شخصیات وانٹرویومنظر نامہ

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل سے تازہ ترین صورت حال اور اہم امور پر خصوصی انٹرویو

جنرل حمید گل981 سے1985 تک بری فوج کے حساس اور اہم شعبے ملٹری انٹیلی جنس کے ذمہ دار رہے پھر مارچ 1987 سے صدر ضیا الحق کے طیارہ کے حادثے اور بعد میں1989 تک افواج پاکستان اور حکومت پاکستان کے اعلی ترین ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس ISIکے سربراہ رہے۔ISIکی سربراہی کے دوران ہی روسی فوجوں کی افغانستان سے واپسی کے اعلان اور ضیا الحق سے قریبی طور پر منسلک رہنے کی بدولت حمید گل شہرت کے دائرے میں آگئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دور میں افغانستان کی حکومت سمیت تمام مجاہدین خصوصاً طالبان لیڈر ان سے اپنے امور سلطنت و سیاست میں مشورہ کیا کرتے تھے۔
انہیں کشمیر کی جدوجہد آزادی کا ذہین ترین ترجمان بھی کہا جاتا ہے اور پاکستان میں اسلامی قوتوں کی آنکھ کا تارا سمجھا جاتا ہے۔ روس کو افغانستان سے نکال باہر کرنے میں ان کے رول کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔ان کا بیٹا بھی روس کے خلاف افغانستان میں سرگرم عمل رہا ۔Hameed-Gul-urdusky
جنرل حمید گل کی اہمیت اور شہرت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی فوج سے ریٹائرمنٹ پر مغرب کے سیاسی اور ذہنی اتالیق لندن اکانومسٹ ، جو صحافتی سنجیدگی اور برطانوی وضع داری کا نمونہ سمجھا جاتا ہے ، نے خوشی سے بے قابو ہو کر لکھا تھا کہ جنرل حمید گل کے ساتھ پاکستانی فوج سے صاحب نظر جرنیلوں کا وہ آخری فرد بھی رخصت ہواجس کی ابتدا جنرل ضیاءالحق سے ہوئی تھی۔ امریکی صدر، برطانوی وزیر اعظم ، روسی ، جرمن اور فرانسیسی حکمرانوں کی رہنمائی کرنے والے جریدے کے لیے ”تیسری دنیا“ کے ایک ملک کے تین ستاروں والے لیفٹیننٹ جنرل کی ریٹائرمنٹ کو واقعات عالم کا اہم سنگ میل اور نتیجہ خیز موڑ قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنرل حمید گل کی شخصیت میں کوئی ایسی خاص بات ضرور ہے جسے نظر انداز کرنا عالمی طاقتوں کے لیے ممکن نہیں ۔
جنرل حمید گل کو دفاعی تجزیہ کار کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔خطے کی صورت حال پر نہ صرف عبور رکھتے ہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی چالوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے پس منظر سے بھی کافی حد تک آگاہ ہیں۔ جنرل حمید گل سے انٹرویومیرے لیے اس لیے بھی اہم تھا کیوںکہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ روس کے مقابلے میں طالبان کو میدان میں اتارنے ، IJI اتحاد کو تشکیل دے کر اےک حکومت گرانے اور ISI کے سربراہ کی حیثیت سے نازک اور اہم ملکی اوردفاعی نوعیت کے رازوں کو سینے میں رکھنے اور اہم کام سرانجام دینے والے اپنے دور کے با اثر اور طاقتور ترین جنرل موجودہ صورت حال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟ اس کے علاوہ خود پر لگنے والے الزامات پر ان کا کیا موقف ہے؟
