اسلام

معمرقذافی۔ لیبیائی لیڈر کا اٹلی کی خوبصورت حسیناوں کو اسلام پر لیکچر دینے کے لئے ”پر کشش” اشتہار

معمرقذافی۔ لیبیائی لیڈر کا اٹلی کی خوبصورت حسیناوں کو اسلام پر لیکچر دینے کے لئے ”پر کشش” اشتہار

خاتون رپورٹر کا کہنا ہے کہ بہت سی خواتین کسی پرتعیش پارٹی میں شرکت کے چکر میں وہاں آئی تھیں لیکن جب وہ وہاں پہنچیں تو انہیں ایک بڑے ہال میں کرنل قذافی کی آمد تک انتظار کرنے کا کہا گیا جنہوں نے بعد میں انہیں لیبیا اور اسلام میں خواتین کے کردار اور مقام ومرتبہ کےبارے میں لیکچر دیا.

لیبیا کے لیڈر کرنل معمر قذافی کی جانب سے اٹلی کے میڈیا میں شائع کئے گئے ایک پرکشش اشتہار کی وجہ سے قریباً دو سو اطالوی خواتین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے.
اطالوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک اشتہاری ایجنسی کی جانب سے اس عبارت والا اشتہار شائع کیا گیا تھا کہ ”اٹھارہ سے پینتیس سال عمر کی پانچ سو پرکشش لڑکیوں کی ضرورت ہے.ان کا قد کم سے کم پانچ فٹ سات انچ تک ہو. وہ اچھا لباس پہنے ہوئے ہوں اور منی اسکرٹس یا مختصر لباس میں نہ ہوں”

ان خواتین سے کہا گیا تھا کہ ”پارٹی میں شرکت کی صورت میں انہیں ساٹھ یورو کی نقد رقم اور لیبیا کی جانب سے تحائف دئیے جائیں گے”.اس اشتہار کے جواب میں قریباً دو سو خواتین روم میں مقررہ جگہ پر پہنچ گئیں.ان میں اٹلی کی ایک نیوز ایجنسی انسا کی ایک رپورٹر بھی شامل تھیں جنہوں نے رات کے وقت منعقدہ اس تقریب کی تصاویر بنائیں اور اس کا احوال قلم بند کیا.
اس خاتون رپورٹر کا کہنا ہے کہ بہت سی خواتین کسی پرتعیش پارٹی میں شرکت کے چکر میں وہاں آئی تھیں لیکن جب وہ وہاں پہنچیں تو انہیں ایک بڑے ہال میں کرنل قذافی کی آمد تک انتظار کرنے کا کہا گیا جنہوں نے بعد میں انہیں لیبیا اور اسلام میں خواتین کے کردار اور مقام و
مرتبہ کےبارے میں لیکچر دیا.
اطالوی پریس کے مطابق لیبیا کے رہ نما نے اپنے لیکچر میں کہا کہ”یہ کہنا بالکل غیر درست ہو گا کہ اسلام عورتوں کے خلاف ہے”. انہوں نے کہا کہ ”مغرب میں عورت کو اکثر فرنیچر کے ایک ٹکڑے کے طور پر استعمال کیا جاتا اور جب مردوں کی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں تو انہیں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور یہ ناانصافی ہے”.
کرنل قذافی کا لیکچر دو گھنٹے تک جاری رہا.اس دوران سوال وجواب بھی ہوئے اور یہ پروگرام کوئی نصف شب کے وقت قذافی کے ان کلمات کے ساتھ ختم ہوا کہ خواتین اسلام قبول کر لیں. لیکچر میں شریک خواتین کو قرآن مجید اور قذافی کے اقوال پر مشتمل ان کی کتاب ”گرین بک”کا ایک ایک نسخہ بھی دیا گیا.
پروگرام میں شریک ایک خاتون نے انسا
نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ”ہم تو کسی بہت ہی اہم پارٹی کی توقع کر رہے تھے لیکن انہوں نے تو ہمیں ایک گلاس پانی تک نہیں دیا”.کرنل قذافی ٰنے اپنے لیکچر کے دوران حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھائے جانے اور ان کی جگہ ان کے ایک ہم شکل کو مصلوب کئے جانے کے بارے میں قرآن اور مسلمانوں کا نقطہ نظر پیش کیا تھا جس پر بعض عیسائی خواتین جز بز ہوئیں اور انہوں نے اسے عیسائیت پر حملہ قرار دیا کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا تھا.
اٹلی میں لیبیا کے سفیر نے انسا کو بتایا ہے کہ کرنل قذافی روم میں اپنے تین روزہ قیام کے دوران اسی طرح کی مزید شامیں منانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں. وہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عالمی خوراک کانفرنس میں شرکت کے سلسلہ میں اٹلی کے دارالحکومت گئے ہیں


