معلوماتمنظر نامہ

Nostradamus |نوسٹر ڈومس

مستقبل بین

تحریر: مکی

اچانک اور بغیر کسی پیشگی توقع کے امریکہ کو اس کے دل میں ایک ضربِ کاری لگائی گئی، وہ بھی اس کے اپنے ہی جہازوں سے.. جو ڈر اور خوف کا قہر بن کر اس کی سب سے بڑی تجارتی اور عسکری علامتوں پر ٹوٹ پڑاNostradamus..

نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور واشنگٹن میں وزارتِ دفاع پینٹاگن..

اور پھر ساری دنیا کا میڈیا واقعہ کی کوریج کرنے لگا اور اس کے اثرات پر بحث ہونے لگی..

اسی دوران دنیا کے شمال سے لے کر جنوب اور مشرق سے لے کر مغرب تک ایک فرانسیسی طبیب اور فلکیات دان بھی گفتگو کا موضوع بنا ہوا تھا جو کوئی پانچ صدیاں پہلے مرچکا تھا..!!

اور یہ تھا نوسٹر ڈومس Nostradamus

اس عالمی دلچسبی کی وجہ یہ تھی کہ نوسٹر ڈومس اس حادثہ کی پیشین گوئی اپنی ایک مشہور ومعروف کتاب میں پہلے ہی کرچکا تھا..!!

اور وہ بھی پانچ صدیاں پہلے..!!

اور جیسا کہ ہر دفعہ ہوتا ہے دنیا دو فرقوں میں تقسیم ہوگئی.. پہلا فرقہ یہودی نسل کے اس فرانسیسی طبیب اور فلکیات دان کی پیشین گوئیوں سے حیرت زدہ اور مرعوب تھا، جبکہ دوسرے فرقے نے اسے یکسر مسترد کردیا تھا کہ نجومی کبھی سچ نہیں بولتے..

جب ہم ‘ہر دفعہ’ کا جملہ استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نوسٹر ڈومس کی کتاب پیشین گوئیاں Les Propheties کی پیشین گوئیوں پر چھڑنے والی یہ بحث کوئی پہلی دفعہ نہیں تھی.. اس کی یہ کتاب چار سو سال میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ہے.. حیرت انگیز طور پر اس دوران اس کتاب کے ایڈیشن ایک سال کے لیے بھی کبھی ختم نہیں ہوئے، یہ اعزاز کسی انسان کی لکھی ہوئی کسی کتاب کو پوری انسانی تاریخ میں کبھی حاصل نہیں ہوا..!!

شاہ ہنری کی موت کے بعد جس کی نوسٹر ڈومس نے پہلے ہی بڑی تفصیلی پیشین گوئی کردی تھی، ملکہ کیٹرین ڈی میچی کو اس پر غصہ آگیا تھا گویا شاہ اس کی پیشین گوئی کی وجہ سے مرا ہو..!! چنانچہ اپنی جان بچاتے ہوئے نوسٹر ڈومس فرار ہوگیا.. خاص طور سے جبکہ وہ زمانہ تفتیشی عدالتوں کے لیے بدنام تھا جن کے چنگل میں نوسٹر ڈومس جیسے آدمی کو جادو ٹونے کے الزام میں بڑی آسانی سے پھنسایا جاسکتا تھا اور پھر زندہ جلائے جانے کی سزا اس کا مقدر ٹھہرتی..

دوسری عالمی جنگ کے دوران نوسٹر ڈومس کی کتاب کا ایک نسخہ نازی وزیرِ اطلاعات جوبلز کی بیوی کے ہاتھ لگ گیا.. وہ اسے پڑھ کر اس قدر حیرت اور خوف کی ملی جلی کیفیت کا شکار ہوئی کہ اس نے اپنی دریافت بتانے کے لیے آدھی رات کو اپنے شوہر کو نیند سے جگا دیا..

شروع میں جوبلز معاملے کو سمجھنے اور اسے ہضم کرنے سے قاصر رہا مگر پھر اس کی بیوی نے ایک رباعی اس کے سامنے رکھی..

اگرچہ جوبلز کی بیوی کے پاس جو کتاب تھی وہ 1922ء کا ایڈیشن تھا مگر اس میں ایک رباعی انتہائی درجے تک حیران کن تھی:

بھوک کے ڈسے جانور دریا پار کرجائیں گے
میدانِ جنگ کا زیادہ تر حصہ ہسلر کے خلاف ہوگا
قائد کو لوہے کے پنجرے میں گھسیٹا جائے گا
جب جرمنی کا بیٹا ہر قانون نظر انداز کردے گا

اور جوبلز اپنے بستر پر سے اچھل پڑا.. وہ رباعی کے الفاظ کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا.. اگرچہ رباعی نے ‘ہٹلر’ نام کو ‘ہسلر’ لکھا تھا مگر یہ کچھ زیادہ ہی واضح تھا.. یقیناً اس سے ہٹلر ہی مقصود تھا..

سورج نکلنے سے پہلے ہی جوبلز نے اپنے کپڑے پہنے اور اپنے دفتر کی طرف دوڑ پڑا.. جوبلز نے نوسٹر ڈومس کی کتاب کو ایک نئی قسم کی اشتہاری جنگ میں استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا جو اس سے پہلے کسی میڈیا مشینری نے کبھی استعمال نہیں کی تھی..

فوجی قیادت کو یہ تجویز بہت پسند آئی.. چنانچہ جوبلز نے نوسٹر ڈومس کی کتاب سے وہ تمام رباعیاں جن میں جرمنی کی عظمت یا تعریف بیان کی گئی تھی الگ کیں اور ان کا ترجمہ انگریزی اور ڈچ زبان میں کرکے چھپوایا اور پھر جہازوں کے ذریعے انہیں تمام یورپی ممالک پر گرایا گیا جو پہلے ہی نازی قائد اور اس کی فوج سے خوفزدہ تھے جس نے آسٹریا پر پہلی عالمی جنگ کے نقصانات کا بدلہ لینے کے لیے چڑھائی کردی تھی اور یورپ پر چڑھائی کرنے کے لیے کمربستہ تھی..

Nostradamusشروع میں برطانوی انٹیلی جینس نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی بلکہ اس کا مذاق اڑایا مگر جلد ہی انہیں اس بات کا اندازہ ہوا کہ اس کا بہت خطرناک اثر نہ صرف برطانوی معاشرے بلکہ پورے یورپ پر پڑ رہا تھا..