ذیل ہم یہ انٹرویو پیش کررہے ہیں۔

بدر سعید:کیا یہ محض اتفاق تھا کہ آپ فوج میں آگئے یا پھر اس کے پیچھے کوئی جذبہ یا شوق بھی تھا؟
حمید گل: آرمی تو ہمارے خون میں ہے۔ میرے پرداد سید احمد بریلوی کے لشکر میں تھے۔ ہم پٹھان ہیں ، سوات کے رہنے والے ہیں۔ میرے دادا فوج میں میجر تھے۔ میرے والد صاحب ملٹری اکاﺅنٹ میں تھے وہ تحریک خلافت سے منسلک تھے اس لیے فوج میں نہیں گئے۔ میں اکلوتا بیٹا تھا۔ یہ ہمارا بیک گراﺅنڈ ہے لیکن جہاد بھی اﷲ کے فضل و کرم سے ہمارے خون میں ہے۔
بدر سعید:عافیہ صدیقی کو سزا سنادی گئی ہے اس حوالے سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا عافیہ صدیقی واقعی مجرم ہے اور کیا ان کا جرم اتنا سنگین تھا کہ اس سزا کی حق دار ٹھہریں یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟
حمید گل:نہیں نہیں(بات کاٹتے ہوئے) شواہد جو ہیں وہ بالکل خلاف ہیں۔ دیکھئے! امریکہ کے خلاف تو اور بہت سے لوگ بھی ہیں۔ میں خود بھی ان کی پالیسی پر تنقید کرتا ہوں خود امریکہ کے اندر لوگ ہیں جوان پر تنقید کرتے ہیں لیکن یہ جو ڈرامہ بتایا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی تین بچوں کو لے کر امریکہ کے سپاہیوں کو مارنے کے لیے افغانستان چلی گئی یہ ناقابل یقین ہے اور پھر اس نے ایک میرین سے رائفل چھین لی اور اس کے اوپر فائر کر دیا اور وہ خود زخمی ہو گئی۔ اس سے بڑا مذاق اور کیا ہو سکتا ہے؟ یہ صرف پاکستان کے لیے جو سزا دی جارہی ہے۔ مسلمانوں کو حمیت کا امتحان لیا جارہا ہے ۔ ان کو ذلیل ورسوا کیا جارہا ہے اور یہ جوا بھی خاکے بنانے شروع کردیے نبی کریم کے اورجو رسالت سے متعلق اور جو قرآن کے اوراق جلانے شروع ہو گئے اس سارے کے پیچھے ایک سوچ ہے۔ وہ سوچ یہ ہے کہ یہ مسلمان جو ہیں غیرت کے نام کے اوپر…. دینی غیرت…. جسے غیرت ملی کہتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے اسے فخر غیور کہا ہے یہ قرآن کا لفظ ہے۔ یہ دین جو ہے وہ فخر غیور ہے،اس پر جان قربان کر دیتے ہیں۔ تو اس غیرت کو مٹا دیا جائے تاکہ یہ مزاحمت نہ کر سکیں اور دنیا پہ جو ہم اپنا نظام تادیر مسلط کرنا چاہتے ہیں وہ نہ کر سکیں۔
بدر سعید:ہماری آرمی ان لوگوں سے لڑ رہی ہے جنہیں تیار کرنے میں آپ کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس صورتِ حال میں آپ کیا محسوس کرتے ہیں، کون غلط ہے اور کون درست ہے اور اب آپ کی ذاتی ہمدردیاں کس کے ساتھ ہیں؟
حمید گل:نہیں، ہماری افواج ان لوگوں سے نہیں لڑ رہی جو ہم نے تیار کیے۔ ہم نے جو تیار کیے تھے وہ افغانستان کے اندر تھے۔ ہم نے پاکستانیوں کو تو کبھی بھی نہیں تیار کیا نہ پاکستانیوں کو تربیت دی، بالکل نہیں، کسی ایک پاکستانی کو بھی ہم نے تربیت نہیں دی۔ ہم نے تیار کیا افغان مجاہدین کو اور ان کے بچے اب لڑ رہے ہیں، وہ ادھر چلے گئے، شمالی اتحاد کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ وہ طالبان ہیں جو ان کے بچے تھے اور یہ ہم نے تربیت کی ہے کہ ایک سپرپاور کو انہوں نے شکست دی ہے اور آج دوسری سپرپاور کو بھی شکست دینے جارہے ہیں، تو یہ ہمارے لیے قابل فخر ہیں میرے لیے ذاتی طور پر اس لیے قابل فخر ہیں۔ اگر مجھے ان کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تو یہ بڑی اچھی بات ہے۔پہلی سپرپاور غیر ذمہ دارتھی اس نے جارحانہ رویہ اختیار کیا تھا۔ دوسری سپر پاور کا بھی یہی رویہ ہے اور ہم اس کو قبول نہیں کریں گے۔
بدر سعید:کیاافغانستان اور پاکستان کے طالبان میں کوئی فرق ہے؟ اگر ہے تو پھر پاکستان میں حملے کرنے والے کون لوگ ہیں جنہیں طالبان کا نام دیا جاتا ہے؟
حمید گل:بہت فرق ہے، پاکستان کے اندر جو لڑرہے ہیں وہ بدلے کی جنگ لڑ رہے ہیں چونکہ ان پر ڈرون( بم) مارتے ہیں۔ پاکستانی فوج ان کی معاونت کرتی ہے ان کے لیے جاسوسی مہیا کرتی ہے۔ ان کے ساتھ معاہدات ہوئے ہیں نا ہمارے این آر او کے لیے اور پھر جامعہ حفصہ جیسے واقعات ہو جاتے ہیں۔
وہ ہمارے شہری ہیں لیکن جب ہم ان کو مارتے ہیں، ان پر بمباری کرتے ہیں تو پھر وہ بدلہ لینے کے لیے …. پٹھان وغیرہ جیسے کہتے ہیں ”پختون والی“ پختوں والی جو ہے اس میں بدلہ لینا…. یہ غیر اسلامی ہے، اسلامی نہیں ہے، لیکن یہ ان کا رواج ہے۔ نوجوان مشتعل ہو کر بدلہ لیتے ہیں اور پھر ان بدلہ لینے والوں کو امریکن،انڈین اور موساد کے لوگ اکساتے ہیں ان کو سامان مہیا کرتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں۔
بدر سعید:کرنل امام جیسی شخصیت کو طالبان کے ایک گروپ نے اغوا کر لیا ایسا کیوں ہوا؟حالانکہ کرنل امام کو تو طالبان کا حربی استاد کہا جاتا ہے۔
حمید گل: اس کا مطلب وہ طالبان نہیں ہیں نا، میں نے یہ کہا وہ (پاکستان میں حملے کرنے والے) اصل مجاہد نہیں ہیں کیونکہ امام جیسا مجاہد جوہے، دنیا جانتی ہے اس کو اگر کہ اغوا کر سکتے ہیں تو میں بار بار کہہ دیتا ہوں کہ ان لوگوں کو کیوں مجاہد کہتے ہو؟
بدر سعید:آپ پر الزام ہے کہ کرنل امام اور خالد خواجہ کو آخری مشن پر آپ نے بھیجا اس بارے میں کیا کہیں گے؟
حمید گل:نہیں! میں نے نہیں بھیجا۔
بدر سعید:لیکن اس کی تو ویڈیو بھی آچکی ہیں جس میں….؟
حمید گل:(بات کاٹتے ہوئے) وہ صرف خالد خواجہ کی ایک آئی تھی۔ غالباً اس سے کروایا گیا تھا یہ سب۔ امام نے ایسی بات نہیں کی اور اﷲ کرے امام واپس آجائے وہ گواہی دے دے گا اور میں جھوٹ نہیں بول رہا ۔ میں کہہ دیتا اگرانہیں میں نے بھیجا ہوتا تو ۔ ۔ ۔وہ آئی ایس آئی کے پرانے ساتھی تھے۔
بدر سعید:کیا آپ کو نہیں لگتا کہ افغانستان میں ہم امریکہ کی جنگ لڑتے رہے اور امریکہ نے ہمیں استعمال کیا؟
حمید گل:کب؟
بدر سعید:جب روس کے خلاف لڑائی ہوئی تب؟
حمید گل:نہیں! وہ ہماری جنگ تھی۔ روس یہاں آجاتا تو ہمیں ادھیڑ کر رکھ دیتا۔ وہ انڈیا کا دوست تھا۔ ہم نے کیا برا کیا؟ روس کو روک دیا ہے۔ توڑ دیا ہے، ایک اسلامی ملک آزاد ہو گیا ہے۔ چھ اسلامی ریاستیں اور بھی آزاد ہو گئیں۔ یہ پاکستان کا منفی کردار ہے یا مثبت !
