تاریخمنظر نامہ

مسلم سائنسدان

مسلم سائنسدان

مسلم سائنسدان (بترتیب زمانی)
مخففات: ت – تقریباً (Circa)۔ ء – عیسوی الحمیاری
Himyari 7ویں / 8ویں صدی عرصہ حیات زیرتحقیق، حیان سے پہلے ہونے کا امکان غالب ہے۔ انکا شمار کیمیاء دان جابربن حیان کے معلمین میں کیا جاتا ہے۔
ابراھیم الفزاری
Ibrahim-Fazari 8ویں صدی تا 777ء خلافت عباسیہ کے دور میں خلیفہ ہارون الرشید کے تحقیقاتی اداروں سے وابستگی رہی۔ علم فلکیات پر تحقیق و تحریر کیں جن میں اسطرلاب اور سالنامہ کی ترتیب بھی شامل ہیں۔ ہارون الرشید کے کہنے پر یعقوب بن طارق کی شراکت میں ہندوستانی فلکیاتی تحریروں کا عربی میں ترجمہ کیا، یہ کتاب 750ء میں بیت الحکمہ بغداد میں الزیج علی سنی العرب کے نام سے تکمیل کو پہنچی[1]۔ انکے بیٹے کا نام بھی مماثلت کے ساتھ محمد الفزاری تھا، جو خود بھی اپنی جگہ ایک فلکیات داں تھے۔ ابراھیم الفزاری کا انتقال 777ء میں ہوا۔
جابر بن حیان
Geber 721ء ت تا 815ء ت کیمیاءدان (باباۓ کیمیاء کا لقب دیا گیا [2])؛ طبیعیات میں کام؛ علم الادویہ میں تحقیق؛ علم الہیت میں تحقیق (چاند پر موجود حفرہ کی منسوبیت ، حفرۂ جابر / Geber crater کہا جاتا ہے [3])۔ امام جعفر الصادق علیہ السلام اور الحمیاری جیسے معلمین سے استفادہ اور علم حاصل کیا۔ معلومہ کتب؛ کتاب الکیمیاء، کتاب الزہرہ۔
محمد الفزاری
Al-Fazari پیدائش؟ تا
796ء (806ء)؟ ت مسلم ریاضی دان، فلکیات دان اور فلسفی۔ ان کے والد کا نام ابراھیم الفزاری تھا جو خود بھی ایک سائنسدان تھے۔ یعقوب بن طارق کے ساتھ مل کر براہماگپتا کے ہندوستانی فلکیاتی کام بنام سندھانتا (brahmasphutasiddhanta) کا عربی ترجمہ کیا۔
یعقوب بن طارق
Yazub ibn Tariq پیدائش؟ تا 796ء ت مسلم ریاضی دان، فلکیات دان اور فلسفی۔ محمد الفزاری کے ساتھ سنسکرت کے فلکیاتی کام کو عربی میں ترجمہ کیا۔ سندھانتا سے ماخوذ اور اضافوں کے ساتھ کتاب بنام الزیج المحلول من السندھند لدرجات الدراجہ تحریر کی۔
اِبن‌ِ ترک
Ibn Turk 830ء ت ریاضیات میں تحقیق۔ الجبرا پر کام کیا جس کا آج چکوری مساواتوں (quadratic equations) سے متعلق صرف ایک باب دستیاب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا کام الخوارزمی کے کام سے بہت مماثل تھا اور اس کی اشاعت کا زمانہ بھی الخوارزمی کی کتاب الكتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ کی اشاعت کا عہد ہی بیان کیا جاتا ہے۔
الاصمعی
Al-Asmai 739ء تا 831ء حیوانیات و نباتیات پر تحقیق و تحریر۔ معلومہ کتب؛ کتاب الخلیل ، کتاب خلق الانسان (جو انسانی تشریح سے متعلق ہے)۔عباسی خلیفہ مامون الرشید کے استاذ اور بہت بڑے عالم دین ، عربی لغت میں درجہ امامت پر فائز ہیں ۔
الخوارزمی