چنانچہ اس بابت کوئی فیصلہ لینے کی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی کیونکہ لوگ ہر زمانے اور ہر بحران میں نجومیت، فلک اور مستقبل کی پیشین گوئیوں پر ہمیشہ بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں..

جنگوں اور بحرانوں میں نفس کمزور ہوجاتی ہے، اور جیسا کہ جاسوسی کہانیاں لکھنے والی مشہور ومعروف مصنفہ اجاٹا کرسٹی کہتی ہیں: ‘جب نفس کمزور ہوجاتی ہے تب وہ خرافات کے آگے گھٹنے ٹیک دیتی ہے’..

دفاعی کاروائی کرتے ہوئے برطانوی انٹیلی جنس نے کتاب ‘پیشین گوئیاں’ سے وہ تمام پیشین گوئیاں جو جرمنی کی ہار اور ہٹلر کی خودکشی کے متعلق تھیں جمع کرکے جہازوں کے ذریعے جرمن عوام پر پھینکیں، نہ صرف یہ بلکہ ان کا دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کیا گیا تاکہ یورپ کی دیگر اقوام کا مورال بلند ہوسکے..

اور اس طرح اپنی موت کے چار صدیوں بعد نوسٹر ڈومس دوسری عالمی جنگ کا حصہ بن گیا..!!

چنانچہ اب سوال یہ ہے کہ یہ نوسٹر ڈومس آخر ہے کون؟!

اور کس طرح اس کی کتاب کئی صدیاں گزرنے کے با وجود آج کے اس جدید اور ترقی یافتہ دور میں بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے.. وہ ترقی جس کی خود اس نے پیشین گوئی کردی تھی:

وبائیں ختم کردی جائیں گی اور دنیا ایک چھوٹا سا گاؤں بن جائے گی
امن سے زمین لمبے عرصہ تک آرام کرے گی
لوگ آرام سے سفر کریں گے، ہوا، زمین اور سمندر میں
اور پھر جنگیں دوبارہ بھڑک اٹھیں گی

آج کے دور میں شاید ہمیں یہ باتیں پڑھ کر کوئی خاص حیرت نہ ہو، لیکن جب یہ بات سولہویں صدی کے محدود وسائل میں رہنے والا ایک شخص کر رہا ہو تو بات یقیناً حیرت بلکہ انتہائی حیرت کی ہے.. ویکسینوں کے ذریعے وباؤں کا خاتمہ.. اپنے ہاں پولیو کی مہم کو ہی دیکھ لیجیے.. کیا آج ٹیکنالوجی کی اس ترقی کے دور میں ہم خود نہیں کہتے کہ دنیا ایک گاؤں بن گئی ہے.. کیا سولہویں صدی میں کوئی یہ سوچ سکتا تھا کہ لوگ ہوا میں سفر کریں گے..!؟

یہ یقیناً حیرت انگیز ہے چاہے آپ اسے نجومیانہ پیشین گوئیوں کی بجائے ایک دور اندیش شخص کی علمی پیشین گوئیاں ہی کیوں نہ سمجھیں..

مچل ڈی نوسٹر ڈومس کا تعلق ایک قدیم یورپی یہودی خاندان سے تھا، اس کا دادا بییر ڈی نوسٹر ڈومس ایک یہودی تاجر تھا جو علم وتحقیق سے شغف رکھتا تھا، اس کے بیٹوں میں جیک نوسٹر ڈومس جو مچل کا باپ تھا نے ایک امیر عیسائی خاتون سے دوسری شادی کرکے عیسائیت قبول کر لی تھی اس وقت مچل کی عمر نو سال تھی..

مچل چودہ دسمبر 1503ء کو پیدا ہوا، وہ اپنے چار بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور سب سے زیادہ ذہین بھی.

اس کے بچپن میں ہی اس کے دادا نے اس کی صلاحیتیں بھانپ لی تھیں چنانچہ اس نے اسے گود لے لیا اور اسے لاطینی، عبرانی اور یونانی زبانوں کے ساتھ ساتھ ریاضی، فلک اور علمِ تنجیم سکھایا..

اور چونکہ وہ زمانہ تفتیشی عدالتوں کا تھا چنانچہ اس ڈر سے کہ کہیں مچل ایسی ہی کسی ظالمانہ تہمت کے ذریعے تفتیشی عدالتوں کا شکار نہ ہوجائے اس کے باپ جیک نے اسے اس کے دادا سے لے کر طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مونبلے روانہ کردیا، اس وقت اس کی عمر انیس سال تھی..

اسی زمانے میں اچانک ہی اس کی یہ صلاحیت جاگ اٹھی.. جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ جارہا تھا تو اس نے راستے میں ایک کم عمر راہب کو دیکھا جو خنزیر چرا رہا تھا.. وہ روتے ہوئے اس کے پاس گیا جیسے کوئی لا ارادی قوت اسے ایسا کرنے پر مجبور کر رہی ہو اور اس چھوٹے راہب کے سامنے اپنا سر جھکاتے ہوئے اسے صاحبِ قداست کے لقب سے مخاطب ہوا..

اس کے ساتھی اس کی اس حرکت سے بہت حیران ہوئے، اس کے ایک دوست نے اس سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: کیونکہ مجھے ایسا ہی کرنا چاہیے تھا..

حیرت کی بات یہ ہے کہ نوسٹر ڈومس کی وفات کے بعد وہی کم سن راہب 1585ء میں نیا پوپ بنا..!!

خیر مچل ڈی نوسٹر ڈومس نے طب کی تعلیم اچھے نمبروں سے پاس کی اور گھر لوٹ آیا، گھر والے اپنے بیٹے کی اس کامیابی سے بہت خوش ہوئے، اس کا اندازِ علاج اس کے ہم پیشاؤں کے لیے حیرت کا باعث تھا، بلکہ کچھ تو اس کی مخالفت بھی کرنے لگے.. اور پھر ایک افتاد آن پڑی..

طاعون..

تب نوسٹر ڈومس نے سب کو بحرِ حیرت میں غوطہ زن کردیا..

* * *

مئی 1791ء فرانسیسی انقلاب کا عروج، جب بڑے بڑے سر کاٹ دیے گئے تھے، اور ظالم حکمران اپنے طبعی انجام کو پہنچا دیے گئے تھے..

تین چرواہوں کے دماغ پر شراب کا نشہ سر چڑھ کر بول رہا تھا اور ان کی عقل پر حاوی ہوگیا تھا، مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ بدقسمتی انہیں دعوت دے رہی تھی، کیونکہ انہوں نے مشہور طبیب اور فلکیات دان مچل ڈی نوسٹر دومس کی قبر کھودنے کا فیصلہ کرلیا تھا..!!

یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں تھا.. قبر ایک پرانے چرچ کے احاطے میں تھی جس میں لکڑی کا ایک تابوت دھرا تھا جو دو سو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے کل سڑ چکا تھا..

نشے میں ان تینوں نے قبر کھودنی شروع کی.. جلد ہی گلا سڑا تابوت ان کے سامنے تھا.. وہ جیت کی خوشی سے چلائے اور تابوت کھولنے لگے.. اور..

اور اچانک ان کی آواز ان کے حلق میں ہی اٹک گئی اور آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں.. ہڈیوں کے ڈھانچے کی وجہ سے نہیں بلکہ ڈھانچے کے گلے میں لٹکی ایک تختی کی وجہ سے..

تختی پر اس دن کی تاریخ درج تھی..

سترہ مئی 1791ء..

تختی کی پشت پر صاحبِ قبر نے حیران کن تفصیل سے اپنی قبر کھودنے کی پیشین گوئی ایک رباعی کی شکل میں درج کی تھی:

انقلاب کے دو سال بعد اور پانچویں مہینے میں
تین نشئی پرانی قبر کھودیں گے
دو اسی رات مر جائیں گے
اور تیسرا آخر تک پاگل رہے گا

یہ رباعی پڑھ کر تینوں کا نشہ کافور ہوگیا.. وہ تینوں ڈر کے مارے پیچھے ہٹے اور وہاں سے بھاگنا چاہا مگر انقلابی پولیس نے انہیں بھاگتے ہوئے دیکھ لیا اور ان پر گولی چلا دی جس کے نتیجے میں ان میں سے دو ہلاک ہوگئے اور تیسرا شدتِ خوف سے پاگل ہوگیا..

اس واقعے کے بعد جو اتنے زیادہ تاریخی مصادر میں مذکور نہیں ہے نوسٹر ڈومس کو یہودی معجزہ گردانتے ہوئے اس پر بنائی گئی فلم کے مناظر شروع ہوتے ہیں حالانکہ وہ اور اس کا خاندان عیسائیت قبول کر چکے تھے.. اور وہ عیسائیت پر ہی مرا تھا.. اگرچہ فلم 1984ء میں بنائی گئی تھی جسے عالمی اداکار اورسن ویلز نے پیش کیا تھا، تاہم فلم کے آخر میں دو پیشین گوئیوں کو اہم اور مستقبلیات میں سے قرار دیا گیاNostradamus..

خلیج کی جنگ اور سب کا عراق کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا جو اپنے پڑوسیوں پر راکٹوں سے حملہ کرتا ہے..

اور 2001ء میں نیویارک حملے..

شاید اس پرانی فلم میں یہی سب سے حیران کن بات ہے..

اور نوسٹر ڈومس کی پیشین گوئیوں میں بھی..

نوسٹر ڈومس کی زندگی پر نظر ڈالنے پر پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف ایک فلکیاتی عجوبہ ہی نہ تھا بلکہ ایک طبی کمال بھی تھا..

اچھے نمبروں سے طب کی تعلیم پاس کرنے کے بعد جب اس نے اپنی پریکٹس شروع کی تو یورپ میں ایک افتاد ٹوٹی..

طاعون کی وبا..

ہزاروں لوگ طاعون کی نذر ہوگئے.. موت کی بو دیہاتوں، شہروں اور ملکوں تک پھیل گئی تھی، ساتھ ہی علاج کے تمام طریقے ناکارہ ہوگئے تھے..

سوائے نوسٹر ڈومس کے..

اگرچہ وہ سولہویں صدی کے ابتدائے دور کا ایک طبیب تھا جس کے زمانے کے علوم بہت ہی محدود تھے، اتنے کہ انہیں جراثیم کے بارے میں پتہ ہی نہ تھا جو امراض کا سبب بنتے ہیں.. مگر اس نے مرض سے نمٹنے کے لیے انتہائی عقلمندی کا مظاہر کیا جیسے اپنی کسی پیشین گوئی پر عمل کر رہا ہو..

وہ مریض کو ایک ہوا دار کمرے میں رکھتا تھا جس کی کھڑکیاں وہ کھلی رکھتا تھا ساتھ ہی کمرے میں آگ بھی جلا دیتا تھا اور اس بات کا خیال رکھتا تھا کہ مریض کے استعمال میں آنے والی تمام اشیاء ابالی جائیں حتی کہ اس کے کپڑے بھی جنہیں وہ روزانہ تبدیل کرواتا تھا.. اس کے علاوہ اس نے ایک ایسا طریقہ استعمال کیا جسے آج کے طب نے کچھ عرصہ پہلے ہی دریافت کیا ہے..

گرم پانی..

وہ مریض کو دن میں پانچ مرتبہ گرم پانی پلاتا تھا..

چنانچہ اس کے اکثر مریض شفا یاب ہوئے..

سوائے اس کی بیوی اور اس کے دو بیٹوں کے..

مچل ڈی نوسٹر ڈومس کی نفسیات اور آگے کی زندگی پر اس کا بہت برا اثر ہوا، اس کی بیوی کے خاندان نے اس سے اس کی بیوی کی جائداد کی واپسی کا مطالبہ کردیا، جب وہ ناکام ہوئے تو انہوں نے اس پر جادوگری کا الزام لگانا شروع کردیا.. اور اس کے طاعون کے طریقہ علاج کو طب کی بجائے جادو کہا جانے لگا..

چنانچہ تفتیشی عدالتوں کے خوف سے وہ اپنی ساری شہرت پیچھے چھوڑتے ہوئے بھاگ نکلا..

اس کا راہِ فرار اختیار کرنا اس کے لیے مفید ثابت ہوا.. اس کے دور کے بڑے فلاسفروں سے اس کے تعلقات استوار ہوئے جس سے اس کی عقل و شہرت میں مزید اضافہ ہوا.. پھر اس نے ایک دولتمند بیوہ سے شادی کرلی اور اسی کے ساتھ رہنے لگا.. نئے گھر کی دوسری منزل کے ایک کمرے کو اس نے اپنا دفتر بنا لیا جس میں اس نے اپنی زندگی کی زیادہ تر شامیں گزاریں اور اپنی کتاب پشین گوئیاں کی بنیاد رکھی..