یہ سب بکواس ہے، یہ سب ہمارے امریکہ کے ہاتھوں بکے ہوئے دانشوروںکی لاجک ہے۔ اس وقت امریکہ کا نہیں ہمارا اپنا مفاد تھا اور امریکہ تو آیا بھی ڈیڑھ دو سال بعد تھا۔ اس سے پہلے ہم تو روس کو روک چکے تھے۔
Hameed-Gul-Syed-Badarبدر سعید:پہلے آپ امریکہ کے ہمدرد تھے پھر اچانک آپ نے یوٹرن لیا اور امریکہ کے ایک بڑے مخالف کے طور پر سامنے آئے۔ وجہ کیا تھی؟
حمید گل:مجھے تو پاکستان عزیز ہے بابا، پاکستان کی بات کرتا ہوں۔ جب پاکستان کا مفاد تھا اور پاکستان کے مفاد میں تھا امریکہ کا ساتھ دینا تو میں ان کے ساتھ تھا۔ اب پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے کہ امریکہ کا ساتھ دے تو میں اس کے خلاف ہوں میرا امریکہ کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ میرا پاکستان کے ساتھ تعلق ہے۔
بدر سعید:ضیاالحق کے خلاف بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہا گیا کہ ان کے جسدخاکی کو قبر سے نکال کر پھانسی دی جائے یا علامتی پھانسی دی جائے۔آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
حمید گل:کریں جی۔ جوان کا جی چاہتا ہے کریں لیکن ضیاالحق کو کیوں کرتے ہیں؟ پرویز مشرف جو ابھی زندہ ہے اسے پکڑیں نا۔One in hand is better then three in the cage.
وہ جو قبروں میں پڑے ہیں ان کی باری تو بعد میں آئے گی یہ جو دندناتا پھرتا ہے یہودیوں کے پیسے کے اوپر اس کو کیوں نہیں پکڑتے؟ میرا تو شاگرد بھی تھا اور میرا تو سب آرڈی نیٹ بھی تھا لیکن اس نے غلط کام کیے ہیں اس لیے میں اس پر تنقید کرتا ہوں۔
بدر سعید:ضیا الحق کو کیسا انسان سمجھتے ہیں؟
حمید گل:بہت اچھا آدمی تھا میں کیوں کہوں غلط بات؟ اس کی سیاست اپنی جگہ۔ اس کا مارشل لاءلگانا اپنی لیکنAs a human being he is a good person.ercctical muslim.اور بہت اچھا انسان تھاHumbulتھا۔ انسانیت کے لیے بہت اچھے جذبات رکھتا تھا۔ ایسے ہی بات نہیں ہوئی کہ امام حنبل کے بعد دوسری دفعہ طواف کعبہ روک کر اس کی نماز جنازہ پڑھائی گئی اور اس نے حرم شریف کے اندر نماز کی امامت کی ۔ یہ اﷲ کی طرف سے ہے۔ باقی دنیا میں سیاست ہوتی رہتی ہے۔
بدر سعید:کہا جاتا ہے ضیا الحق نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے افغانستان کا مسئلہ چھیڑا؟
حمید گل:نہیں، یہ غلط بات ہے۔ بالکل بھی نہیں۔ میں جانتا ہوں ایسی بات نہیں ہے۔ روس کیوں تشریف لے آیا تھا یہاں پر؟ ضیاالحق نے کہا تھا اسے؟ ضیاالحق نے کب کہا تھا وہ آجائے ؟
بدر سعید:سانحہ بہالپور کا ذمہ دار کون تھا؟
حمید گل:امریکہ!