Algorismi, Algorizm 780ء ت تا 850ء ت ریاضی، فلکیات، علم النجوم اور جغرافیہ کے شعبہ جات میں تحقیق و تحاریر۔ باباۓ الجبرا کا لقب حاصل (یا شراکت) ہے [4] ۔ معلومہ کتب؛ کتاب الجبر و المقابلہ، کتاب الجمع و التفریق بی حساب الہند[5] ، کتاب صورۃ الارض۔
الجاحظ
AlJahiz 776ء ت تا 868ء ت تاریخ، الہایات، حیوانیات اور فلسفہ میں تحقیق و تحاریر۔ دیگر تاریخی دستاویزات سے انکی قریباً دو سو کتب کا اندازہ لگایا گیا ہے جن میں سے تیس کے قریب ہی دستیاب ہو سکی ہیں۔ ان میں کتاب الحیوان، کتاب البخلاء، كتاب البیان والتبیین وغیرہ شامل ہیں۔
الکندی
Alkindus 801ء ت تا 873ء ت ریاضی دان، فلسفی، طبیعیات دان اور موسیقی سے لگاؤ(علاج بالموسیقی یعنی music therapy میں تجربات [6])۔ خلافت عباسیہ کے بغداد میں بیت الحکمہ کی ایک اھم ترین شخصیت۔ باباۓ Cryptanalysis یا صفری تجزیہ کا اعزاز حاصل [7]۔ اطباء کیلیۓ ادویات کی طاقت ناپنے کا صیغہ (فارمولا) تشکیل دیا [8]۔ چند معلومہ کتب: کتاب فی الاستعمال الاعداد الہند ، On Deciphering Cryptographic Messages یعنی ، تخطیط صفری پیغامات کی کشف صفری [9] ابن فرناس
Ibn Firnas 810ء ت تا 887ء ت طبیعیات اور علم الہیت میں تحقیق و تجربات۔ ساعت الماء (آبی گھڑی) کی تخلیق۔ انہوں نے Wright Brothers سے 1000 ہزار سال قبل 875ء اپنا glider تخلیق کر کہ پہلی انسانی پرواز کا تجربہ کیا [10] ۔ اس سے قبل 852ء میں مسلم اسپین ہی کے آرمین فرمان نے اسی قسم کا تجربہ کیا تھا اور وہ ہوائی چھتری کے زریعے کیا گیا تھا، اسی وجہ سے Philip Hitti کے مطابق ؛ ابن فرناس تاریخ میں پہلے شخص تھے جنہوں نے سائنسی طریقے سے پرواز کی کوشش کی [11] علی ابن ربان الطبری
Altabari 838ء ت تا 870ء ت طب میں تحقیق و تحریر۔ انہوں نے دنیا کا سب سے پہلا طبی دائرہ المعارف مرتب کیا۔ مشہور مسلم سائنسدان الرازی کے معلم بھی تھے۔ معلومہ کتب؛ فردوس الحکمہ ، تحفات الملوک ، حفظ الصحت وغیرہ
جابر بن سنان البتانی
Albategnius 850ء ت تا 923ء ت انکے نام میں الصابی شامل ہونے کیوجہ سے غیر مسلم ثابت کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں لیکن اگر نام ہی کی بات کی جاۓ تو انکا مکمل نام تو ، ابو عبد اللہ محمد بن جابر بن سنان الحرانی الصابی البتانی ہے۔ ریاضی اور بالخصوص مثلثیات (trigonometry) میں اھم تحقیقات۔ شمسی سال کے 365 دن ، 5 گھنٹے 46 دقیقے اور 24 ثانیے ہونے کا تخمینہ لگایا۔ معلومہ کتب؛ کتاب الزیج۔
الفرغانی
Alfraganus 860ء ت اجرام فلکی کی حرکات پر تحقیق و تحریر۔ المامون کی زیرسرپرستی (813ء تا 833ء) بغداد میں ہونے والے زمین کے قطر کی پیمائش کے منصوبے میں شامل رہے۔ بغداد سے مصر واپس آکر 856ء میں اسطرلاب پر ایک تحقیقی شرح لکھی۔ 861ء کے دوران بناۓ گئے نیل پیما کی اپنی زیرنگرانی تعمیر کروائی۔ چاند پر موجود حفرہ الفرغانی (Alfraganus crater) انہی کے نام سے منسوب ہے [12] ابوبکرالرازی