کتاب پیشین گوئیاں کی پیشین گوئیاں رباعیوں کی شکل میں ہیں اور ہر صدی کے لیے سو رباعیاں مخصوص ہیں، تاہم واقعات تاریخی اعتبار سے مرتب نہیں ہیں اور نا ہی کسی کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے، وہ اس کا خطرہ مول بھی نہیں لے سکتا تھا، وہ زمانہ ہی ایسا تھا کہ اس سے زیادہ شہرت و اہمیت رکھنے والے لوگ اس کی پیشین گوئیوں سے زیادہ فضول باتوں کے سبب تختۂ دار پر لٹکا دیے گئے تھے تو پھر وہ کیا چیز تھا..!!

رباعیات اس انداز سے لکھی گئیں ہیں کہ انہیں آسانی سے سمجھا ہی نہیں جاسکتا، یہ ایک شاعرانہ رباعیات ہیں جن میں لاطینی، اطالوی، اور یونانی زبانوں کی کافی آمیزش ہے، وہ بھی پہیلیوں کی طرح، مثلاً ملکہ کیٹرین تک جب اس کی شہرت پہنچی تو اس نے اسے بلوا بھیجا اور اپنے چار بیٹوں کے مستقبل کے بارے میں استفسار کیا، نوسٹر ڈومس کافی دیر تک خاموشی اختیار کیے رہا اور آخر کار ملکہ کو بتایا کہ اسے اس کی نسل میں چار بادشاہ نظر آرہے ہیں..

نوسٹر ڈومس نے ملکہ کو یہ نہیں بتایا کہ اس کے چار بیٹوں میں سے ایک مرجائے گا، ساتھ ہی اس نے جھوٹ بھی نہیں کہا کیونکہ ملکہ کا ایک بیٹا پہلے پولینڈ اور پھر فرانس کا بادشاہ ہوا..

نوسٹر ڈومس نے اپنی کتاب 1566ء میں مکمل کی اور یہی اس کی وفات کا سال بھی ہے، مگر اس کی کتاب 1568ء میں ہی شائع ہوسکی..

کسی وجہ سے نوسٹر ڈومس کی یاداشتوں میں ساتویں صدی کی عدم تکمیل کی کوئی وجہ نہیں ملتی، اس ساتویں صدی میں صرف بیالیس رباعیاں ہیں جبکہ باقی صدیوں میں سو سو رباعیاں شامل ہیں..

نوسٹر ڈومس کی کتاب کا مطالعہ کرنے والا پیچیدگی اور حیرانگی کی سی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے، اس کی وجہ ایسی پیشین گوئیاں ہیں جن کو سمجھنا کافی مشکل ہے یا جن کا تعلق مستقبل کے ایسے واقعات سے ہے جو ابھی وقوع پذیر نہیں ہوئے، جبکہ ایسے واقعات کی پیشین گوئیاں پڑھ کر مزید حیرت ہوتی ہے جو وقوع پذیر ہوچکے ہیں..

بعض اوقات کسی پیشین گوئی کے زمانے کا اندازہ لگانا ممکن ہوتا جب نوسٹر ڈومس اسے کسی خاص فلکی حالت سے مربوط کردیتا ہے جو کسی خاص حالت میں ہی وقوع پذیر ہوسکتی ہے، اس ضمن میں فرانسیسی انقلاب کے متعلق اس کی پیشین گوئی بہت مشہور ہے جس کے وقوع ہونے کا زمانہ اٹھاروین صدی کے آخری بارہ سال بتائے گئے ہیں:

غلام ہوئے عام لوگوں سے خوشی مطالبے اور گانے
جبکہ امیر اور شاہ جیلوں میں قید کردیے جائیں گے
ان کا مستقبل میں بغیر سر کے بے وقوف استقبال کریں گے
انہیں مقدس عبادت گزار سمجھتے ہوئے

جو زمانہ اس نے بتایا (1789ء) اسی میں فرانسیسی انقلاب ہوا، سب نے پرانے حکام کو عدالت میں لانے کا مطالبہ کیا اور شاہوں اور شہزادوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، پھر انقلابیوں نے ان کے سر قلم کردیے جو خود بھی بعد میں اسی انجام سے دوچار ہوئے..

حیران کن پیشین گوئی ہے..

لیکن جو کینیڈی کے قتل سے متعلق ہے اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے..

* * *

اپنی کتاب کی پہلی صدی کے شروع میں نوسٹر ڈومس بتاتا ہے کہ اس نے اپنی یہ پیشین گوئیاں کیونکر حاصل کیں، چنانچہ اپنی پہلی رباعی میں کہتا ہے:

خفیہ پڑھائی میں رات کو تنہا بیٹھتا ہوں
یہ تین پائیوں والی پیتل کی میز پر دھرے ہیں
دل کے خلا سے ایک شعلہ اٹھتا ہے
اور وہ دیکھتا ہے جس پر یقین کرنا چاہیے کیونکہ یہ باطل ہے

اوپر کی رباعی میں ایک واضح تضاد ہے.. وہ بتاتا ہے کہ کس طرح وہ تنہا ایک تین پائیوں والی میز کے ساتھ بیٹھتا ہے اور پھر جو کچھ بھی دیکھنا ہوتا ہے دیکھ لیتا ہے اور پھر آخر میں خود پر سے مستقبل کے علم سے انکاری ہوجاتا ہے اور اسے ایک ایسا باطل قرار دیتا ہے جس پر یقین نہیں کیا جاسکتا..

یقیناً یہ اپنے زمانے کے لحاظ سے جادو ٹونہ کے الزام سے بچنے کا ایک اچھا طریقہ ہے کیونکہ اگر اسے اپنے کہے پر یقین ہوتا تو کتاب ہی نہ لکھتا..!!

نوسٹر ڈومس کی باتیں قدیم صوفیوں کے انداز لیے ہوئی ہیں.. خلوت.. ہلکی روشنی.. تفکر اور پھر مشاہدہ..!!

مگر کوئی نہیں جانتا کہ یہ مشاہدہ کس طرح ہوتا ہے، بعض محققین کہتے ہیں کہ یہ اسے با آواز و تصویر آتی تھیں جسے وہ خود سمجھنے اور سمجھانے سے قاصر تھا چنانچہ وہ انہیں جس طرح دیکھتا اور سنتا تھا لکھ دیتا تھا..