Related Articles

9 Comments

  1. معمر قذافی ایسا شخص ہے کہ آمنے سامنے اُسے جھٹلانا انتہائی مشکل کام ہے ۔ جس موضوع پر وہ بات کرتا ہے اس کی اچھی تیاری کر کے آیا ہوتا ہے ۔ اس کے اپنے اصول ہیں جن پر وہ سختی سے عمل کرتا ہے ۔ میں طرابلس کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر کو دکھانے کے بعد دوائی لینے کیلئے قطار میں کھڑا تھا ۔ کچھ فاصلے پر عورتوں کی قطار تھی جس میں مجھ سے بھی پیچھے معمر قذافی کی بیوی ایک بچہ اُٹھائے دوائی لینے کیلئے کھڑی تھی یہ کوئی 30 سال پیچھے کی بات ہے

  2. قذافی نے صحيح ہی تو کيا ہے حسيناؤں کو پٹائے گا تو پروانے بھی انکے پيچھے پيچھے ہی آئيں گے مجھے صرف اس بات پر اعتراض ہے کہ ان بےوضو عورتوں کو قرآن کيوں پکڑايا

  3. اسماء یہاں میں آپکی ایک غلط فہمی دور کرنا چاہوں گا اگر آپ کے کہنے کے مطابق انکو وضو کروا بھی دیا جاتا تو جو کفر ان کے دل میں بھرا ہے اسے کیسے نکالتے اسے نکالنے کے لیئے تو انہیں قرآن ہی پڑھوانا پڑے گا ،اگر انکو وضو کروا کر قرآن پکڑا یا اوروہ گھر جاکر اس کی بے حرمتی کرتیں تو کیاہم انہیں پکڑ سکتے ہیں کچھ چیزیں اللہ اور بندے پر بھی چھوڑ دینا چاہیئیں اگر ہم یہ رسک نہیں لیں گے تو قرآن کو اسی طرح محدود کردیں گے جس طرح اب تک کیئے رکھا اور اپنے پڑوس میں رہنے والے ہندو سکھ یا عیسائی کو اسے ہاتھ نہ لگانے دیا کہ تم ناپاک ہو بی بی یہ بک آف گائیڈینس ہے جسے اللہ چاہے گا اسے ہدایت عطا فرمائے گا ہمارا کام اس کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانا ہے چاہے جیسے بھی ممکن ہو اور اس کے لیئے یہ کتاب اور ہمارا اپنا عمل سب سے بڑا ذریعہ ہے باقی جو اس کی بے حرمتی کرے گا اس سے اللہ خود ہی نمٹ لے گا ہمیں ان سے ذیادہ اپنی فکر کرنا چاہیئے کہ ہم جو اسے پڑھتے ہیں اور اس کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے یہ اس کتاب کی سب سے بڑی بے حرمتی ہے، اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین

  4. چلیں ایک تو مسلمان ہو گئی یے سنا ہے۔
    میں بھی اسلام کی ترویج کرنا چاہتا تھا لیکن بیگم نے دوسری شادی کی اجازت ہی نہیں دی۔
    ہی ہی ہی

  5. سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری
    تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے
    انکل غالب نے مہ رخوں کی ملاقات کا زریعہ مصوری تک موقوف رکھا لیکن اپنے قذافی صاحب نے تو مصوری کے بجاءے تبلیغ دین کا راستہ اپنایا
    رنگ الفت بھی رہے خون کی ہولی بھی رہے
    اعتراض تبلیغ پر تو نہیں کیا جا سکتا البتہ حسیناءوں کو دایرہ اسلام میں لانے کے پس پردہ کہیں شادی کا پروگرام نہ ہو
    اللہ کرے زور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور زیادہ

Leave a Reply

Back to top button