About the author

Related Articles

9 Comments

  1. 1

    افتخار اجمل بھوپال

    معمر قذافی ایسا شخص ہے کہ آمنے سامنے اُسے جھٹلانا انتہائی مشکل کام ہے ۔ جس موضوع پر وہ بات کرتا ہے اس کی اچھی تیاری کر کے آیا ہوتا ہے ۔ اس کے اپنے اصول ہیں جن پر وہ سختی سے عمل کرتا ہے ۔ میں طرابلس کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر کو دکھانے کے بعد دوائی لینے کیلئے قطار میں کھڑا تھا ۔ کچھ فاصلے پر عورتوں کی قطار تھی جس میں مجھ سے بھی پیچھے معمر قذافی کی بیوی ایک بچہ اُٹھائے دوائی لینے کیلئے کھڑی تھی یہ کوئی 30 سال پیچھے کی بات ہے

  2. 2

    فرحان دانش

    کام اچھا کیا پر اس کا انداز ناپسندیدہ لگ رہا ہے

  3. 3

    میرا پاکستان

    ہمیں معمرقذافی سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر جو اس نے اسلام کی تبلیغ کیلیے راستہ اپنایا وہ اتنا بھی برا نہیں ہے کہ اس میں کیڑے نکالے جائیں۔

  4. 4

    اسماء پيرس

    قذافی نے صحيح ہی تو کيا ہے حسيناؤں کو پٹائے گا تو پروانے بھی انکے پيچھے پيچھے ہی آئيں گے مجھے صرف اس بات پر اعتراض ہے کہ ان بےوضو عورتوں کو قرآن کيوں پکڑايا

  5. 5

    arifkarim

    تبلیغ انکو کرنی چاہئے۔ جنپر اثر ہونے کا کم از کم ایک فیصد چانس ہو۔

  6. 6

    عبداللہ

    اسماء یہاں میں آپکی ایک غلط فہمی دور کرنا چاہوں گا اگر آپ کے کہنے کے مطابق انکو وضو کروا بھی دیا جاتا تو جو کفر ان کے دل میں بھرا ہے اسے کیسے نکالتے اسے نکالنے کے لیئے تو انہیں قرآن ہی پڑھوانا پڑے گا ،اگر انکو وضو کروا کر قرآن پکڑا یا اوروہ گھر جاکر اس کی بے حرمتی کرتیں تو کیاہم انہیں پکڑ سکتے ہیں کچھ چیزیں اللہ اور بندے پر بھی چھوڑ دینا چاہیئیں اگر ہم یہ رسک نہیں لیں گے تو قرآن کو اسی طرح محدود کردیں گے جس طرح اب تک کیئے رکھا اور اپنے پڑوس میں رہنے والے ہندو سکھ یا عیسائی کو اسے ہاتھ نہ لگانے دیا کہ تم ناپاک ہو بی بی یہ بک آف گائیڈینس ہے جسے اللہ چاہے گا اسے ہدایت عطا فرمائے گا ہمارا کام اس کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانا ہے چاہے جیسے بھی ممکن ہو اور اس کے لیئے یہ کتاب اور ہمارا اپنا عمل سب سے بڑا ذریعہ ہے باقی جو اس کی بے حرمتی کرے گا اس سے اللہ خود ہی نمٹ لے گا ہمیں ان سے ذیادہ اپنی فکر کرنا چاہیئے کہ ہم جو اسے پڑھتے ہیں اور اس کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے یہ اس کتاب کی سب سے بڑی بے حرمتی ہے، اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین

  7. 7

    فیصل

    چلیں ایک تو مسلمان ہو گئی یے سنا ہے۔
    میں بھی اسلام کی ترویج کرنا چاہتا تھا لیکن بیگم نے دوسری شادی کی اجازت ہی نہیں دی۔
    ہی ہی ہی

  8. 8

    altafgohar

    پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

  9. 9

    ابو انس ایبٹ آباد

    سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری
    تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے
    انکل غالب نے مہ رخوں کی ملاقات کا زریعہ مصوری تک موقوف رکھا لیکن اپنے قذافی صاحب نے تو مصوری کے بجاءے تبلیغ دین کا راستہ اپنایا
    رنگ الفت بھی رہے خون کی ہولی بھی رہے
    اعتراض تبلیغ پر تو نہیں کیا جا سکتا البتہ حسیناءوں کو دایرہ اسلام میں لانے کے پس پردہ کہیں شادی کا پروگرام نہ ہو
    اللہ کرے زور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور زیادہ

Leave a Reply

2020 Powered By Urdusky Urdusky Network