اس کے لیے وہ ایک ایسی رباعی کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں جس میں اس نے ایک فضائی لڑائی کا ذکر کیا ہے، وہ بھی ایک ایسے زمانے میں جس میں حقیقی جہاز تو دور کی بات ہے کاغذ کے جہازوں کا تصور تک نہیں تھا:

وہ سمجھیں گے کہ انہوں نے رات کے دل میں سورج دیکھ لیا ہے
جب وہ خنزیر جیسی شکل کے آدمی کو دیکھیں گے
شور، چیخیں اور آسمان میں ہوتی لڑائیاں
پھر آپ خنزیری مخلوق کو بولتا سنیں گے

اس سے پہلے کہ آپ خنزیر کے ذکر سے متنفر ہوکر اسے مسترد کرنے کا خیال اپنے ذہن میں لائیں ذرا اپنا ہیلمٹ پہنے کسی پائلٹ کی تصویر دیکھ لیجیے اور پھر بتائیے کہ سولہویں صدی کا ایک آدمی اسے دیکھ کر کیا کہے گا..!!

اور پھر آسمان پر ہوتی لڑائی والی بات بھی غور طلب ہے، اسے جنگی جہازوں اور راکٹوں اور میزائلوں کی آواز اور پھر وائرلیس کے ذریعے پائلٹوں کے آپس میں رابطے کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے..

ایسی کسی فضائی جنگ کی فلم بنا کر کسی پرانی صدی کے شخص کو دکھا دی جائے تو وہ اسے کیسے بیان کرے گا..!!

یہ نا ممکن ہے کہ نوسٹر ڈومس کے زمانے کا کوئی شخص آج کے زمانے کے ایسے کسی منظر کو بیان کر سکے.. مگر شاید نوسٹر ڈومس نے یہ کر دکھایا.. تاہم اس کی تشریح یا یا اندازِ بیان کے لیے اس نے اپنے زمانے کے حساب سے ہی الفاظ استعمال کیے.. یعنی ایک انتہائی سادہ اندازِ بیان..

یہی اندازِ بیان بیسویں صدی میں کینیڈی برادرز کے قتل کو بیان کرتے وقت اختیار کیا گیا ہے جب جان کینیڈی کو ڈیلاس میں دن دہاڑے سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا، پھر پانچ سال بعد اس کے بھائی رابرٹ کو ابتدائی ریاستی الیکشن کی جیت کی خوشی مناتے ہوئے قتل کردیا گیا، یہ دونوں حادثے ساری دنیا پر اثر انداز ہوئے خاص طور سے انگلینڈ، فرانس اور اٹلی اس سے متاثر ہوئے..

اس معاملے پر نوسٹر ڈومس کی ایک رباعی کہتی ہے:

عظیم آدمی کو دن میں بجلی مار دیتی ہے
غلیظ حرکت جس کی کرنے والے نے پیشین گوئی کی
اس کے بعد دوسرا بھی رات کو مارا جائے گا
ریمس اور لندن میں لڑائی اور ٹوسکینیا میں وبا

کافی حد تک واضح اور محض اتفاق سے بہت آگے کی بات معلوم ہوتی ہے، بالکل اس پیشین گوئی کی طرح جس میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے کی روداد ہے جس کا زمانہ بھی بیسیویں صدی کا پہلا نصف ہے:

بندرگاہ کے قریب دو بڑے شہروں میں
دو آفتیں ہوتی ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی
بھوک، طاعون، اور جنگ کی تلوار سے باہر گرائے جاتے لوگ
رونا اور مدد کے لیے عظیم خدا سے التجا

دونوں شہر سمندر پر واقع ہیں اور دونوں پر ہی 1945ء میں ایٹم بم گرایا گیا تھا اور پھر واقعی وہ قیامت ٹوٹی جس کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی..

ایک بار پھر حیرت انگیز پیشین گوئی..

جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں، نوسٹر ڈومس کی پیشین گوئیوں میں زمانے کاتعین اتنا درست نہیں، ان میں دس سال آگے یا پیچھے کا فرق بہرحال موجود ہے، اس کے با وجود یہ حیران کن ہیں.. خاص طور سے جب یہ ایسے واقعات کی نشاندہی کرتی ہیں جن کی نا تو سیاسی اور نا ہی منطقی طور پر ہی پیشین گوئی کی جاسکتی ہے.. چاہے زمانہ بھی آس پاس کا ہی کیوں نہ ہو.. انقلابِ ایران اور فرانس میں جلا وطن خمینی کے اس انقلاب پر اثرات کی پیشین گوئی بھی ایک ایسی ہی پیشین گوئی ہے جس کے ممکن ہونے میں اس وقت کی پوری دنیا کی سیاسی و عسکری قیادتوں کو یقین نہیں تھا جب تک کہ وہ ہو نہیں گیا..

اس کے با وجود نوسٹر ڈومس نے پانچ سو سال پہلے اسے اپنی کتاب میں کچھ یوں رقم کیا ہے:

بارش جنگ اور بھوک ملکِ فارس میں نہیں رکے گی
ایک عظیم تر ایمان بادشاہ کو دھوکہ دے دے گا
فرانس میں تیار ہوتے کام وہیں ختم ہوں گے
ایک شخص کے لیے خفیہ نشانی تاکہ وہ رحم دلی سے پیش آئے

یہ واقعے کی طرف واضح اشارہ ہے، اگرچہ اس میں پیشین گوئیاں کی دیگر تمام رباعیوں کی طرح ابہام موجود ہے جو ہمیشہ رباعی کے آخری حصے میں وارد ہوتا ہے..Nostradamus

نوسٹر ڈومس کی رباعیوں پر تحقیق کرنے والے کسی بھی تحقیق کار کے لیے صرف رباعیوں کا ابہام ہی اصل مسئلہ نہیں ہے، اس سے بڑا مسئلہ تحقیق کے لیے قابلِ اعتبار کتاب کا دستیاب ہونا بھی ہے جو نقلی یا تبدیل شدہ نہ ہو، چونکہ پیشین گوئیاں لوگوں پر ایک بہت بڑا اثر ڈالتی ہیں چنانچہ نوسٹر ڈومس اور اس کی کتاب کو نفسیاتی جنگ جیتنے کے لیے 1649ء سے استعمال کیا جاتا رہا ہے جب کارڈینال مازاران کا فرانس میں اثر ورسوخ کم کرنے کے لیے اس کے مخالفین نے نوسٹر ڈومس کی کتاب مین اس کے خلاف دو رباعیاں شامل کر کے شائع کروائی تھی..

نپولین کے دور میں بھی رباعیاں نقل کا شکار ہوئیں اور ان میں نقلی رباعیاں شامل کر کے ‘اولیفیرس کی پیشین گوئیاں’ کے نام سے شائع کی گئیں، اس کے بعد ‘اورفل کی پیشین گوئیاں’ منظر عام پر آئی، یہ دونوں نقلی کتابیں نا حق نوسٹر ڈومس سے منسوب کی گئیں.

