تازہ خبریں

آسمان سے گرنے والی لاش

لاہور میں ان دنوں ایک گھر کی چھت سے ملنے والی لاش کا معمہ پولیس اور ائرپورٹ سے متعلقہ اہلکاورں کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ یہ لاش بظاہر آسمان سے چھت پر گری اور چھ روز کے بعد لاش کی شناخت تو ہوگئی لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ لاش آسمان سے کیسے آگری۔

لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں جمعرات کی دوپہر محمد قاسم کے والدین کی موجودگی میں قبر کشائی ہوئی والد اور دیگر رشتہ داروں نے لاش کی شناخت کرلی۔

محمد قاسم کی لاش اس کے آبائی قبرستان منتقل کردی گئی ہے لیکن یہ معمہ حل نہیں ہوسکا کہ وہ ہلاک کس طرح ہوا۔

پولیس کے مطابق ایک ہفتے پہلے ایک لاش ایئرپورٹ کے نزدیک واقع گھر کی چھت پر آگری لاش اتنی زور سے گری تھی چھت میں دراڑ پڑ گئی اور گرنے کی آواز اردگرد کے مکینوں نے بھی سنی۔ پولیس اور مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لاش جہاز سے گری ہے۔ محمد قاسم کے والد محمد صدیق الیکٹریشن ہیں اور وہ بھی یہی سمجھتے ہیں۔

جس گھرسے قاسم کی لاش ملی اس وہ لاہور ایئر پورٹ کے نزدیک واقع ہے اور جہاز ان کے چھت کے اوپر سے گزرتے ہیں لیکن یہ معمہ حل نہیں ہوسکا کہ سولہ سالہ محمد قاسم جہاز تک کیسے پہنچا اور جہاز میں ایسی کون سی جگہ پر وہ سوار ہوا جہاں سے گرگیا۔

اس کے والد کا کہناہے کہ ان کے بیٹا اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کا کلاس فیلوعمر جمشید بھی اس کے ہمراہ تھا، عمر جمیشد تاحال لاپتہ ہے۔ محمد قاسم کے والد کا کہنا ہے کہ دونوں دوستوں کے کپڑے اور سکول بیگ رن وے سے ملے ہیں۔

پاکستان میں بعض افراد روز گار کی تلاش میں بیرون ملک جانے کے لیے طرح طرح کے طریقے استعمال کرتے ہیں لیکن الیکٹریشن محمد رفیق کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے کبھی بیرون ملک جانے کی خواہش ظاہر نہیں کی تھی۔

عمر جمشید کے والد نے بھی اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرا دی ہے۔ پولیس اور دیگر متعلقہ محمکے اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ متوفی کا سکول بیگ رن وے سے کیوں ملا اور اگر محمد قاسم جہاز سے گرا ہے تو وہ جہاز تک کیسے پہنچا اور اس کے کون سے ایسے حصے میں تھا جہاں سے وہ گر گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اب اس کےدوست عمر جمشید کی تلاش ہے اس کی بخریت واپسی پر ہی معمہ حل ہوپائے گا کہ محمد قاسم مردہ حالت میں ایک گھر کی چھت پر کیسے پایا گیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button