کسان، زراعت اور مسائل

0 23

تحریر :سید محمد عابد

زراعت پاکستان کے لئے ایک جڑ کی حیثیت رکھتی ہے، ملک کی 60 فیصد سے زائد آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ ملکی زرمبادلہ میں زراعت کا حصہ بائیس فیصد ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والی کپاس، گندم، گنا اور چاول کی فصل بیرونی منڈیوںمیں خاص اہمیت رکھتی ہے اور ملک ان فصلوں کی بدولت قیمتی زرمبادلہ حاصل کرتا ہے۔ اس کے باوجود ملکی زرعی شعبے کی ترقی کی رفتار نہایت سست ہے۔ ہمارے مقابلے میں دنیا کے دیگر ملک زیادہ پیداوار دے رہے ہیں۔ اگر زرعی ترقی میں حائل رکاوٹوں پر غور کیا جائے تو کئی وجوہات سامنے آتی ہیں۔ہمارے کسان مہنگائی کے بوجھ تلے پھنسے جارہے ہیں، کھاد نہ صرف مہنگی ہو رہی ہے بلکہ کاشت کے دنوں میں ناپید ہو جاتی ہے، دیگر زرعی لوازمات بھی ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگے ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یوریا کھاد کی اوسط قیمت 1616 جبکہ ڈی اے پی کی اوسط قیمت 4046 روپے فی50 کلوگرام سے بھی زیادہ ہو گئی۔ ہماری حکومت نے زرعی ٹیکس اور دیگر کئی صورتوں میں زرعی اشیاءکو farmerشدید مہنگا کر دیا ہے۔ غریب پہلے مہنگائی کی وجہ سے سبزی کھانے پر ترجیح دیتا تھا مگر اب وہ بھی مہنگائی کے باعث غریبوں کی پہنچ سے دور ہو رہی ہے۔ موجودہ حالات میں کسان کھیتی باڑی کی بجائے اپنی زرعی زمینیں فروخت کرکے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو ملکی زرعی صورتحال مکمل طور پر ٹھپ ہو جائے گی۔ فصل کی کاشت کے دنوں میں کیمیائی کھادیں ہر علاقے میں مختلف نرخوں پر فروخت کی جاتی ہیں۔ کھاد ڈیلر فی بوری 2 سے 300 تک منافع کماتے ہیں جبکہ اس دوران ملاوٹ مافیا بھی متحرک ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے فصلوں سے معیاری پیداوار حاصل نہیں ہوتی ہے اور زمین کی زرخیزی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ زہریلی زرعی ادویات کے نرخوں میں بھی بے تحاشا اضافہ کسانوں کی قوت خرید سے باہر ہے۔ نا مناسب کھادوں، زہریلی زرعی ادویات کا استعمال ہونے کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار میں کمی ہونے لگی ہے۔

ہمارے کاشتکار اور کسانوں کی اکثریت غیر تعلیم یافتہ ہے اور انہیں جدید طریقوں سے آگاہی حاصل نہیں ہے۔ انھیں جراثیم کش ادویات کے استعمال، معیاری بیجوں کے انتخاب اورمصنوعی کھاد کے مناسب استعمال کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی فی ایکڑ پیداوار ملک کی ضروریات کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ وہ کاشتکاری کے صرف ان روایتی طریقوں پر یقین رکھتے ہیں جو انھوں نے اپنے بزرگوں سے سیکھے ہیں۔ نئی اور جدید ٹیکنولوجی کا استعمال کرتے ہوئے

کسان بہتر پیداوار حاصل کر سکتے ہیں مگر اس کے لئے کسانوں اور کاشتکاروں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے کسان اور کاشتکار آج بھی لکڑی کے ہل، گوبر کی کھاد، غیر تصدیق شدہ مقامی بیج اور کاشتکاری کے قدیم طریقے استعمال کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ نہیں ہورہا ہے باوجوداس کے کہ ہمارے کسان انتہائی محنتی اور جفاکش ہیں۔ ٹریکڑ، ٹیوب ویل، کھاد، تصدیق شدہ معیاری بیج اور بیجوں کی ایک منظم اور ترتیب، مشینی کاشتکاری کے اہم اور لازمی اجزاءہیں جبکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث کسان ان تمام سہولیات کا فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ محکمہ زراعت پر ہمارا کسان اعتبار نہیں کرتا اور کرے بھی کیوں؟ رواں سال کی مثال ہمارے سامنے ہے گندم کی بمپر کراپ ہوئی اور تخمینہ سے چھ لاکھ ٹن زیادہ گندم کی پیداوار ہوئی لیکن کسانوں کو اونے پونے فصل بیچنا پڑی۔ گندم کٹائی کے بعد جتنی دیر رکھی جائے کسانوں کو اتنا ہی نقصان ہوتا ہے اور حکومتی اہلکار یہی کوشش کرتے ہیں کہ کسانوں کو دیر ہو جائے۔ گندم کی کٹائی کے بعد کتنے دنوں تک ٹرالیوں میں گندم خریداری مراکز کے باہر کھڑی نظر آتی ہے اور کوئی کسان سے گندم نہیں خریدتا پھر کسان خود ہی اسے نجی شعبے کو سستے داموں بیچ دیتا ہے ۔ رواں سال بھی یہی ہوا کسان آٹھ سو، ساڑھے آٹھ سو فی من کے حساب سے گندم بیچنے پر مجبور ہو گئے۔ ان تمام مسائل کے بعد کوئی کیسے کسانوں سے زیادہ پیداوار کی امید کر سکتا ہے؟