بدر سعید:کیا آپ مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں؟
حمید گل:سو فیصد ، میں بار بار کہتا ہوں۔
بدر سعید:کیا طالبان ہمارے لیے خطرہ نہیں بنتے جارہے ؟
حمید گل:دیکھیں طالبان سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ میاں یہ تو وقتی طور پر ہے۔ امریکہ یہاں سے جائے گا تو یہ فیصلہ بھی ہو جائے گا ان شاءاﷲ…. صحیح فیصلہ ہوجائے گا ان شا ءاﷲ۔
بدر سعید:آپ آئی ایس آئی کے سربراہ رہے کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس معتبر اور اہم ادارے کا سیاسی استعمال کیا گیا؟ آپ کی نظر میں یہ درست تھا یا غلط؟
حمید گل:ان کے چار ٹر میں ہے…. باقاعدہ آپ کے مشن میں تھا۔ مسٹر بھٹو نے یہ مشن سونپا تھا آئی ایس آئی کو آپ اپنے مشن کی تکمیل کرتے ہیں۔ ہم تو ماتحت ہوتے ہیںنا، مشن کے ماتحت، مسٹر بھٹو نے 1975ءمیں آئی ایس آئی کے مشن میں ڈالا تھا۔ پولیٹیکل سیل بنا کر۔ تو سیاسی کام کرتے ہیں۔
بدر سعید:آئی ایس آئی نے ملکی دفاع میں اہم کردار ادا کیا لیکن دیکھنے میں آرہا ہے کہ لوگ اس سے بدظن ہوتے جارہے ہیں کیا یہ کوئی منظم سازش ہو رہی ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے؟
حمید گل:ہاں! سازش ہے پاکستان کے دفاعی حصار کی پہلی لائن ہی آئی ایس آئی ہے اور باہر کی جو قوتیں ہیں وہ اس کو توڑنا چاہتی ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ وہ ہمارے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں خفیہ طور پر۔ گاہے بگاہے و ہ ہمارے دوست بن کر آتے ہیں اندر سے وہ ہمارے ساتھ جنگ لڑتے ہیں۔
بدر سعید:آپ کن کی بات کررہے ہیں؟ کون آئی ایس آئی کو بدنام کرناچاہتے ہیں؟
حمید گل:ظاہری سی بات ہے امریکہ ملوث ہے اس کے اندر، وکی لیکس بھی آیا ہے اس کے اندر میرا نام بھی لیا ہے۔ جھوٹے ہیں سارے۔ آئی ایس آئی کو ہر جگہ بدنام کر رہے ہیں کہ آئی ایس آئی یہ کر رہی ہے۔ آئی ایس آئی ڈبل گیم کر رہی ہے۔ فرض کیا کہ آئی ایس آئی طالبان کے ساتھ…. افغانستان کے طالبان کے ساتھ رابطوں میں ہے تو کیا اس کو نہیں ہونا چاہئے؟ مستقبل کے حکمران تو وہی ہیں۔ امریکہ تو بعد میں آتا ہے۔ تو کیا یہ غلط ہے؟ یہ ہمارے ملکی مفاد میں نہیں ہے؟ اگر ہے تو آئی آیس آئی کا رول بالکل درست ہے۔ چاہے لوگ جو مرضی کہتے رہیں۔
بدر سعید:افغان جنگ میں وہ جنگ جو جنہیں آپ نے تیار کیا، 1999ءتک جو قوم کے ہیرو ہوا کرتے تھے اب وہ دہشت گرد کیوں؟ کیا یہ درست ہے کہ جب تک اپنا مطلب تھا وہ ہیرو بنے رہے، انہیں مجاہدین کہا جاتا رہا اور جب مطلب پورا ہو گیا تو دہشت گرد بنا دیا؟
