Ultimate magazine theme for WordPress.

چیئرمین سینیٹ کے خلاف قرارداد

24

جماعت اسلامی ووٹنگ پر تذبذب کا شکار

اسلام آباد: جماعت اسلامی (جے آئی) کا اگرچہ خیال ہے کہ سینیٹ میں چیئرمین اکثریت کا اعتماد کھوچکے ہیں، تاہم آئندہ ہفتے چیئرمین صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف عدم اعتماد کی قراردادوں پر ووٹنگ پر جماعت اپنی حکمت عمی کے بارے میں ابھی تک تذبذب کا شکار ہے۔

جماعت کی جانب سے نہ اپوزیشن پارٹیوں کی کثیرالجماعتی کانفرنس میں شرکت کی گئی تھی اور نہ ہی ان کے اراکین نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کی ایک کثیر الجماعتی کانفرنس بلائی گئی تھی۔

اس تمام صورتحال پر نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے ڈان کو بتایا کہ گزشتہ کچھ دنوں میں اس معاملے پر پارٹی میں بات چیت ہوئی تھی لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ صادق سنجرانی کو پاکستان پیپلزپارٹی اور مختلف سینیٹرز کی حمایت کھنے کے بعد اصولی طور پر اپنے عہدے سے ہٹ جانا چاہیے کیونکہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں صادق سنجرانی نے پی پی پی اور تحریک اںصاف کے مشترکہ امیدوار کے طور پر ووٹ حاصل کیے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں نائب امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے رابطہ کیا تھا، یہاں تک کہ صادق سنجرانی نے بھی جماعت اسلامی کی قیادت سے رابطہ کیا تھا اور حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔

دوران گفتگو لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ پارٹی کارکنان کی خواہش پر جماعت اسلامی نے اتحادیوں کی سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ کیا۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جماعت اسلامی، 5 مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کا حصہ بھی نہیں۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی کے اراکین نے گزشتہ عام انتخابات میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا تھا اور قومی اسمبلی میں ان کے اراکین کو ایم ایم اے کے نمائندے کے طور پر بتایا گیا۔

تینوں آپشن

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں تمام سیاسی منظرنامے اور مجموعی صورتحال کو دیکھ رہے ہیں تحریک عدم اعتماد پر وقت آنے پر فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس جماعت نے تمام آپشن کو کھلا رکھا ہے اور وہ کسی بھی طرف ووٹ ڈال سکتے ہیں یا اس سے دور بھی رہ سکتے ہیں ’لہٰذا آپ یہ کہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس تمام تینوں آپشن موجود ہیں‘۔

واضح رہے کہ اپوزیشن سینٰٹرز نے 9 جولائی کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی، جس پر ردعمل دیتے ہوئے حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں نے 12 جولائی کو ڈپٹی چیئرمین کے خلاف وہی تحریک جمع کروا دی تھی۔

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے لیے مشترکہ طور نیشنل پارٹی (این پی) کے صدر میر حاصل بزنجوں کو پہلے ہی نامزد کیا جاچکا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.