پراسرارعلومتحقیقاتصحت و تندرستیمائنڈ سائنس

چندمنٹ میں ذہنی دباو؛ ٹینشن؛ ڈپریشن؛ تناو اورجسمانی درد سے آزادی کا حیرت انگیز طریقہ

چند منٹ میں ذہنی دباؤ؛ ٹینشن؛ ڈپریشن؛ تناو اور جسمانی درد سے آزادی کا حیرت انگیز طریقہ

نہ دوا کھانے کی ضرورت نہ بد اثرات کا خطرہ

بیماری کے دوران انسان کو امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اور ایک ہی طریقہ علاج پہ تکیہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ جو بھی طریقہ احسن ہو اور نقصانات کا خطرہ کم ہو اسکو اختیار کرنا چاہیے جبکہ ہر عمل اپنے طریقہ کار پہ وضع ہے اور شفایابی کیطرف لیجاتا ہے ۔ ہر مسلمان کا ایمان ہونا چاہیے کہ شفا صرف اللہ کی طرف سے حاصل ہوتی ہے ۔ جبکہ قرآن کریم میں واضع طور پر بیان کیا گیا ہے کہ
” اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو اللہ ہی مجھے شفا دیتا ہے ” الشعرا ء ۸۰

[Youtube=http://www.youtube.com/watch?v=-7IStcHC44Y]

تحریر:محمدالطاف گوہر

ایک نظریہ کے مطابق انسانی جسم میں باءیو انرجی؛ توانائی احاطہ کئی ہوئے ایک دائیمی بہاو میں ہے جبکہ اس توانائی کو زندگی کی طاقت کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔اس توانائی کا بہاو جن راہوں سے ہو تا ہے انکو نصف النہار meridians کہا جاتا ہے اور انکی تعداد 41 بتائی جاتی ہے ۔ اگرانسانی جسم میں اس توانائی کا بہاو ان نصف النہار وں کے ذریعے سے انسانی جسم کے اندر اور باہربرابر یعنی متوازن رہے تو انسان صحت مندی کی حالت میں رہتا ہے ؛ بصورت دیگر اگراس بہاو میں کسی وجہ سے رکاوٹ آجائے تو اس سے متعلق عضو کا عمل متاثر ہو تا ہے اور انسان بیماری کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ لہذا انسانی جسم میں توانائی کے بہاو میں توازن رکھنے اور اسکی راہ میں حائل رکاوٹ کو ختم کرنے کیلئے کچھ جگہیں مخصوص کی گئیں ہیں جو کہ تقریباً چار سو سے پانچ سو کے قریب ہیں جن کو کسی خاص عضو سے متعلق تصور کیا جاتا ہے۔ ان مقامات پر دو علیحدہ طریق سے اثر انداز ہو جاتا ہے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ کچھ سوئیاں ان مقامات پر انسانی جسم کی اوپر والی جلد میں داخل کر دی جاتی ہیں جو کہتوانائی کے بہاو کا تسلسل دوبارہ معتدل کر دیتی ہے اور اس طریقہ کار کو آکو پنکچر کہتے ہیں اور اگر ان مقامات پر ہاتھ کی مدد سے دباؤ ڈالا جائے اور وہی مقاصد حاصل کئے جائیں تو اسے آکو پریشر کہتے ہیں۔ آکو پریشر میں ہاتھوں کی انگلیوں سے مدد لی جاتی ہے جن سے جسم پر ان اہم مقامات کو دبایا جاتا ہے جو کسی بھی بیماری سے متعلق عضو سے وابستہ ہوں جبکہ اسکے باعث جسمانی پٹھوں میں تناو اور بھی ختم ہوتا ہے اور دوران خون میں بھی روانی بھی آ جاتی ہے توانائی کا بہاو بھی معتدل ہو جاتا ہے۔ آکو پریشر میں دونوں ہاتھوں اور پاوں کے پوائنٹس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔) مگر پھر بھی یادرکھیں اس آکو پریشر کے کسی عمل کو کسی بھی سٹنڈرڈ طریقہ علاج کا مکمل متبادل تصور نہ کر لیں اور اگر کوئی بھی تکلیف برقرار رہے تو ڈاکٹر سے رجوع ضرور کریں۔
جدت کی دوڑ میں اگر قدیم طریقہ کار اپنی مثال آپ رکھتا ہو تو اسکی افادیت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی انسانی جسم کی الیکٹرونکس کے کرشماتی طریقہءعلاج میں ایک ٹیکنیک EFT- Emotional Freedom Technique
کا استعمال آج کل تقریبا پوری دنیا میںانتہائی افادیت سے کیا جا رہا ہے اور اسکے کرشماتی فوائد کاادراک تو مجھے استعمال کرتے ہی معلوم ہو گیا تھا البتہ آپ بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ طریقہ کار کیلئے کسی خاص تربیت یا مہارت کی ضرورت نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ کا عمل کرنے سے آپ اسکے طریقہ کار کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔
ؑEFTایک ایسا طریقہ کار ہے جسکے باعث کوئی بھی انسان اپنی دن بھر کی تکان، بے چینی کے حالت، کسی بھی ذہنی یا جسمانی تناوءسے چھٹکارہ کیلئے آکو پریشر کے اصول پر جسم کے چند مخصوص مقامات کو تھپتھپانے کا عمل ہے جسکے نتیجہ میں انسانی جسم میں بہتی کرنٹ یعنی توانائی اپنے اعتدال کے مقام پر آجاتی ہے اور فوری طور پر افاقہ محسوس ہوتا ہے۔ اس عمل میں انسانی جسم کے آٹھ مقامات کو دونوں ہاتھوں کی چار چار انگلیوں کی ٹو سے تھپتھپایا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کی افادیت کے باعث لا تعداد لو گ اس عمل کو روز مرہ کا معمول بنا چکے ہیں۔
اس قدیم چینی طریقہ کار میں جو مقامات اس عمل بتلائے گئے ہیں انکی ترتیب کچھ یوں ہے:
دونوں آنکھوں کی بھنوںسے اوپر ، آنکھ کے اوپرمگر درمیان میں
دونوں آنکھوںسے نیچے مگر درمیان میں
دونوں آنکھوں کے باہر کیطرف کناروں پر
ناک کے بالکل نیچے ، ناک اور ہونٹ کے درمیان
ٹھوڑی کے اوپر، درمیان میں شکن والی جگہ پر
سینے پر جہاں یو شکل کی ہڈی ہے ، دونوں اطراف درمیان میں اوردو انچ نیچے کیطرف
دونوںبازوں کے نیچے ،بگل سے تین انچ نیچے
سر کے بالکل درمیان اور چوٹی پر
ان مقامات کو ترتیب سے دونوں اطراف اور ایک ہی وقت میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی ٹو سے پانچ سے سات بار تھپتھپایا جاتا ہے ۔ اس عمل کو ایک سے زائد بار بھی کر سکتے ہیں۔ جبکہ اس کے نتیجہ میں کسی بھی غیر ضروری تناو سے نجات مل جاتی ہے ، دوا بھی نہیں کھانی پڑی اور افاقہ بھی حاصل البتہ کسی سائڈ افیکٹ کا خطرہ بھی نہیں البتہ آزمائش شرط ہے۔
آئیے اس طریقہ کار کا عملی مظاہرہ کا ویڈیو ملاحظہ فرمائی

[Youtube=http://www.youtube.com/watch?v=J9GbCoU8mVc]

Related Articles

2 Comments

Leave a Reply

Back to top button