Rhazes 864ء تا 925ء طب ، فلسفہ و کیمیاء میں تحقیق و تحریر۔ کیمیائی مرکب الکحل کی دریافت کا سہرا ان کے سر ہے۔ جبکہ بعض زرائع تیزاب كِبرِيت (sulfuric acid) کی دریافت بھی انہی سے منسوب کرتے ہیں اور دیگر ایسے تاریخی شواہد بھی پیش کیۓ جاتے ہیں جنکی رو سے اس تیزاب کی دریافت کا سہرا جابر بن حیان کے سر جاتا ہے۔
الفارابی
Pharabius 870ء تا 950ء علم ریاضی ، طب ، فلسفہ اور موسیقی میں تحقیق و تحاریر۔ منطق (logic) کی علمی گروہ بندی کی۔ انکو ارسطو کے بعد دوسرا بڑا فلسفی بھی کہا جاتا ہے۔ علم طبیعیات میں وجود خلاء پر اہم تحقیقات۔ [13] المسعودی
Almasudi 896ء تا 956ء پہلی بار وسیع پیمانے پر تاریخ اور جغرافیہ کو پیوست کرتے ہوۓ کتب تحریر کیں۔ دنیا بھر میں اپنے سفر سے اخذ کردہ تجربات کی بنا پر تخطیط التاریخ (histography)، جغرافیہ اور زمینیات (earth sciences) جیسے موضوعات کا احاطہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس عالم کا تعلق معتزلہ گروہ سے تھا۔
احمد بن وحشیہ
Ibn-Wahshiyah 9ویں صدی کیمیاء دان، زراعت دان اور ماہر مصریات و مورخ۔ یورپ میں ہونے والے عربی سائنس کے ابتدائی تراجم میں ان کا نام احمد بن ابوبکر بن وحشیہ بھی آتا ہے۔ عربی کتب و مقالات کی مشہور فہرست تیار کرنے والے ابن الندیم کی کتاب بنام کتاب الفہرست میں ابن وحشیہ کی متعدد کتب و مقالات کے نام پائے جاتے ہیں۔
عبدالرحمن الصوفی
Azophi 903ء تا 986ء فلکیات اور ریاضیات کی بے شمار کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا۔ کواکب اور نجوم کی درجہ بندی کی جو کسی نہ کسی حد تک آج بھی رائج ہے۔ اصطرلاب کے ایک ہزار استعمالات پر کتابچہ تحریر کیا۔ مشہور کتابوں میں كتاب الكواكب الثابتة (964ء میں شائع ہوئی اور اس کے متعدد نسخے آج بھی موجود ہیں۔ انگریزی میں یہ Book of Fixed Stars کے نام سے مشہور ہے)، صور الكواكب الثمانية والأربعين (اس میں کواکب و نجوم کی درست ترین تصویر کشی کی گئی ہے۔) اور أرجوزة في الكواكب الثابتة شامل ہیں۔
ابوالقاسم الزھراوی
Albucasis 936ء تا 1013ء
البوزجانی
Buzjani 940ء تا 998ء
ابن الہیثم
Alhazen 965ء تا 1040ء
الماوردی
Alboacen 972ء تا 1058ء
البیرونی
Biruni 973ء تا 1048ء
ابن سینا
Avicenna 981ء تا 1037ء
الجزار
Al-Jazzar 10ویں صدی
الناصبی
Ibn Hawkal 10ویں صدی (920ء ؟)
الزرقالی
Arzachel 1028ء تا 1087ء
محمد الازدی
Al-Thahabi 10ویں صدی
عمر خیام
Omar Khayyám 1048ء تا 1131ء علم نجوم اور ریاضی کے ماہر تھے۔ ایرانی کیلنڈر ان کی محنت کا نتیجہ تھا۔
غزالی
Algazel 1058ء تا 1111ء
عبدالرحمن الخزینی
Al-Khazini گیارہویں تا بارہویں صدی مرو (Merv) کے تاریخی شہر سے سب سے نمایاں سائنسدان۔ ریاضیات و فلکیات میں نمایاں کارکردگی ، اھم کتابوں میں سے چند کے نام کتاب میزان الحکمہ اور کتاب فی آلات درج کیۓ جاسکتے ہیں۔