ہم اس حقیقت کو کب اپنے پلے با ندھیں گے کہ زراعت کوترقی دیئے بغیر اور اس ملک کے کسان کی حالت زار میں بہتری لائے بغیر ہم خود کو زراعت میں خود کفیل نہیں بنا سکتے ہیں۔ دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ممالک نے سب سے پہلے زرعی نظام میں اصلاحات اور کسان دوست پالیسیوں کو لاگو کرکے ہی زراعت میں خود کفالت حاصل کی ہے، کیونکہ زراعت کے بغیر نہ تو صنعت کا پہیہ چل سکتا ہے اور نہ مقررہ شرح نمو اور ترقی و خوشحالی کے پیرا میٹرز پر عملدر آمد کو یقینی بنا یا جاسکتا ہے۔ ڈیمز کی کمی اور بارشوں کے باعث گزشتہ دو تین سال سے پاکستان میں آنے والے سیلابوں نے کسانوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کیا۔ رواں سال بھی صوبہ سندھ میں بارشیں ہوئیں، سیلاب آئے اور کپاس کی تقریباً پچاس فیصد سے زائد فصل تباہ ہو گئی۔ اس سیلاب کی وجہ سے کسانوں کو پانچ لاکھ ستر ارب روپے اور ملک کو مجموعی طور پر ڈیڑھ سو ارب روپے کا نقصان ہوا۔

ایگری بزنس فورم کے ایک سروے کے مطابق صوبہ سندھ میں کپاس کی مجموعی پیداوار پینتالیس لاکھ گانٹھیں ہے لیکن اس سال بیس سے پچیس لاکھ گانٹھیں ہی پیدا کی جاسکیں گی۔ یہ بیس سے پچیس لاکھ گانٹھیں سندھ کے چار سے پانچ لاکھ کاشتکار مل کر پیدا کرتے ہیں جن کی فصل تباہ ہوئی ہے۔ سروے اور تحقیق کے مطابق کپاس کی فصل چونکہ تیاری کے قریب تھی اور اس پر کسان نے جتنا خرچ کرنا تھا وہ کر چکا تھا اس لیے آمدن میں نقصان اور فصل پر اٹھنے والے اخراجات کو اگر یکجا کر لیں تو سندھ اور پنجاب کے بعض علاقوں کے ان کاشتکاروں کو ستر سے پچہتر ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ تاجروں کی تنظیم کے مطابق پاکستانی برآمدات کے لیے اس اہم ترین فصل کی بیس لاکھ گانٹھیں مجموعی مقامی پیداوار یا جی ڈی پی کا ایک فیصد بنتا ہے۔ اس طرح پاکستان کی جی ڈی پی میں ایک فیصد کمی کا خدشہ ہے۔ پاکستان کو کپاس سے ہونے والے دوہرے نقصان کا سامنا ہے۔ ایک تو اس کی جی ڈی پی میں سیدھے سیدھے ایک فیصد کی کمی ہو سکتی ہے دوسری طرف کپڑے کی مصنوعات اور خام کپاس کی برآمد نہ ہونے سے بھی قومی خزانے کو نقصان کا سامنا ہے۔یہ وہ تمام مسائل ہیں جن کے باعث زراعت اور کسان دونوں تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔

ہمارا ملک زراعت کے شعبے میں جب ہی ترقی کر سکتا ہے جب حکومت خود نیک نیتی سے زرعی شعبے کی ترقی پر توجہ دے اور زرعی ترقی کے لئے اقدامات کرے۔ سیاستدان عوام کو سیاسی بیان کے ذریعے ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں، ان بیانا ت سے کسی بھی ملک کا بھلا نہیں ہوا یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ترقی یافتہ ممالک کے بجائے ابھی تک ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.