حمید گل:وہ (انہیں دہشت گر کہنے والے) تو امریکہ کے تابع ہیںکہ پرویز مشرف جیسے حکمران جو امریکہ کے غلام ہیں۔ ان کی پٹی تلے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے پیسے کے اوپر پرورش پانے والے۔ ان کا رویہ تو ایسا ہی ہو گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب وہاں طالبان کی حکومت تھی تو پورے طریقے سے ہمارے یہاں امن آگیااور طالبان کے بارے میں خود پرویز مشرف نے کہا کہ وہ بہت اچھے لوگ ہیں یہ تو ریکارڈ پر ہے۔ یہ تو بعد میں جب امریکہ نے نظر پھیری تو غلام کی نظر بھی پھر گئی۔
بدر سعید:کیا آپ ذاتی طور پر طالبان کو ہیرو سمجھتے ہیں؟
حمید گل:بہت زبردست ہیرو سمجھتا ہوں اور آئندہ آپ بھی سمجھیں گے کیونکہ جب امریکہ کو بھگا دیں گے اور امریکہ دم دبا کے جارہا ہو گا تو آپ کس کو ہیرو سمجھیں گے؟امریکہ کو یا طالبان کو؟
بدر سعید:آپ نے وکلا تحریک میں فعال کر دار ادا کیا لیکن عام آدمی تواب بھی لاوارث نظر آتا ہے کوئی بڑی تبدیلی کیوں نہیں آ سکی؟
حمید گل:اس لیے کہ نواز شریف اور اعتزازا حسن نے دھوکہ دیا یہاں جو تحریک جارہی تھی 15مارچ 2009ءکو تو اس کو دوسرے دن پہنچنا تھا وہاں پر اور ہم سب انتظار کر رہے تھے لیکن یہاں پر نواز شریف نے رفیق باجوہ کا کردار ادا کیا اور ساتھ ہی اعتزازا حسن نے بھی۔
بدر سعید:وکلا تحریک کے دوران پولیس نے آپ سے بدتمیزی بھی کی یہ کیسے ممکن ہوا کہ فوجی دور حکومت میں فوج کے ایک اہم سابق جنرل کے ساتھ پویس نے ایسا کیا؟
حمید گل:یہ پرویز مشرف نے کیا میرے ساتھ۔ انہوں نے تو نہیں کیا۔ پولیس والے تو بے چارے خود، عاجزانہ طریقے سے کہہ رہے تھے۔ میرے ساتھ تو پرویز مشرف نے کیا۔
بدر سعید:پرویز مشرف سے آپ کا سب سے بڑا اختلاف کیا تھا؟
حمید گل:امریکہ کے پاس بیچ دیا ہمیں۔ پاکستان کو بیچ دیا اپنی غیرت کو بیچ دیا۔ جھوٹا نعرہ لگایا کہ سب سے پہلے پاکستان۔ اصل میں وہ سب سے پہلے اپنی جان، اپنی شان اور اپنے مقاصد کے لیے کام کر رہے تھے اور بات واضح ہو گئی کہ پاکستان اس کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتا میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ پرویز مشرف کے لیے اس کی اپنی جان! بزدل انسان نے جرات ہی نہیں کی امریکہ کے سامنے۔ ٹیلی فون کے اوپر ہی گرا دیا اس نے پوری قوم کو ہمیں شرمسار کر دیا۔ صدیوں کے لیے تو نہیں، ہم ان شاءاﷲ نکل آئیں گے لیکن دہائیوں کے لیے اس نے ہمیں غلام بنا دیا۔
بدر سعید:خونی انقلاب کی بات کی جارہی ہے دوسری طرف آرمی کوپھر سے دعوت دی گئی ایک پارٹی کے دو اہم لیڈر قتل ہو گئے مسلم لیگ الائنس بن رہا ہے۔ کیا کوئی بڑی تبدیلی نظر آرہی ہے؟
