پیار کی بہار

پیار کی رتیں

پیار کی رتیں

لمحاتِ الفت میں زندگی پہلی بار رنگوں سے شناسا ہوئی تو خوبصورتی ، حسن اور جلوہ آرائی نے انگڑائی لی اور وصل کی شاموں کو وجد آ گیا

الفت کی موسیقی سن کر چاندنی نے نفرت کی کالی گھٹاؤں سے جھانکا تو محو حیرت ہوگئی[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=msT9NwCG5fA]

بچپن ، لڑکپن ، بلوغت اور جوانی کے شب و روز ایک قربتِ لاثانی سے سرشار رہے ، الفت کی ہوائیں چلتیں اور پیار کی ساری رتیں نچھاور کرتیں۔ محبوب کے آنگن میں خوشبو کا بسیرا تھا جبکہ لمحے اپنی موج میں رقصاں کسی بھی پل لطف و کرم کی عنائیت سے لبریز شان بے نیازی سے مصروف رہے۔ قربت کی گھنی چھاوں کا ہر سو بسیرا تھا ، باد صبا بھی اٹھکھیلیاں کرتے گزرتی تھی۔جبکہ شبنم گلِ مروت پر نچھاور ہوئے جاتی اور خورشید جب جھانکتا تو موتیوں کی لڑیاں بنتیں قطرہ قطرہ ٹپکتے ہوئے وصل کے شب و روز کو سیراب رکھتیں ۔
لمحاتِ الفت میں زندگی پہلی بار رنگوں سے شناسا ہوئی تو خوبصورتی ، حسن اور جلوہ آرائی نے انگڑائی لی اور وصل کی شاموں کو وجد آ گیا۔رقصاں لمحے نئی لے پر تھرکنے لگے اور آہ و قاہ بدلتے رنگوں سے معمور ہوئے جبکہ خواب و خیال حقیقت کا گیت گانے لگے۔ الفت کی موسیقی سن کر چاندنی نے نفرت کی کالی گھٹاؤں سے جھانکا تو محو حیرت ہوگئی۔
میرے محبوب کا آنگن وصل کی لذت سے سرشار لمحوں کے رقص کا سماں باندھے رہتا مگر کبھی کبھی فراق کی رات آتی تو چاندنی چونک جاتی مگر لمحے صرف مسکرا دیتے، کہ چاند تو میرے محبوب کی آنکھوں سے جھانک رہا ہے۔نظروں کے جام سے جام ٹکراتے تو قلب کے سمندر میں چاہت کے مدو جذر امڈ آتے اور یہ بحر بیکراں طغیانی سے روشناس ہوتے تو حیرت کے کنارے مسرت و شادمانی کے گھونگے ، موتی اور جواہرات سے بھر جاتے ۔
بے قراری خورشید کی پہلی کرن کے ساتھ ہی آ وارد ہوتی جبکہ لمحے وصل کی تڑپ کی کھونٹی پر نینوں کو ٹکا دیتے کہ نہ معلوم کب الفت کی للجھاتی ؛ شرماتی موج کی آمد ہو جبکہ انتظار نے اس پل پہلی بار جنم لیا اور میرے محبوب کے شوق کی سولی پر لٹک گیا جبکہ وصل کی مہک چار سو پھیل گئی ، پیار کے سارے رنگ نچھاور کرتی صبا مسکرانے لگی تو دھڑکنوں نے رک کر منزل کو تھام لیا۔

Bookmark and Share

Related Articles

2 Comments

Leave a Reply

Back to top button