صرف دوسری جنگِ عظیم میں نوسٹر ڈومس کی کتاب کے پانچ سے زائد ایڈیشن منظرِ عام پر آئے.. یعنی ان میں فریقین نے اپنے مفاد کو مدِ نظر رکھا اور باقی رباعیوں کو بالکل نظر انداز کردیا..

چنانچہ ہر تحقیق کار پرانے سے پرانا نسخہ تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کا موازنہ دیگر نسخوں سے کرتا ہے تاکہ یہ یقین کر لے کہ اس کے پاس واقعی نوسٹر ڈومس کی ‘پیشین گوئیاں’ کا اصل نسخہ ہے..

نوسٹر ڈومس کی تمام رباعیاں بھی مبہم نہیں ہیں، کچھ رباعیوں میں نام اور اشارے بہت واضح ہوتے ہیں جیسی کہ ‘ہٹلر’ والی رباعی یا ‘ہسلر’ یا ‘ہسٹر’ جیسا کہ مختلف زبانوں کے نسخوں میں آیا ہے.

جراثیم کی دریافت کرنے والے لوئس پیسٹر سے متعلق رباعی بھی ایسی ہی بہت واضح رباعیوں میں شامل ہے:

کئی صدیوں سے چھپے ہوئے گمشدہ کو دریافت کر لیتا ہے
خدا کی عظمت کی نشانی کے طور پر پیسٹر پر جشن منایا جائے گا
یہ تب ہو گا جب چاند اپنا بڑا چکر پورا کر لے گا
لیکن کچھ دوسری وجوہات کی بنا پر وہ بدنام ہوجائے گا

نوسٹر ڈومس سے تین صدیاں بعد آنے والے پیسٹر کا نام کتنی آسانی سے لے لیا گیا.. پیسٹر جراثیم دریافت کر کے اس وقت کا ایک طبی معجزہ بن گیا تھا، یہ شہرت اس کے ہم پیشاؤں کو گوارہ نہ ہوئی، انہوں نے اس کے اندازِ تحقیق کو تنقید کا نشانہ بنایا جو پیسٹر کے آخری دورِ زندگی میں اس کے لیے کافی بدنامی وپریشانی کا باعث بنا..

اگرچہ اس طرح کی بہت ساری رباعیوں کو بطورِ مثال پیش کیا جاسکتا ہے لیکن جنرل فرینکو اور سپین کے واقعات سے متعلق رباعی بھی کم حیران کن نہیں..

* * *

معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ پر گہرا اثر ڈالنے والے واقعات اور شخصیات پر نوسٹر ڈومس خصوصی توجہ دیتا ہے.. ‘پیشین گوئیاں’ میں ایسی کئی رباعیاں ہیں جو ہٹلر، نپولین، دوسری عالمی جنگ اور خلیج کی جنگ سمیت دیگر کئی اہم واقعات پر کافی روشنی ڈالتی ہیں..

بعض رباعیوں میں فلکی وقت کا تعین نہیں ملتا چنانچہ ان کا مطلب سمجھنا کافی مشکل ہوجاتا ہے جیسے:

مغربی یورپ کے سب سے گہرے حصہ سے
ایک غریب گھر میں ایک بچہ پیدا ہوگا
اس کی باتیں کئی قوموں کو اسیر کر لیں گی
مشرق کی شہنشاہیت میں اس کی عظمت اور زیادہ ہوگی

اس رباعی پر تحقیق کاروں نے بہت غور وغوض کیا جو دو تاریخی مرحلوں اور شخصیتوں پر فِٹ بیٹھتی ہیں اور جن کے درمیان پوری ایک صدی کا فرق ہے..

نپولین بوناپارٹ اور اڈولف ہٹلر..

دنوں حضرات کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا، جبکہ آسٹریا یورپ کی حدود کے حساب سے گہرا ہی سمجھا جائے گا، یہ کلیہ کورسیکا پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے جہاں نپولین پیدا ہوا..

دونوں حضرات فنِ خطابت کے ماہر اور مشرق میں مشہور تھے، مشرقی قوموں کو انگریزی اور فرانسیسی قبضہ سے نفرت تھی، وہ جرمنی کی نازی فوج کے ذریعے اس سے نجات چاہتے تھے..

بہرحال اس معاملے پر فریقین میں اب تک اختلاف پایا جاتا ہے..

لیکن جنرل فرینکو سے متعلق رباعی پر کسی کو اختلاف نہیں، کیونکہ یہ رباعی انتہائی واضح ہے:

فرینکو کیسٹل سے آئے گا
سفیر انکار اور تقسیم کا سبب بنیں گے
ریویرا کے حامی جمع ہوں گے
اور عظیم آدمی کو خلیج میں داخل ہونے سے محروم رکھا جائے گا

رباعی نے نہ صرف فرینکو کا نام لیا بلکہ جلا وطن ہونے کے بعد مغرب سے  اس کی واپسی کے بارے میں بھی بتایا، ساتھ ہی یہ بھی کہ اسے سمندر پار کر کے سپین نہیں جانے دیا جائے گا اور اقتدار میں آنے کے بعد اس کی پارٹی میں اختلاف پیدا ہوگا، یہی نہیں بلکہ رباعی نے اس کے دشمن ڈکٹیٹر پرموڈی ریویرا کا نام بھی بڑی صراحت سے لیا..

ایک ہی رباعی میں دو نام بڑی صراحت سے لیے گئے ہیں اور انہیں اس طرح سے جوڑا ہے جس سے اندازوں اور اتفاقات کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں..

یہاں ہم مستقبل کی پیشین گوئی سے شدت سے انکار کی طرف واپس آتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اسے رد کرنے کے لیے کوئی قوی سند نہیں ملتی، اس کے برعکس سورہ یوسف میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک قیدی اپنے اور اپنے رفیقِ کار کے مستقبل کے انجام کے بارے میں خواب دیکھتا ہے، اسی طرح فرعون بھی خشک سالی کے بارے میں پیشین گوئی کرتا نظر آتا ہے..

دونوں میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں تھا، لیکن اللہ تعالی نے انہیں مستقبل دکھایا اب چاہے وہ اسے بیان کرنے سے قاصر ہوں..