حمید گل:ہاں جی، آئے گی! اس نظام کو جانا ہے لیکن تھوڑا وقت لگے گا اور قوم کوبیدار ہونا پڑے گا اور پارٹی سسٹم ناکام ہو چکا ہے۔ پارٹیوں سے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ پاکستانی عوام کو سڑکوں پر نکلنا ہو گا۔ اکٹھے ہو کر نکلنا پڑے گا اور نئی سوچ کے ساتھ۔ نئے ولولے کے ساتھ نکلنا ہو گا۔
بدر سعید:کیا آپ کو لگتا ہے کہ پھر سے مارشل لاءلگ سکتا ہے؟
حمید گل:نہیں! مارشل لاءکا امکان نہیں ہے۔
بدر سعید:آٹا، چینی، بجلی، ایک کے بعد ایک بحران پیدا ہوتا جارہا ہے آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہے اور اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور اس سے کیسے نکلا جا سکتا ہے؟
حمید گل:بنیادی طور پر تو ہمارے حکمرانوں کی نااہلی، خود غرضی ، بے ایمانی ، بدیانتی اور ان کے جھوٹے سیاسی نعرے یہ ساری چیزیں شامل ہیں۔ یہ تو بنیادی چیزیں ہیں۔ قیادت اچھی نہ ہو تو پھر یہی ہوتا ہے ایسے کاموں میں ۔ قوم منقسم ہے گروہوں میں،فرقوں میں، ملکوں میں اور سیاسی پارٹیوں کے اندر۔ علاقائیت اور لسانیت کے اندر منقسم قومیں کبھی اپنی منزل کو نہیں پاسکتیں۔ ہمیں اکٹھا ہونا پڑے گا، اتحاد قائم کرنا پڑے گا۔
بدرسعید:گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کبھی نعوذ باﷲ قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے اعلانات؟ یہ سب کیا ہے اور اس کے پیچھے ان کا کیا مقصد ہے؟
حمید گل: مقصد یہ ہے کہ آپ کی قوت مزاحمت ختم ہوجائے۔ آپ کو نفسیاتی طور پر اتنا ذلیل کر دیا جائے کہ آپ اٹھنے کے قابل نہ رہیں۔ آپ کے اندر حمیت کا جذبہ کچل دیا جائے ۔
علامہ اقبال نے کہا ہے ناکہ
مگریہ راز کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے
جب حمیت چلی جاتی ہے تو باقی سب چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔
بدر سعید:ڈرون حملوں کے حوالے سے آپ کے نظریات کیا ہیں؟
حمید گل:وہی نظریات ہیں جو پارلیمنٹ کے ہیں۔ پارلیمنٹ نے متفقہ قرار داد منظور کی تھی، عمل درآمد کیوں نہیں کیا؟
اب میرے نظریات یہ ہیں کہ عوام کو خود ان کی سپلائی کے راستے کاٹ دینے چاہئیں دھرنا دے کر۔ پُر امن دھرنا! بیٹھ جائیں سپلائی کے راستے پر کہ نہیں جانے دیں گے افغانستان میں۔ دیکھئے سات دن میں عافیہ صدیقی بھی واپس آجائے گی اور ڈرون حملے بھی بند ہو جائیں گے۔ میرا نام بدل دیں اگر نہ ہوں۔
بدر سعید:کیا بلیک واٹر پاکستان میں کام کر رہی ہے؟
حمید گل:ہے بالکل ہے! لیکن دی ورلڈوائڈ کے نام سے۔ ان کے سکیورٹی کانٹریکٹ ہیں اور انہوں نے تمام کانٹریکٹ پر پاکستانیوں کو لگایا ہوا ہے۔ بے نظیر کو بھی انہوں نے ہی مارا ہے۔
بدر سعید:بلیک واٹر کو پاکستان میں اتارنے کا مقصد؟
