بابر اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی حکومتی اتحاد میں واپسی کے واضح امکانات ہیں۔ ہم نے ان کے ساتھ روابط کو ہر سطح پر قائم رکھا ہوا ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کراچی ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی آنے کا مقصد شہر میں امن کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنما_¶ں سے ملاقات کرنا ہے جبکہ اس کے علاوہ دیگر علماءکرام سے بھی ملاقا ت کروں گا ۔انہوںنے کہا کہ جمعہ کی شب عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی اور متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے اور دونوں سربراہ اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے گریز کریں گے ۔شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں تیسری قوت ملوث ہے جو ملک کی سا لمیت کے خلاف ہے ۔علاوہ ازیںوفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ہفتہ کونیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے دفترمیںعلماءکے ساتھ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ناموس رسالت قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے علماءاور حکومتی ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی ‘ وفاقی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ حکومت تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کر رہی اور کوئی بھی سرکاری عہدیدار اپنے الفاظ کا مذہبی معاملات میں استعمال کرتے ہوئے احتیاط کرے گا۔اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان‘حاجی حنیف طیب‘شاہ تراب الحق‘علامہ اسدتھانوی‘مفتی نعیم‘قاری محمد عثمان‘عباس کمیلی اوردیگر بھی موجود تھے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button