سائنس اس عقلی ودیعت پر یقین رکھتی ہے اور اسے Pre-Cognetion کا نام دیتی ہے، یعنی وہ دیکھنا جو ابھی وقوع پذیر نہ ہوا ہو.. اس پر بہت ساری تحقیق موجود ہے جو زیادہ تر سوویت یونین میں کی گئی تاکہ اس ودیعت اور واقع ہونے کے قوانین کو سمجھا جاسکے، اس کے علاوہ اس پر سینکڑوں کتابیں بھی موجود ہیں، دیگر صلاحیتوں کی طرح یہ صلاحیت بھی نوعِ انسانی میں کسی مذہب کی تفریق کے بغیر پائی جاسکتی ہے..

اکثر علمی تجربات میں سو فیصد نتائج حاصل کرنا کافی مشکل ہوتا ہے چنانچہ پچھتر فیصد نتیجہ عام طور پر درست تسلیم کیا جاتا ہے.. نوسٹر ڈومس کی پیشین گوئیوں کے محققین کے مطابق اس کی پیشین گوئیاں علمی حد سے اگر تجاوز نہیں کرتیں تو اس تک پہنچتی ضرور ہیں جس سے اتفاق کے تمام تر اندیشے ختم ہوجاتے ہیں کیونکہ اتفاقات ایک ہی سٹیج پر بار بار نہیں ہوتے..

تمام غیر طبعی مظاہر کی طرح نوسٹر ڈومس پر ایک فریق انتہائی حد تک یقین رکھتا ہے جبکہ دوسرا فریق اس کی شدید تر مخالف کرتا ہے، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اسے پانچ صدیوں تک فریقین کی توجہ حاصل رہی..

خاص طور سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا حادثہ جس نے بڑی شدت سے ایک بار پھر ساری دنیا کی توجہ نوسٹر ڈومس کی طرف مبذول کرا لی..

پیشین گوئیاں کے ستر کی دہائی کے ایک ایڈیشن میں تحقیق کار نے نوسٹر ڈومس کی مستقبل کی کچھ پیشین گوئیوں پر بحث کرتے ہوئے ان کی کوئی موزوں تفسیر تلاش کرنے کی کوشش کی جس میں “نیویارک” حملہ قابلِ ذکر ہے جس کے سبب تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا خطرہ ہے.. اسی طرح کچھ دیگر ایڈیشنز میں دیگر محققین نے بھی مستقبل کے ان واقعات کی کوئی توجیہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور اختلاف کے با وجود کم سے کم ایک بنیادی بات پر ضرور متفق نظر آتے ہیں کہ بات ہمیشہ نئے شہر “نیویارک” کے گرد ہی گھومتی ہے، تاہم اس کی توجیہ میں سب ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں.. کچھ کے مطابق یہ ایک قدرتی آفت ہے تو کچھ کے خیال میں یہ ایٹمی جنگ ہوگی جبکہ بعض تو مبالغہ آرائی کی حد تک جاتے ہوئے اسے خلائی جنگ قرار دیتے ہیں..!!

ذیل کی رباعی سب کی توجہ کا مرکز رہی ہے:

زمین کے مرکز میں آگ زمین کو ہلاتی ہے
نئے شہر کو زور دار جھٹکے لگتے ہیں
دو عظیم برج گرجاتے ہیں
پھر نئی نہر پر سرخ رنگ کا سایہ پڑتا ہے

بیس سال سے بھی کچھ پہلے محققین نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آخر نوسٹر ڈومس نے اس رباعی میں لفظ برج (Tower) کا استعمال کیوں کیا..!!

شاید اب ہم جانتے ہیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا جب اس نے کہا کہ دو عظیم برج گرجائیں گے..!!

شاید وہ گیارہ ستمبر 2001ء کو واقعی گر چکے ہیں..

لیکن اس حادثے سے متعلق صرف یہی ایک رباعی نہیں ہے..

نوسٹر ڈومس کی زنبیل میں اور بھی بہت کچھ چھپا ہوا ہے..

* * *

گیارہ ستبمر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے جہازوں کے ٹکرانے اور ان کے زمیں بوس ہوجانے کے بعد ساری دنیا کو نوسٹر ڈومس کی پیشین گوئیاں یاد آگئیں جس نے پانچ صدیاں پہلے اس واقعے کی پیشین گوئی کردی تھی.. اس زمانے میں بہت سے روزناموں اور ماہناموں میں نوسٹر ڈومس کی یہ رباعی شائع ہوئی تھی:

خوف کا عظیم بادشاہ نئے شہر میں اترتا ہے
آگ، دھواں، چیخیں، آنسو اور بربادی
قلعہ ساقط ہوجاتا ہے اور جڑوا گرجاتے ہیں
پھر ہر جگہ جنگ چھڑ جاتی ہے

بعض جرائد نے تو مبالغہ آرائی کی حد تک اس رباعی میں تاریخ اور سال بھی شامل کردیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ‘پیشین گوئیاں’ کے کسی بھی مصدقہ نسخے میں یہ رباعی کوئی وجود نہیں رکھتی.. صرف ایک رباعی ایسی ہے جو خوف کے بادشاہ کا ذکر کرتی ہے جو کچھ یوں ہے:

سال 1999 اور ساتویں مہینے میں
خوف کا بادشاہ آسمان سے آئے گا
اور پھر مغلوں کا عظیم بادشاہ زندگی کو لوٹ آئے گا
پھر وہ جنگ سے قبل اور اس کے بعد خوشی سے حکومت کرے گا

تو اگر ہم نوسٹر ڈومس کی بیان کردہ تاریخوں میں تاریخ کو کہسکانے کے قاعدے پر عمل کریں تو اس کا مطلب ہے کہ جو کچھ بھی اس نے کہا ہے وہ رباعی میں مذکورہ تاریخ سے دس سال پہلے یا بعد میں وقوع پذیر ہوسکتا ہے.. اور مغلوں کی طرف اشارہ ممکنہ طور پر چینیوں پر بیسویں یا اکیسویں صدی کے شروع میں جنگ چھیڑنے کی ذمہ داری ڈالتا نظر آتا ہے..

بہرحال نیویارک پر ٹوٹی قیامت پر کچھ اور رباعیاں بھی ہیں جو کچھ زیادہ روشنی ڈالتی ہیں:

سورج نکلنے کے بعد بہت بڑی آگ لگتی ہے
شور اور دھواں شمال کی طرف بڑھتا ہے
کرہ کی ہر جگہ پر موت اور چیخیں ہیں
جبکہ مزید اسلحہ، آگ اور بھوک ہے

ہر زمانے میں تمام محققین نے اس رباعی کو نیویارک میں ہونے والا کوئی حادثہ قرار دیا ہے اور اس کا وقت اکیسویں صدی کا ابتدائی زمانہ بتایا ہے..