حمید گل:پاکستان کو ڈی اسٹیبلائٹ کرنا۔ حتیٰ کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہو جائے، معیشت بدحال ہو جائے قوم مایوس ہو جائے بالآخر کہیں کہ یہ نیوکلیئر کی وجہ سے ہے۔ پاکستان اپنا نیوکلیئر پروگرام ہمارے حوالے کر دے اور یہ ایک سوارب ڈالر لے لو کیونکہ تم بہت مقروض ہو۔ تمہارا برا حال ہو گیا ہے یہ ایک سو ارب ڈالر لے کر اپنے بم ہمارے حوالے کر دو۔
بدر سعید:کچھ عرصہ قبل آپ کے بیٹے کو نامعلوم افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا؟
حمید گل: (بات کاٹ کر ہنستے ہوئے) یہ آپ کے سامنے بیٹھا ہوا ہے (بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)اب بالکل ٹھیک ہے۔
بدر سعید:وہ کون لوگ تھے۔
حمید گل:لگتا ایسا ہے میں نام تو نہیں لینا چاہتا لیکن حکومت کے ساتھ ان کے راوبط تھے، تو ہو سکتا ہے کوئی ایسی بات ہو لیکن میں اس کے اوپر تنقید تو نہیں کروں گا پولیس البتہ ا سے کو ر اپ کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن پاکستانیت ہماری مشکوک ہوتی اگر ہمیں تشدد کا نشانہ نہ بنایا جاتا(ہنستے ہوئے) اگر کسی کو کھلا چھوڑ دیا جاتا تو اس کا مطلب ہے اس کی پاکستانیت مشکوک ہے۔ جو سچا پاکستانی ہے اسے تو سزا بھگتنی پڑے گی۔
بدر سعید:کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے پاس درست قیادت ہے؟
حمید گل:فی الحال تو ہمارے پاس نہیں ہے لیکن اجتماعی قیادت کاتصور میں نے پیش کیا ہے جب کوئی قیادت ، قائد نہ ہو تو پھر کیا ہم پاکستان کو ڈوبنے دیں ایسے ہی؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں کوشش کر رہا ہوں کہ لوگوں کو جمع کریں اور ایک گلدستہ قیادت جس کا نام میں نے دیا ہے۔ یعنی ایک سلیکٹواجتماعی قیادت لائیں اور اس کا کام اقتدار کی کشمکش نہ ہو بلکہ اس کا کام یہ ہو کہ ملک کے لیے نشاندہی کریں گے کہ آگے ہماری منزل کیا ہو گی کس طریقے سے ان حالات سے ہمیں نکلنا ہے اور پھر بالآخر ایک قائد! اگر ضرورت پڑتی ہے تو ایک قائد بھی ان کو دے دیں گے کہ یہ قائدہے جسے آپ کے سامنے ہم لے کر آرہے ہیں۔
بدر سعید:عوام کے ہاتھ میں کیا ہے؟
حمید گل:عوام تو…. طاقتیں دنیا کے اندر دوہی ہیں ایک ا ﷲ طاقت اور ایک عوام کی طاقت، بیچ میں اسٹبلشمنٹ کی طاقت آجاتی ہے۔ اسٹبلشمنٹ کی طاقت جو ہے وہ عوام کی طاقت کے راستے میں اس وقت حائل ہو چکی ہے اور یہ جو پورے کا پورا نظام ہے۔ یہ بجائے عوام کی مدد کرنے کے ان پر ظلم کر رہے ہیں اس لیے یہ نظام حائل ہے عوام کی تو بڑی طاقت ہے۔ اس کی طاقت سے کون انکار کر سکتا ہے؟
بدر سعید:عوام کے نام کوئی پیغام؟
حمید گل:متحد ہو جاﺅ۔ امید قائم کرو، اﷲ کا نام لو، اکٹھے سڑکوں پر آﺅ اور اپنے پاﺅں کے ساتھ ووٹنگ کرو۔
Come on the street and vote
with the feet.
k k k

Related Articles

Back to top button