Ultimate magazine theme for WordPress.

قانون خود اپنا راستہ تلاش کرتا ہے، چیف جسٹس پاکستان

19

ہمیں ہدایات دینے کی ضرورت نہیں کہ تحقیقات کیسے ہوں، چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد سپریم کورٹ میں جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سکینڈل سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے درخواستگزار اکرام چودھری سے کہاکہ ہمیں ہدایات دینے کی ضرورت نہیں کہ تحقیقات کیسے ہوں ،قانون خود اپنا راستہ تلاش کرتا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سکینڈل سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ،جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطابندیال تین رکنی بنچ کا حصہ ہیں ،درخواستیں اشتیاق احمد مرزا سہیل اختراور ایڈووکیٹ طارق اسد نے دائر کی ہے ،درخواستوں میں وفاقی حکومت نوازشریف شہبازشریف ،مریم نواز،شاہد خاقان عباسی ،راجہ ظفر الحق اوردیگر کو فریق بنایاگیا ہے ،درخواستوں میں جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی انکوائری کرانے کی استدعاکی گئی ہے،درخواست میں کہا گیاہے کہ جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کیشن بنایاجائے،درخواستگزار اکرام چودھری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا عدلیہ سے اعتماد مجروح ہوا ہے،آپ کے اس معاملے کو دیکھنے سے ہائیکورٹ کو مزید اعتماد ملے گا،اکرام چودھری نے کہا کہ شہبازشریف، مریم نواز،ناصر بٹ اور دیگر کو نوٹس ہونا چاہئے ،جج ارشدملک کوبھی اس معاملے پر نوٹس ہوناچاہئے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمارے سامنے مسئلہ اور ہے ،اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ اس معاملے کو دیکھنے کی ضرورت ہے ،اگر ہم اس معاملے کو دیکھتے ہیں تواس کے کیا اثرات ،سوال یہ ہے کہ تحقیقات کس مرحلے پرہوں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ غیر معمولی باتیں بھی ہیں ،اس میں کوئی شک نہیں کہ تحقیقات ہونی چاہئیں،عدالت نے کہاکہ ابھی سپریم کورٹ کی مداخلت سے ہائیکورٹ میں سماعت متاثر ہو سکتی ہے ،کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم توہین عدالت کی کارروائی شروع کریں،توہین عدالت کی کارروائی سے معاملہ مزید متنازع ہوگا ،پہلے شواہد اکٹھے کرنے ہوں پھر انکوائری ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی سے یہ تاثر جائے گا جج پر لگے الزامات غلط ہیں ،اکرام چودھری نے کہاکہ معاملہ بہت سنجیدہ ہے عدلیہ کومتنازع بنایاگیا ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس لئے آپ آپ کو سن رہے ہیں ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کس جج سے اس معاملے کی تحقیقات کرانا چاہتے ہیں ،کیا آپ سپریم کورٹ کے جج سے اس معاملے کی تحقیقات کراناچاہتے ہیں ،اکرام چودھری نے کہا کہ جی جناب سپریم کورٹ کے جج ہی اس معاملے کودیکھیں ،سائبر قوانین اور پی آر سی سی کے قوانین کے تحت تحقیقات ہوں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہمیں ہدایات دینے کی ضرورت نہیں کہ تحقیقات کیسے ہوں ،قانون خود اپنا راستہ تلاش کرتا ہے،عدالت نے اکرام چودھری کے دلائل مکمل سماعت میں وقفہ کردیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.