ایک اور رباعی کہتی ہے:

چالیس اور پینتالیس درجہ پر آسمان جلتا ہے
نئے عظیم شہر میں آگ
بڑی لپٹیں براہ راست اوپر کی طرف اٹھتی ہیں
اور ہر کوئی نورمندیوں سے ثبوت کی تلاش میں ہے

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نقشوں پر نیویارک خطِ عرض 40 اور 45 کے درمیان واقع ہے، جبکہ آگ کی لپٹیں اوپر کی طرف ہی اٹھ رہی تھیں اور پھر ٹاورز کے گرنے کے بعد امریکی اسامہ پر الزام لگانے کے لیے ثبوت تلاش کرنے میں سرگرداں ہوگئے.. حیرت کی بات یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کو مجرم ثابت کرنے کے لیے بھی نوسٹر ڈومس کی دو رباعیوں کا سہارا لیا گیا:

دبلا آدمی نو سال تک حکم برقرار رکھتا ہے
پھر خطرناک خونی بھوک میں مبتلا ہوجاتا ہے
ایک عظیم قوم اس کے لیے مرجاتی ہے بغیر ایمان اور قانون کے
پھر وہ اپنے سے اچھے آدمی کے ہاتھوں مارا جاتا ہے

امریکی نقطہ نظر کے مطابق دبلا آدمی دراصل اسامہ بن لادن ہے جبکہ جو قوم بغیر سوچے سمجھے اس کے لیے مرجائے گی وہ امتِ اسلامیہ ہے جبکہ جو اچھا آدمی ہے وہ یقیناً امریکی صدر ہے..!!

کیا آپ کو رباعی کی یہ تفسیر پسند آئی..!؟

دوسری رباعی امریکیوں کے مطابق دہشت گردی کے خلاف ان کی طویل زمینی اور سخت فضائی جنگ، اور اسامہ کی فوج کی ڈھٹائی سے متعلق ہے:

داڑھی والے شیخ کی سخت قیادت کے سائے میں
سخت سزا کی بنیادیں رکھی جائیں گی
عظیم شخص بہت دور تک کوشش کرتا ہے
آسمان میں اسلحہ کا شور اور سرخ لیغوری سمندر

آسمان میں اسلحہ کا شور قابلِ غور بات ہے کہ نوسٹر ڈومس ہمیشہ اسی طرح فضائی جنگ کا ذکر کرتا نظر آتا ہے..

امریکی ان دونوں رباعیوں پر سختی سے یقین رکھتے ہیں شاید اس لیے کہ دونوں رباعیوں کے مطابق آخر میں جیت انہی کی ہوگی لیکن ایک اور رباعی ان کے لیے سخت پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے:

دنیا کا باغ نئے شہر کے پاس
کھوکلے پھاڑوں کے راستے میں
اس پر قبضہ کر لیا جائے گا
شہر سلفیٹ (sulfate) کا زہریلا پانی پینے پر مجبور ہوگا

رباعی میں ممکنہ طور پر نیویارک کے پانی میں زہر ملاکر لوگوں کو ہلاک کرنے کا ذکر ہے جو کیمیائی یا حیاتیاتی جنگ کی طرف اشارہ ہے جس سے امریکہ میں ہر مخلوق خوف زدہ ہے خاص طور سے جبکہ اینتھرکس کے واقعات پہلے ہی ہوچکے ہیں..

بہرحال یہ ضروری نہیں ہے کہ نوسٹر ڈومس نے جو کچھ کہا ہے وہ ہو بھی جائے، جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ پیشین گوئیوں کی درستگی کبھی بھی سو فیصد تک نہیں پہنچ سکتی.. صرف ستر سے اسی فیصد کے امکانات کافی ہیں جس پر نوسٹر ڈومس اکثر پورا اترتا نظر آتا ہے..

اس کی جوانی کے دنوں میں ایک صاحب نے جسے اس کی صلاحیتوں پر شک تھا اس کا امتحان لینے کے لیے اسے اپنے گھر مدعو کیا اور اسے دو خنزیر دکھائے، ایک سفید اور ایک سیاہ اور اس سے پوچھا کہ وہ رات کے کھانے میں کون سا پسند کرے گا، مچل نے اس سے کہا کہ انہیں کالا خنزیر کھانا پڑے گا کیونکہ سفید والے کو بھیڑیا کہا جائے گا..

چنانچہ میزبان نے سفید خنزیر کو ذبح کرکے کھانے پر پیش کرنے کے لیے کہا اور تمام دروازے بند کروا دیے تاکہ کوئی بھیڑیا اندر نہ آسکے..

لیکن بدقسمتی سے پہلے سے ہی اندر چھپا ایک بھیڑیا سفید خنزیر کو پکانے سے پہلے ہی لے اڑا چنانچہ باورچی کے پاس کالے خنزیر کو پکا کر پیش کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ رہا..

یہ نوسٹر ڈومس کی جیت تھی جس نے کبھی لوگوں کی حیرت اور اپنی شہرت کی پرواہ نہیں گی.. اس کی آخری پیشین گوئی خود اس کے اپنے متعلق تھی، وہ نقرس (Gout) کا شکار ہوگیا تھا اور بسترِ علالت پر پڑگیا تھا، ایک دن جب اس کا طبیب اسے چیک کر رہا تھا نوسٹر ڈومس نے ایک پھیکی سی مسکراہٹ میں اپنے طبیب کو بتایا کہ وہ اسے آخری بار دیکھ رہا ہے اور اس کی (طبیب کی) نظر اس پر پھر کبھی نہیں پڑے گی، تاہم طبیب نے اسے تسلی دی کہ وہ ٹھیک ہوجائے گا پھر مسکراتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی صورت میں وہ کم سے کم اسے مردہ حالت میں تو ضرور دیکھے گا..

لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا..

یکم جولائی 1566ء میں نوسٹر ڈومس خاموشی سے اس جہانِ فانی سے کوچ کرگیا، اسی رات اس کے طبیب کے پیر میں موچ آگئی چنانچہ وہ نوسٹر ڈومس کو ایک نظر بھی دیکھنے سے محروم رہا حتی کہ اسے دفن کردیا گیا..

نوسٹر ڈومس تو چلا گیا لیکن ایک ایسی کتاب چھوڑ گیا جو صدی در صدی لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈالے ہوئے ہے اور خود اسے ایک منفرد شخصیت بناتی ہے..

ایک ایسا شخص جس نے کل کو دیکھا تھا..

عقل سے

بشکریہ اردو کوڈر

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Back to top button