Ultimate magazine theme for WordPress.

دوران حمل مونگ پھلی سے پرہیز

43

دوران حمل مونگ پھلی سے پرہیز

peanut-shell

نئی تحقیق سے پتہ چلا کہ ایسے بچے جن کی مائیں دوران حمل بہت زیادہ مونگ پھلیاں کھاتی ہیں اُن کے اندر اُن بچوں کے مقابلے میں مونگ پھلی کی الرجی کے امکانات تین گنا ہوتے ہیں جن کی مائیں حمل کے دوران مونگ پھلی نہیں کھاتیں۔

گزشتہ دہائی کے دوران حاملہ خواتین کو دوران حمل مونگ پھلی کے استعمال کے سلسلے میں مختلف ہدایات دی جاتی رہی ہیں۔ امراض اطفال کی امریکی اکیڈمی نےسن 2000 میں حاملہ خواتین کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ حمل کے دوران مونگ پھلی کے استعمال سے پرہیز کریں۔ مزید یہ کہ اگر والدین یا بھائی بہنوں میں سے کسی ایک کو بھی کوئی الرجی ہوتو ماؤں کو چاہیے کہ وہ نوزائیدہ بچے کو اپنا دودھ نہ پلائے۔ تاہم 2008 میں یہ ہدایات واپس لے لی گئی تھیں۔

دوران زچگی مختلف معائنہ کرواتے رہنا ماں اور بچے دونوں کے لئے ناگزیر ہوتا ہے

دوران حمل بہت زیادہ مونگ پھلیاں کھانے والی خواتین کے اندر اس کے خلاف الرجی پیدا ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوجاتے ہیں۔ اس بارے میں جرنل آف الرجی اینڈ کلینیکل ایمیونولوجی میں چھپنے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے، تاہم اس رپورٹ سے اب تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ آیا نومولود بچوں میں سنگین اور اکثر مہلک الرجی کا اس سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق نو زائیدہ بچوں میں مہلک الرجیز کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی شرح ایک فیصد ہے۔ تاہم انہیں ایسے شواہد نہیں ملے ہیں کہ دوران زچگی مونگ پھلی کھانے والی ماؤں کے اندر پیدا ہونےوالی یہ مخصوص الرجی اُن کے بچوں تک منتقل ہوتی ہے۔

نیو یارک شہر میں قائم ماؤنٹ صنعائی اسکول آف میڈیسین کے معروف طبی ماہر ’اسکوٹ زشرر‘ اور اُن کے ساتھیوں پر مشتمل ایک ٹیم نے امریکہ کے پانچ مختلف علاقوں میں تین سے پندرہ ماہ کی عمر کے 500  ایسے بچوں کا طبی معائنہ کیا جن کے اندر دودھ اور انڈے کی الرجی کے امکانات تھے تاہم ماہرین کو ان بچوں میں مونگ پھلی کی الرجی کی علامات دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔

ماں کے اندر پائے جانے والے وائرس کی بچے تک منتقلی ماں کے دودھ کے ذریعے ممکن ہوتی ہےBildunterschrift: ماں کے اندر پائے جانے والے وائرس کی بچے تک منتقلی ماں کے دودھ کے ذریعے ممکن ہوتی ہے

اس نئی تحقیقی رپورٹ سے پتہ چلا کہ ایسے بچے جن کی مائیں دوران حمل بہت زیادہ مونگ پھلیاں کھاتی ہیں اُن کے اندر اُن بچوں کے مقابلے میں مونگ پھلی کی الرجی کے امکانات تین گنا ہوتے ہیں جن کی مائیں زچگی کے دوران مونگ پھلی نہیں کھا تی ہیں۔

دلچسپ امر یہ کہ ماہرین کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ماں سے بچے میں منتقل ہونے والی مونگ پھلی کی الرجی کا تعلق بچوں کو اپنا دودھ پلانے والی ماؤں سے ثابت نہیں ہوا ہے۔

یعنی تحقیق سے یہ ظاہر نہیں ہوا ہے کہ ماں کے دودھ کے ذریعے مونگ پھلی کی الرجی ماں سے بچے تک ہوتی ہے۔ ماہرین نے تاہم نو زائیدہ بچوں کا مکمل الرجی ٹیسٹ نہیں کیا ہے بلکہ محض وہ بلڈ ٹیسٹ کیا ہے جس سے مونگ پھلی کی الرجی کے ہونے یا نہ ہونے کا پتہ چل سکے۔

خواتین کو کوسمیٹکس اور مصنوعی زیورات سے بھی الرجی ہو سکتی ہے

ماؤنٹ صنعائی اسکول آف میڈیسین کے طبی ماہر ’اسکوٹ زشرر‘ اور ان کی ٹیم کے دیگر محققین کا کہنا ہے کہ نو زائیدہ بچوں میں مونگ پھلی کی الرجی کی اصل وجوہات اور اس کے اثرات ہنوز غیر واضح ہیں۔ اس وجہ سے بہت سی حاملہ خواتین ابہام کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر’اسکوٹ زشرر‘ کے مطابق اُن کے پاس ایسی مائیں بھی آتی ہیں جو زچگی کے دوران بہت زیادہ مونگ پھلیوں کا استعمال کرتی ہیں اور ایسی بھی جو دوران حمل اس عمل سے پرہیز کرتی ہیں تاکہ اُن کے بچے کو اس کی الرجی نہ ہو۔ تاہم دونوں طرح کی ماؤں کے ہاں ایسے بچے جنم لے رہے ہیں جن میں یہ خاص الرجی پائی جاتی ہے۔ ’اسکوٹ زشرر‘ کا کہنا ہے کہ ایسا کیوں ہے اس کا جواب تلاش کرنے میں اُن کے ساتھی مصروف ہیں۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو ڈی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.