ابن زھر
Avenzoar 1091ء تا 1161ء
الادریسی
Dreses 1100ء تا 1165ء
طفیل القیسی
Abubacer 1105ء تا 1185ء
ابن باجہ
Avempace 1106ء تا 1138ء
الجزاری
Al-Jazari 1136ء تا 1111ء
ابن جبیر
Jubayr 1145ء تا 1206ء
عبدالطیف
Abdallatif 1162ء تا 1231ء
محمد الفارسی
Al-Farisi 1320ء تا 1260ء
نصیرالدین طوسی
Tusi 1201ء تا 1274ء
ابن ابی اصیبعہ
Usaibia 1203ء تا 1270ء
ابن النفیس
Nafis 1213ء تا 1288ء
المغربی
Magribi 1220ء تا 1283ء
ابو الفدا
Abulfeda 1273ء تا 1331ء
ابن خلدون
Khaldun 1332ء تا 1406ء
الغ بیگ
Ulugbek 1393ء تا 1449ء
ابوالحسن
Kalasadi 1412ء تا 1486ء
احمد بن ماجد
Majid 1430ء تا ؟
سلیم الزماں صدیقی 1897ء تا 1994ء جامعہ کراچى کے مرکزِ فضيلت براۓ اطلاقى کيميا کے سربراہ تھے۔
اختر حمید خان 1914ء تا 1999ء ایک پاکستانی ترقی پسند کارکن اور سائنسدان تھے، جنہیں ترقی پذیر ممالک میں چھوٹے قرضوں، چھوٹی مالیاتی امدادی پروگراموں، کسان کے تعاون کے فروغ اور دیہاتی ترقی کے پروگراموں کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔
عبد الکلام 1931ء تا حال بھارت کے ايٹمى پروگرام کے خالق ہيں۔ بعد ازاں بھارت کے صدر بھى رہے۔
عبد القدیر 1936ء تا حال آپ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ہیں
ابومحامد امام محمد بن محمد الغزالی آپ نے تصوف کے موضوع پر بہت سی کتابیں لکھیں آپ کی سب سے مشہور کتاب احیاالعلوم ہے جس میں آپ نے خدا کی معرفت حاصل کرنے کے زرائع اور وسائل پر سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے مکاشفتہ القلوب، لباب الاحیا، کیمیائے سعادت اور تنبیہ الغافلین آپ کی مشہور زمانہ کتب میں شامل ہیں۔ (طالب دعا : محمد شاہ رخ قادری، کراچی)
حوالہ جات
1. ^ E. S. Kennedy, A Survey of Islamic Astronomical Tables, (Transactions of the American Philosophical Society, New Series, 46, 2), Philadelphia, 1956, pp. 2, 7, 12 (zijes no. 2, 28, 71).
2. ^ باباۓ کیمیاء کے لقب سے متعلق حوالہ
3. ^ انگریزی ویکیپیڈیا پر حفرۂ جابر کے بارے میں مقالہ
4. ^ امریکی ریاضیاتی ماہنامہ پر Gandz کی تحریر 1926
5. ^ Ruska 1917
6. ^ مسلم موسیقی کے مغرب پر اثرات ، (ایک پی ڈی ایف ملف)
7. ^ Simon Singh. The Code Book. p. 14-20
8. ^ Klein-Franke, p172
9. ^ Cryptanalysis پر اب تک دریافت ہونے والے نسخوں میں سے قدیم ترین نسخے کا عکس
10. ^ مسلم اسپین کے بارے میں Professor John H. Lienhard کی تحریر
11. ^ کتاب تاریخ عرب ؛ Philip Hitti
12. ^ انگریزی ویکیپیڈیا پر حفرہ الفرغانی کی تفصیل
13. ^ اسٹینفورڈ دائرہ المعارف پر خلاء (void) کے بارے میں ایک حوالہ
14. وکیپیڈیا

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button